سابق آرمی چیف جنرل عبدالوحید کاکڑ انتقال کر گئے: 1993 کے 'کاکڑ فارمولے' والے جرنیل
آئی ایس پی آر کے مطابق سابق آرمی چیف جنرل (ر) عبدالوحید کاکڑ پیر کو راولپنڈی میں انتقال کر گئے۔ وہ کون تھے اور 1993 میں کیا ہوا تھا؟

1993 سے 1996 تک پاکستان کے آرمی چیف رہنے والے جنرل (ر) عبدالوحید کاکڑ پیر 26 اکتوبر کو راولپنڈی میں انتقال کر گئے۔ اس کا اعلان پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر نے کیا۔ ان کی عمر 89 برس تھی۔ آئی ایس پی آر نے وفات کی وجہ نہیں بتائی، اور یہ سطور لکھے جانے تک نماز جنازہ کا اعلان نہیں ہوا تھا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر اور فوج کے تمام افسروں اور جوانوں نے ان کے “شاندار فوجی کیریئر، قیادت اور گراں قدر خدمات” کو خراج تحسین پیش کیا اور سوگوار خاندان سے تعزیت کی۔
جنرل عبدالوحید کاکڑ کون تھے؟
وہ 1937 میں بلوچستان کے شہر ژوب میں پیدا ہوئے اور 1959 میں فرنٹیئر فورس رجمنٹ میں کمیشن حاصل کیا۔ انہوں نے 1965 اور 1971 کی جنگوں میں حصہ لیا اور بعد میں کوئٹہ میں بارہویں کور کی کمان کی۔
جنرل آصف نواز جنجوعہ کی اچانک وفات کے بعد وہ 12 جنوری 1993 کو پاکستان کے پانچویں آرمی چیف بنے۔ ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق یہ تقرری اس وقت کے وزیر اعظم نواز شریف کے دور میں ہوئی، جبکہ ان کی سوانح کے مطابق انتخاب صدر غلام اسحاق خان نے کیا تھا اور کئی سینیئر جرنیلوں کو نظر انداز کیا گیا تھا۔
‘کاکڑ فارمولا’ کیا تھا؟
1993 میں صدر اور وزیر اعظم کی کشمکش نے حکومت کو مفلوج کر دیا تھا۔ ڈان کے مطابق جنرل کاکڑ نے غلام اسحاق خان اور نواز شریف دونوں پر مستعفی ہونے کے لیے دباؤ ڈالا اور دونوں نے استعفیٰ دے دیا۔ ایک عبوری حکومت نے اسی سال اکتوبر میں انتخابات کرائے اور بے نظیر بھٹو دوبارہ وزیر اعظم بنیں۔
اسے ایسے واقعے کے طور پر یاد کیا جاتا ہے جب فوج نے خود اقتدار سنبھالے بغیر سیاسی تعطل ختم کرایا، اسی لیے سول ملٹری تعلقات کی ہر بحث میں اس کا ذکر آتا ہے۔ مورخین آج بھی بحث کرتے ہیں کہ دباؤ کتنا تھا اور کیا اس سے ایک مثال قائم ہوئی۔
وقت پر ریٹائرمنٹ
جنرل کاکڑ نے تین سالہ مدت پوری کی اور جنوری 1996 میں ریٹائر ہو گئے، ایسے وقت میں جب توسیع عام ہوتی جا رہی تھی۔ اس کے بعد وہ راولپنڈی میں خاموش زندگی گزارتے رہے اور کم ہی عوامی سطح پر بولے، اسی لیے بہت سے نوجوان پاکستانیوں نے ان کا نام آج پہلی بار سنا۔
سیاسی قیادت کی تعزیت
صدر آصف علی زرداری اور وزیر اعظم شہباز شریف نے تعزیت کی اور وزیر اعظم نے مسلح افواج کے لیے ان کی خدمات کو سراہا۔ نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار نے کہا کہ انہیں “گہرا دکھ” ہوا۔ ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے گہرے رنج کا اظہار کیا اور وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری نے اسے ملک کے لیے بڑا نقصان قرار دیا۔
نماز جنازہ کے وقت اور جگہ کا اعلان آئی ایس پی آر کی جانب سے متوقع ہے۔
ذرائع
یہ خبر اے آئی کی مدد سے تحقیق اور تحریر کی گئی، پھر شائع کرنے سے پہلے ہمارے ایڈیٹر نے اس کی جانچ اور تدوین کی۔



