پاکستان میں ایم پاکس: کراچی میں شیر خوار بچہ جاں بحق، خیبر پختونخوا میں 4 نئے کیس
ملیر کے غیر قانونی اسپتال میں ختنے کے بعد ایم پاکس کا شکار بچہ دم توڑ گیا، سندھ میں اس سال 12 اموات، کے پی میں 4 مقامی کیس۔ علامات جانیے۔

کراچی کے علاقے ملیر کے ایک غیر قانونی اسپتال میں ختنے کے بعد ایم پاکس کا شکار ہونے والا شیر خوار بچہ انتقال کر گیا، جس کے بعد اس سال سندھ میں ایم پاکس سے اموات کی تعداد 12 ہو گئی ہے۔ اتوار کو خیبر پختونخوا میں بھی چار نئے کیس سامنے آئے، اور ان میں سے کسی نے بیرونِ ملک سفر نہیں کیا تھا۔ ڈاکٹروں کے مطابق یہ اس بات کا اشارہ ہے کہ وائرس اب ملک کے اندر پھیل رہا ہے۔
کراچی میں کیا ہوا؟
بچہ ہفتہ 24 اکتوبر کو نیپا میں واقع سندھ انفیکشیس ڈیزیزز اسپتال اینڈ ریسرچ سینٹر میں انتقال کر گیا، جہاں وہ ایک ہفتے سے زیادہ زیرِ علاج تھا۔ عرب نیوز نے اس کی عمر 53 دن اور ڈان نے 52 دن بتائی۔ اسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر عبدالواحد راجپوت نے عرب نیوز کو بتایا کہ موت کی وجہ ایم پاکس تھی۔
بچے کا ختنہ تقریباً 20 دن کی عمر میں ملیر 15 کے ابنِ حسن اسپتال میں ہوا تھا اور تقریباً چار دن بعد علامات ظاہر ہوئیں۔ لیب سے تصدیق کے بعد سندھ ہیلتھ کیئر کمیشن نے اسپتال سیل کر دیا۔ کمیشن کے مطابق ختنے میں آلودہ قینچی استعمال ہوئی، اور اسپتال غیر قانونی طور پر غیر تربیت یافتہ عملے اور ناقص صفائی کے ساتھ چل رہا تھا۔
ایک سینئر ڈاکٹر نے ڈان کو بتایا کہ ایک اور شیر خوار بچہ، جس کے والدین کے مطابق اس کا ختنہ بھی اسی جگہ ہوا تھا، تشویشناک حالت میں ہے۔
سندھ میں ایم پاکس کے کتنے کیس ہیں؟
ایکسپریس ٹریبیون اور عرب نیوز کے مطابق سرکاری اعداد و شمار میں 2026 میں سندھ میں 98 کیس اور 12 اموات ہوئیں۔ سب سے زیادہ کیس کراچی (26) میں ہیں، پھر خیرپور (22) اور سکھر (9)۔ ڈان کے مطابق اس سال کے شروع میں خیرپور میں کم از کم سات اور سکھر میں دو بچے جاں بحق ہوئے تھے۔
سب سے تشویشناک بات یہ ہے: عرب نیوز کے مطابق ستمبر اور اکتوبر میں سندھ میں رپورٹ ہونے والے 19 میں سے 17 مریضوں نے بیمار ہونے سے پہلے کے 21 دنوں میں کوئی سفر نہیں کیا تھا۔ ماہرِ وبائیات ڈاکٹر رانا جواد اصغر نے کہا کہ مقامی پھیلاؤ “یا تو شروع ہو چکا ہے یا جاری ہے”۔
خیبر پختونخوا کے نئے کیس
