پی ایم یوتھ کروم بک اسکیم 2026: 5 لاکھ مفت کروم بکس کس کو ملیں گی؟

سرکاری اسکولوں اور رجسٹرڈ مدارس کے نویں جماعت کے وہ طلبہ جن کے 50 فیصد سے زیادہ نمبر ہیں، دو سال میں 5 لاکھ کروم بکس کے حقدار ہوں گے۔

Prime Minister Shehbaz Sharif launches the PM Youth Chromebook Scheme on a laptop in Islamabad, with officials applauding
تصویر: PM Office via Geo News

وزیرِاعظم شہباز شریف نے اتوار 25 اکتوبر کو اسلام آباد میں پی ایم یوتھ کروم بک اسکیم کا آغاز کیا، جس کے تحت اگلے دو برسوں میں طلبہ کو 5 لاکھ کروم بکس دی جائیں گی۔ پہلی باری سرکاری اسکولوں اور رجسٹرڈ مدارس کے نویں جماعت کے ان طلبہ کی ہے جن کے ایس ایس سی ون میں اچھے نمبر آئے، اور انتخاب درخواستوں کے بجائے نتائج کی بنیاد پر ہوگا۔

جیو نیوز کے مطابق تقریب میں وزیرِاعظم نے نویں جماعت کے نمایاں طلبہ اور مدارس کے طلبہ کو لیپ ٹاپ اور انٹرنیٹ ڈیوائسز دیں۔ ڈان کے مطابق انہوں نے کہا کہ یہ آلات صرف اور صرف قابلیت کی بنیاد پر دیے جائیں گے۔

کروم بک اسکیم کا اہل کون ہے؟

دی نیوز اور جیو نیوز نے حکام کے حوالے سے بتایا کہ اسکیم میں یہ طلبہ شامل ہیں:

  • سرکاری اسکولوں کے طلبہ،
  • صوبائی ایجوکیشن فاؤنڈیشنز کے فنڈ سے چلنے والے نجی اسکولوں کے طلبہ،
  • رجسٹرڈ دینی مدارس کے طلبہ۔

میرٹ کا اصول سیدھا ہے: طلبہ کو ان کے تازہ ترین ایس ایس سی ون (نویں جماعت) کے نتیجے پر ترتیب دیا جائے گا، جس کی تصدیق انٹر بورڈز کوآرڈینیشن کمیشن (آئی بی سی سی) کرے گا، اور کم از کم 50 فیصد نمبر ضروری ہیں۔ ہر صوبے، ہر بورڈ اور ہر گروپ کے اندر الگ فہرست بنے گی جب تک اس علاقے کا کوٹہ پورا نہ ہو جائے۔

ایک بات پر نظر رکھیں: آئی بی سی سی پورٹل پر مبنی کچھ رہنما مضامین کہتے ہیں کہ صرف سرکاری اسکولوں کے طلبہ اہل ہیں، جو حکام کے بتائے گئے فاؤنڈیشن اسکولوں والے اصول سے میل نہیں کھاتا۔ اگر آپ کا بچہ فاؤنڈیشن اسکول میں پڑھتا ہے تو اپنے بورڈ سے تصدیق ضرور کریں۔

ہر صوبے کو کتنی کروم بکس ملیں گی؟

جیو نیوز اور پرو پاکستانی نے یہ کوٹہ شائع کیا:

صوبہ / علاقہ کروم بکس
پنجاب 181,090
اسلام آباد 100,000
سندھ 85,925
خیبر پختونخوا 51,170
بلوچستان 31,815
آزاد کشمیر 25,000
گلگت بلتستان 25,000

ہر علاقے میں ہر پانچ میں سے چار آلات اسکول کے طلبہ اور ایک مدرسے کے طالب علم کو جائے گا۔ اسکولوں کا حصہ 70 فیصد سائنس اور 30 فیصد آرٹس کے طلبہ میں بٹے گا۔ مدارس کے طلبہ کی جانچ ڈائریکٹوریٹ جنرل آف ریلیجیس ایجوکیشن الگ سے کرے گا۔

