پاکستان ریلوے میں 31 دسمبر تک ایمرجنسی: 55 حادثوں کے بعد کیا بدلے گا
افسران کی چھٹیاں منسوخ، دورے ہوائی جہاز کے بجائے ٹرین سے اور خراب ڈبے سروس سے باہر۔ ایمرجنسی کا مطلب کیا ہے اور مسافروں کو کیا فرق پڑے گا۔

پاکستان ریلوے میں 31 دسمبر تک ایمرجنسی نافذ ہے۔ وفاقی وزیر ریلوے حنیف عباسی نے ہفتہ 24 اکتوبر کو مسلسل حادثات کے بعد اس کا اعلان کیا، اور سال کے باقی دنوں میں افسران کی چھٹیاں اور ویک اینڈ ختم کر دیے گئے ہیں۔ یہ احکامات عملے اور مرمت سے متعلق ہیں، ان کے ساتھ کسی ٹرین کی منسوخی کا اعلان نہیں ہوا۔
آرب نیوز کے حوالے سے ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق یکم جنوری سے اب تک مسافر اور مال گاڑیوں کے 55 سے زیادہ حادثات ہو چکے ہیں۔ ڈان کے مطابق صرف جولائی میں سات حادثے ہوئے، اور ریلوے ذرائع نے پرو پاکستانی کو بتایا کہ سب سے زیادہ حادثات سکھر، کراچی اور ملتان ڈویژن میں ہوئے۔ آخری بڑا دھچکا 13 اکتوبر کو لگا جب کراچی سے پشاور جانے والی رحمان بابا ایکسپریس ملتان کے قریب شیر شاہ میں پٹڑی سے اتر گئی۔ ڈان کے مطابق پانچ افراد جاں بحق ہوئے جبکہ اے پی نے چار ہلاکتیں بتائیں، اور تقریباً 30 سے 35 مسافر زخمی ہوئے۔
ایمرجنسی سے اصل میں کیا بدلا؟
زیادہ تر احکامات افسران کے لیے ہیں، مسافروں کے لیے نہیں۔ ڈان اور عرب نیوز کے مطابق:
- 31 دسمبر تک میڈیکل کے سوا تمام چھٹیاں منسوخ، سرکاری تعطیلات اور ہفتہ اتوار کی چھٹی بھی نہیں ہوگی۔
- فیلڈ افسران اتوار سمیت لائن پر جا کر ٹرینوں کی نگرانی کریں گے۔
- سرکاری دوروں پر افسران ٹرین سے سفر کریں گے۔ ہوائی ٹکٹ کی ادائیگی نہیں ہوگی اور سرکاری گاڑی استعمال نہیں ہوگی۔ حنیف عباسی کا کہنا ہے کہ وہ خود سال کے آخر تک راولپنڈی سے لاہور ریل کار پر جائیں گے۔
- سول اور مکینیکل کے چیف انجینئرز اور سیفٹی کے سربراہ روزانہ وزارت کو رپورٹ دیں گے۔
“ڈمی کوچز” کا مسئلہ
سب سے اہم حکم خود ٹرینوں کے بارے میں ہے۔ وزیر چاہتے ہیں کہ تمام “ڈمی” یعنی خراب یا بغیر بریک والے ڈبے اور ویگنیں 31 دسمبر تک یا تو ٹھیک ہوں یا سروس سے ہٹا دی جائیں۔ ڈان کے مطابق 36 ہزار بریک سلنڈر پہنچنا شروع ہو گئے ہیں، اب تک 1,546 کوچز اور ویگنوں کی جانچ مکمل ہو چکی ہے اور باقی تقریباً 3 ہزار کی جانچ 10 نومبر تک ہوگی۔ ورکشاپس کو 30 نومبر تک کنکریٹ اور لکڑی کے سلیپرز کی ضرورت پوری کرنی ہے۔
محکمے نے حادثات کی جو وجوہات خود گنوائی ہیں وہ صاف ہیں: خستہ پٹڑیاں، ڈمی کوچز، دستی کانٹا سسٹم، انسانی غلطی، ناقص دیکھ بھال اور وسائل کی کمی۔ حنیف عباسی کا کہنا ہے کہ وہ دس سال سے رکی ہوئی مرمت کا کام نمٹا رہے ہیں اور جنوری سے تمام کوچز، ویگنیں اور انجن چلنے کے قابل ہوں گے۔
کیا مسافروں کو فرق محسوس ہوگا؟
سچ پوچھیں تو فوری طور پر نہیں۔ چھٹیاں منسوخ کرنے سے لائن پر نگرانی بڑھے گی، اور افسران کو انہی ٹرینوں میں بٹھانا اچھا قدم ہے: جب آپ خود ہلتے ہوئے ڈبے میں بیٹھے ہوں تو اسے نظرانداز کرنا مشکل ہوتا ہے۔ لیکن اصل مسئلہ پٹڑی اور سگنل کا ہے، جس کے لیے برسوں اور بڑی رقم چاہیے، دس ہفتوں کی مہم نہیں۔
دو تاریخیں اہم ہیں۔ 10 نومبر تک باقی 3 ہزار ڈبوں کی جانچ مکمل ہو گئی تو ریلوے بتا سکے گی کہ کتنے ڈبے سروس سے نکالے جا رہے ہیں اور کیا سردیوں کی چھٹیوں میں مقبول ٹرینوں پر ڈبے کم ہوں گے۔ اصل امتحان جنوری میں ہوگا۔ اس دوران ملتان حادثے کی سرکاری انکوائری رپورٹ بھی آنا باقی ہے۔
ذرائع
یہ خبر اے آئی کی مدد سے تحقیق اور تحریر کی گئی، پھر شائع کرنے سے پہلے ہمارے ایڈیٹر نے اس کی جانچ اور تدوین کی۔