ڈان کے مطابق خیبر ٹیچنگ اسپتال سے بھیجے گئے نمونے ہفتے کو خیبر میڈیکل یونیورسٹی کی پبلک ہیلتھ ریفرنس لیبارٹری میں مثبت آئے۔ دو مریض نوشہرہ، ایک پشاور اور ایک مردان سے ہے، جن میں ایک میاں بیوی بھی شامل ہیں۔ چاروں کو گھر پر الگ رہنے کی ہدایت دی گئی ہے اور محکمۂ صحت قریبی رشتہ داروں کی تلاش اور ٹیسٹنگ کر رہا ہے۔
اس سال صوبے میں اب تک 18 کیس، ایک موت اور 13 صحتیاب مریض ریکارڈ ہوئے ہیں۔ پہلے کے کیس زیادہ تر بیرونِ ملک سفر سے جڑے تھے، یہ چار نہیں۔
ایم پاکس کی علامات اور یہ کیسے پھیلتا ہے؟
عالمی ادارۂ صحت کے مطابق:
- علامات: جلد پر دانے یا زخم جو چھالوں اور پھر کھرنڈ میں بدل جاتے ہیں، اکثر بخار، سر درد، جسم اور کمر درد، کمزوری اور سوجے ہوئے غدود کے ساتھ۔
- کب: عام طور پر رابطے کے ایک ہفتے کے اندر، مگر 1 سے 21 دن تک۔
- پھیلاؤ: جلد سے جلد یا آمنے سامنے قریبی رابطہ، بستر اور تولیے جیسی مشترکہ چیزیں، اور آلودہ سوئیاں یا آلات۔ ماں سے بچے کو بھی منتقل ہو سکتا ہے۔
- سب سے زیادہ خطرہ: شیر خوار اور چھوٹے بچے، حاملہ خواتین اور کمزور قوتِ مدافعت والے افراد۔
زیادہ تر لوگ دو سے چار ہفتوں میں ٹھیک ہو جاتے ہیں۔ انڈس اسپتال کی ڈاکٹر ثمرین سرفراز نے ڈان کو بتایا کہ جب تک تمام زخم بھر نہ جائیں مریض سے وائرس پھیل سکتا ہے، جبکہ آغا خان یونیورسٹی اسپتال کے پروفیسر فیصل محمود کے مطابق ایم پاکس خسرہ یا چکن پاکس کی نسبت کہیں کم پھیلتا ہے۔
گھر والے کیا کریں؟
کراچی کا واقعہ بتاتا ہے کہ غیر جراثیم سے پاک آلات کتنا بڑا خطرہ ہیں۔ ختنہ، انجیکشن یا کوئی بھی چھوٹا طبی عمل ہو تو رجسٹرڈ اسپتال یا کلینک جائیں، اور بلا جھجک پوچھیں کہ آلات جراثیم سے پاک ہیں اور سرنج نئی ہے۔
اگر گھر میں کسی کو بخار کے ساتھ دانے نکلیں تو اسے الگ ہوادار کمرے میں رکھیں، زخم ڈھانپیں، بار بار ہاتھ دھوئیں، تولیہ اور بستر الگ رکھیں اور ڈاکٹر کو دکھائیں۔ یہ عمومی معلومات ہیں، طبی مشورہ نہیں؛ بیمار شیر خوار بچے کو فوراً اسپتال لے جائیں۔
نوشہرہ، پشاور اور مردان میں رابطوں کی تلاش سے اگلے دو ہفتوں میں پتا چلے گا کہ ان اضلاع میں مزید کیس تو موجود نہیں۔
ذرائع
- Dawn: First infant battling mpox dies in Karachi hospital
- Arab News Pakistan: Infant dies of mpox in Pakistan's Sindh, taking tally to 12
- The Express Tribune: Mpox claims another child's life in Sindh, this year's death toll rises to 12
- Dawn: Four Mpox cases detected in KP
- World Health Organization: Mpox fact sheet
یہ خبر اے آئی کی مدد سے تحقیق اور تحریر کی گئی، پھر شائع کرنے سے پہلے ہمارے ایڈیٹر نے اس کی جانچ اور تدوین کی۔