اسلام آباد کا حصہ نمایاں ہے: سندھ یا خیبر پختونخوا سے کہیں چھوٹے علاقے کے لیے ہر پانچ میں سے ایک آلہ۔ حکام نے ابھی تک اس کی وجہ نہیں بتائی۔

کیا درخواست دینی ہوگی؟

عام معنوں میں نہیں۔ میرٹ لسٹیں امتحانی بورڈز اور آئی بی سی سی بنائیں گے اور صوبائی محکمے تصدیق کریں گے کہ طالب علم واقعی داخل ہے۔ ہر لیپ ٹاپ سیریل نمبر کے ذریعے طالب علم سے جوڑا جائے گا اور کوریئر سے گھر بھیجا جائے گا، جبکہ ایک مرکزی نظام ترسیل پر نظر رکھے گا۔

اگر نام فہرست میں نہ ہو، نمبر غلط درج ہوں یا لیپ ٹاپ نہ پہنچے تو بورڈ اور صوبائی سطح پر شکایتی کمیٹیاں بنائی جا رہی ہیں۔ پہلے سال کے بعد مرمت کی ذمہ داری ایک ٹھیکیدار فرم کی ہوگی۔

یہ کون سے آلات ہیں؟

جیو نیوز کے مطابق یہ ری فربشڈ (استعمال شدہ مگر مرمت شدہ) کروم بکس ہیں جو ٹی ٹی کیئر (ٹوکیو ٹیکنالوجی کیئر) فاؤنڈیشن فراہم کر رہی ہے، اور ساتھ انٹرنیٹ ڈیوائس بھی ملے گی۔ اسکیم وفاقی وزارتِ تعلیم اور رانا مشہود کی سربراہی میں پرائم منسٹر یوتھ پروگرام مل کر چلا رہے ہیں۔

مدت کے بارے میں رپورٹس میں تھوڑا فرق ہے: وزیرِاعظم اور ڈان نے دو سال کہا، جبکہ پرو پاکستانی نے تین سال لکھا۔ ہم نے وزیرِاعظم کے اپنے الفاظ کو ترجیح دی ہے۔

یہ اہم کیوں ہے؟

سرکاری اسکول کے نویں جماعت کے طالب علم کے لیے انٹرنیٹ کے ساتھ چلتا ہوا لیپ ٹاپ آن لائن پڑھائی، کوڈنگ یا فری لانسنگ کی وہ مہارتیں کھول سکتا ہے جو پہلے پہنچ سے باہر تھیں۔ شہباز شریف کے مطابق مسلم لیگ ن کی پچھلی حکومتوں نے دس برس میں تقریباً 6 لاکھ لیپ ٹاپ دیے تھے۔ یہ نئی اسکیم سیدھی نویں جماعت کے طلبہ کے لیے ہے۔

اصل امتحان اب ہے: کیا میرٹ لسٹیں صاف طور پر شائع ہوں گی، اور کیا کوریئر کوہستان اور کیچ کے طلبہ تک بھی اتنی ہی جلدی پہنچے گا جتنا لاہور میں۔

ذرائع

  1. Dawn: Students across country to get 500,000 Chromebooks over 2 years, announces PM Shehbaz
  2. Geo News: PM Shehbaz launches scheme to distribute 500,000 Chromebooks to students
  3. Geo News: PM Chromebook scheme: Everything you need to know
  4. ProPakistani: PM Shehbaz launches Chromebook scheme for 500,000 students of schools and madaris

یہ خبر اے آئی کی مدد سے تحقیق اور تحریر کی گئی، پھر شائع کرنے سے پہلے ہمارے ایڈیٹر نے اس کی جانچ اور تدوین کی۔

مزید پڑھیں