الیکشن کمیشن کے AI قواعد: ڈیپ فیک پر پابندی، جماعتوں، میڈیا اور انفلوئنسرز کے لیے AI لیبل

الیکشن کمیشن چاہتا ہے کہ AI سے بنا انتخابی مواد لیبل ہو، کلون آواز والی کالز بتائیں اور جعلی بوٹس پر پابندی ہو۔ مسودہ کیا کہتا ہے اور رائے کیسے دیں۔

The Election Commission of Pakistan building lit up at night, with Pakistani flags at the entrance
تصویر: The Express Tribune

الیکشن کمیشن آف پاکستان چاہتا ہے کہ AI سے بنا ہر انتخابی مواد واضح طور پر لیبل ہو، اور امیدواروں، ججوں، سرکاری حکام اور مسلح افواج کے دھوکہ دہی والے ڈیپ فیکس پر پابندی ہو۔ ڈان اور ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق انتخابی ضابطہ اخلاق میں یہ مجوزہ تبدیلیاں جمعہ 23 اکتوبر کو جاری ہوئیں اور عوام 20 نومبر تک اپنی رائے دے سکتے ہیں۔

ٹریبیون کے مطابق جماعتوں اور امیدواروں، میڈیا اور مبصرین کے لیے 2023 کے ضابطوں میں 12 ترامیم تجویز کی گئی ہیں، اگرچہ اس کی اپنی تفصیل جوڑنے پر 13 بنتی ہیں۔ بہرحال یہ پہلا موقع ہے کہ الیکشن کمیشن نے انتخابی قواعد میں AI کو شامل کرنے کی کوشش کی ہے۔

جماعتوں اور امیدواروں کو کیا کرنا ہوگا

  • AI سے بنا تمام انتخابی مواد لیبل کرنا ہوگا، بشمول ڈیپ فیک تصاویر، آڈیو، ویڈیو اور مصنوعی آوازیں۔
  • کلون آواز والی روبو کالز اور پیغامات کے بالکل شروع میں بتانا ہوگا کہ یہ AI سے بنے ہیں۔
  • لائکس، شیئرز یا فالوورز بڑھانے کے لیے بوٹس یا جعلی اکاؤنٹس استعمال نہیں ہوں گے۔
  • AI کی مدد سے بنے تمام انتخابی مواد کا ریکارڈ رکھنا اور مانگنے پر الیکشن کمیشن کو دینا ہوگا۔
  • ووٹروں کو دھوکہ دینے والے ڈیپ فیکس، اور امیدواروں، پارٹی رہنماؤں، حامیوں، انتخابی عملے، عدلیہ، سرکاری حکام یا مسلح افواج کے بارے میں جھوٹے، توہین آمیز یا ہتکِ عزت والے ڈیپ فیکس ممنوع ہوں گے۔

میڈیا اور انفلوئنسرز کو کیا کرنا ہوگا

ڈان کے مطابق میڈیا کے قواعد سوشل میڈیا انفلوئنسرز پر بھی لاگو ہوں گے۔ ٹریبیون کے مطابق اداروں کو واضح طور پر بتانا ہوگا کہ نشر یا شائع ہونے والا مواد AI سے بنایا یا بدلا گیا ہے۔ وہ انتخابی مواد کے ترجمے، تیاری یا تجزیے کے لیے AI استعمال کر سکتے ہیں، مگر درستگی کی قانونی ذمہ داری انہی کی ہوگی، اور ہدایت ملنے پر گمراہ کن مواد ہٹانا یا دوبارہ لیبل کرنا ہوگا۔

مبصرین اور عملدرآمد

انتخابی مبصرین کو AI ڈیپ فیکس اور غلط معلومات فوری طور پر الیکشن کمیشن کو رپورٹ کرنی ہوں گی، انہیں پھیلائے بغیر، اور وہ اپنی تصاویر، ویڈیوز یا رپورٹس بنانے یا سنوارنے کے لیے AI استعمال نہیں کر سکیں گے۔

نگرانی پیمرا، نئی سوشل میڈیا پروٹیکشن اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی اور نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کرے گی، جو خلاف ورزیاں الیکشن کمیشن کو رپورٹ کریں گی۔ ڈان کے مطابق کمیشن فوری طور پر مواد ہٹانے یا دوبارہ لیبل کرنے کا حکم دے سکے گا۔ کسی اخبار نے مخصوص جرمانوں کا ذکر نہیں کیا۔

ہماری رائے

AI مواد پر لیبل لگانا کم از کم ضرورت ہے، اور 2024 کی انتخابی مہم نے دکھایا کہ کیوں، جب پی ٹی آئی نے جیل میں قید عمران خان کی AI سے بنی آواز میں تقاریر چلائیں۔ کلون آواز والی روبو کالز کا قاعدہ سب سے عملی ہے، کیونکہ یہ کالز سستی اور قائل کرنے والی ہوتی ہیں، خاص طور پر بزرگ ووٹروں کے لیے۔

کمزور پہلو عملدرآمد اور الفاظ ہیں۔ سرکاری حکام اور مسلح افواج کے “توہین آمیز” ڈیپ فیکس کی تعریف اتنی وسیع ہے کہ طنز اور سیاسی مزاح بھی اس کی زد میں آ سکتا ہے، اور عملدرآمد ان اداروں کے ذریعے ہوگا جن کا آن لائن اظہار پر نگرانی کا کردار پہلے ہی متنازع ہے۔ واضح تعریفیں اور فوری اپیل کا راستہ ان قواعد پر اعتماد بڑھائے گا۔

اپنی رائے کیسے دیں

دونوں اخبارات کے مطابق مسودے پر جماعتیں، میڈیا، سول سوسائٹی اور عوام 20 نومبر تک رائے دے سکتے ہیں۔ اگر آپ سیاسی مواد بناتے ہیں، خاص طور پر AI ایڈٹس، میمز یا آواز والی ویڈیوز، تو یہی وقت ہے کہ مسودہ پڑھیں اور جواب دیں۔

ذرائع

  1. Dawn: ECP proposes AI rules for parties, media, election observers
  2. The Express Tribune: ECP proposes 12 amendments to regulate AI, curb misuse in elections

یہ خبر اے آئی کی مدد سے تحقیق اور تحریر کی گئی، پھر شائع کرنے سے پہلے ہمارے ایڈیٹر نے اس کی جانچ اور تدوین کی۔

مزید پڑھیں