اسٹیٹ بینک شرح سود آج: 12 فیصد تک اضافے کی توقع، آپ کے قرض اور بچت پر کیا اثر ہوگا
اسٹیٹ بینک آج 26 اکتوبر کو شرح سود کا فیصلہ کرے گا۔ تیل سے بڑھتی مہنگائی کے باعث ماہرین 11.5 سے 12 فیصد اضافے کی توقع کر رہے ہیں۔ اثر کس پر ہوگا؟

اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی مانیٹری پالیسی کمیٹی کا اجلاس آج پیر 26 اکتوبر کو ہو رہا ہے، اور اپریل کے بعد پہلی بار زیادہ تر ماہرین شرح سود بڑھنے کی توقع کر رہے ہیں۔ پالیسی ریٹ لگاتار تین اجلاسوں سے 11.5 فیصد پر ہے، اور عام اندازہ آدھا فیصد اضافہ کر کے 12 فیصد کرنے کا ہے۔
یہ پچھلے مہینے سے بالکل الٹ ماحول ہے۔ نُکتہ کے مطابق 14 ستمبر کے اجلاس سے پہلے ٹاپ لائن سیکیورٹیز کے سروے میں 84 فیصد شرکا کو کوئی تبدیلی متوقع نہیں تھی۔ تازہ سروے میں 61 فیصد اضافے کی توقع کر رہے ہیں: 54 فیصد آدھے فیصد اور 7 فیصد پورے ایک فیصد کی۔ باقی 39 فیصد اب بھی شرح برقرار رہنے کے حق میں ہیں۔
اضافے کی بات کیوں ہو رہی ہے
مختصر جواب: مہنگائی اور تیل۔ ستمبر میں مہنگائی 10.3 فیصد رہی جو اسٹیٹ بینک کے 5 سے 7 فیصد کے ہدف سے کہیں زیادہ ہے، اور ڈان کے مطابق رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں اوسط مہنگائی 10.2 فیصد رہی جبکہ پچھلے سال اسی عرصے میں 4.3 فیصد تھی۔ مشرقِ وسطیٰ کے تنازع کی وجہ سے تیل کی درآمد مہنگی ہونا اس کی بڑی وجہ ہے، اور ڈان سے بات کرنے والے ماہرین کو خدشہ ہے کہ ایران پر ممکنہ امریکی حملے قیمتیں مزید بڑھا سکتے ہیں۔
ٹاپ لائن، آپٹیمس کیپیٹل اور فاؤنڈیشن سیکیورٹیز تینوں 12 فیصد کی پیش گوئی کر رہے ہیں۔ فاؤنڈیشن سیکیورٹیز کے اندازے کے مطابق اس سے حقیقی شرح سود، یعنی پالیسی ریٹ اور مہنگائی کا فرق، تقریباً 2.5 فیصد ہو جائے گا۔ مارکیٹ پہلے ہی کچھ حد تک یہ مان چکی ہے: نُکتہ کے مطابق چھ ماہ کے ٹریژری بلز کا منافع 12.24 فیصد ہے۔
سب اضافہ نہیں چاہتے
سینئر بینکر راشد مسعود عالم نے ڈان سے کہا کہ وہ آدھے فیصد اضافے کی توقع رکھتے ہیں مگر ان کے خیال میں مہنگائی قابو کرنے کے لیے مارکیٹ کو ایک فیصد اضافہ چاہیے۔ ٹریس مارک کے سی ای او فیصل مامسا نے آدھے فیصد کو مناسب درمیانی راستہ کہا۔ صنعت کار دوسری طرف ہیں: پاکستان کیمیکلز اینڈ ڈائز مرچنٹس ایسوسی ایشن کے چیئرمین سلیم مکاتی شرح میں کمی چاہتے ہیں، جبکہ کراچی کی کورنگی اور سائٹ کی صنعتی تنظیمیں شرح سود کو سنگل ڈیجٹ میں لانے کا مطالبہ کر رہی ہیں۔
اضافے کا آپ پر کیا اثر ہوگا
- گاڑی اور گھر کا قرض: پاکستان میں بینکوں کے زیادہ تر کار اور ہوم لون کائیبور سے جڑے ہوتے ہیں جو پالیسی ریٹ کے ساتھ چلتا ہے۔ اضافے کا مطلب ہے کہ ریٹ ری سیٹ ہونے پر قسط کچھ بڑھ جائے گی۔
- کریڈٹ کارڈ اور پرسنل لون: یہ بھی مہنگے ہو سکتے ہیں۔
- بچت: بینکوں کے سیونگ اکاؤنٹس اور قومی بچت کی نئی اسکیموں کا منافع عموماً پالیسی ریٹ کے ساتھ بڑھتا ہے، یعنی بچت کرنے والوں کو تھوڑا فائدہ ہوتا ہے۔
- قیمتیں: مقصد خرچ کم کرنا اور روپے کو سہارا دینا ہے۔ اس سے قیمتیں فوراً کم نہیں ہوتیں، اور اگر پیٹرول مہنگا ہوتا رہا تو مہنگائی کئی ماہ تک زیادہ رہ سکتی ہے۔
- روزگار اور کاروبار: مہنگا قرض فیکٹریوں اور چھوٹے کاروبار کو سست کرتا ہے۔ آپٹیمس نے خبردار کیا ہے کہ خطرات بڑھے تو شرح نمو 4 فیصد ہدف کے بجائے تقریباً 3.6 فیصد رہ سکتی ہے۔
ہماری رائے
آدھے فیصد کا اضافہ محتاط قدم ہوگا، ہنگامی نہیں۔ اسٹیٹ بینک نے 2024 اور 2025 میں شرح سود تیزی سے کم کی اور پھر اپریل میں اسے پلٹنا پڑا؛ دس فیصد سے اوپر مہنگائی کے ساتھ وہ دوبارہ پیچھے رہ جانے کا تاثر نہیں دینا چاہے گا۔ اگر اسے لگے کہ تیل کی تیزی عارضی ہے تو شرح برقرار رکھنا بھی ممکن ہے۔ دونوں صورتوں میں بیان میں تیل اور آئی ایم ایف پروگرام کے بارے میں لہجہ دیکھیں: اسی سے پتا چلے گا کہ دسمبر میں ایک اور اضافہ آئے گا یا نہیں۔
فیصلہ آج کمیٹی کے اجلاس کے بعد متوقع ہے۔
ذرائع
یہ خبر اے آئی کی مدد سے تحقیق اور تحریر کی گئی، پھر شائع کرنے سے پہلے ہمارے ایڈیٹر نے اس کی جانچ اور تدوین کی۔



