اسٹیٹ بینک نے شرح سود 12 فیصد کر دی: اضافہ کیوں ہوا اور آپ پر کیا اثر پڑے گا

اسٹیٹ بینک نے پیر کو پالیسی ریٹ 11.5 سے بڑھا کر 12 فیصد کر دیا۔ فیصلے کی وجوہات، نئے اندازے اور قرضوں اور بچت پر اثر۔

SBP Governor Jameel Ahmad speaking at a press conference at the State Bank of Pakistan
تصویر: The Express Tribune

توقع کے مطابق ہی ہوا۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے پیر 26 اکتوبر کو پالیسی ریٹ 50 بیسس پوائنٹس بڑھا کر 12 فیصد کر دیا، یوں کئی ماہ سے 11.5 فیصد پر رکی شرح میں اضافہ ہو گیا۔ آج صبح ہم نے بتایا تھا کہ اضافے کی صورت میں قرضوں اور بچت پر کیا اثر پڑے گا؛ اب فیصلہ اور اس کی وجوہات سامنے آ گئی ہیں۔

گورنر جمیل احمد نے کراچی میں پریس کانفرنس میں فیصلے کا اعلان کیا۔ مانیٹری پالیسی کمیٹی کے دس میں سے نو ارکان نے اضافے کے حق میں ووٹ دیا، اور ڈان کے مطابق اختلاف کرنے والا رکن کم نہیں بلکہ زیادہ اضافہ چاہتا تھا۔

شرح سود کیوں بڑھائی گئی؟

بنیادی وجہ تیل اور جنگ ہے۔ جیو نیوز کے مطابق گورنر نے کہا کہ “جغرافیائی سیاسی حالات کی وجہ سے توانائی کی قیمتیں بڑھی ہیں۔” کمیٹی کا کہنا تھا کہ مشرق وسطیٰ کی جنگ اور اس کے جلد ختم ہونے کے کم امکانات تیل مہنگا رکھ رہے ہیں، جبکہ ملک میں گندم کی سپلائی کے مسائل اگلے چند ماہ کھانے پینے کی چیزیں مہنگی رکھیں گے۔

ڈر یہ ہے کہ مہنگا پیٹرول اور آٹا باقی چیزوں کو بھی مہنگا کر دے۔ ستمبر میں مہنگائی 10.3 فیصد رہی، جو اگست کے 11 فیصد سے کم مگر کمیٹی کے اندازے سے زیادہ تھی، اور جیو کے مطابق بنیادی مہنگائی تقریباً 8.4 فیصد تھی۔ سرکاری ہدف 5 سے 7 فیصد ہے، اور گورنر نے کہا کہ وہاں تک پہنچنے میں اب پہلے سے زیادہ وقت لگے گا۔

اسٹیٹ بینک کے نئے اعداد و شمار

  • معاشی ترقی: جون 2027 تک کے سال میں 3.5 سے 4.5 فیصد؛ ڈان کے مطابق نظرثانی شدہ اندازہ 3.7 فیصد ہے۔
  • زرمبادلہ کے ذخائر: تقریباً 21.5 ارب ڈالر، یعنی تقریباً تین ماہ کی درآمدات کے برابر (جیو)۔
  • ترسیلات زر: 45 ارب ڈالر کا اندازہ، پہلے 44 ارب تھا۔
  • درآمدات: تقریباً 71 ارب ڈالر؛ برآمدات تقریباً 32.5 ارب ڈالر۔
  • کرنٹ اکاؤنٹ: جولائی سے ستمبر میں 87 کروڑ 40 لاکھ ڈالر خسارہ، جو جی ڈی پی کے صفر سے ایک فیصد کے اندر رہنے کی توقع ہے۔

گورنر نے آئی ایم ایف کے ساتھ اسٹاف لیول معاہدے اور پہلی سہ ماہی میں ہدف سے 33 ارب روپے زیادہ ٹیکس وصولی کا بھی ذکر کیا۔

آپ کے لیے کیا بدلے گا؟

گاڑی اور گھر کے قرضے، کریڈٹ کارڈ اور رننگ فنانس کائبور سے جڑے ہوتے ہیں جو عموماً پالیسی ریٹ کے ساتھ چلتا ہے، اس لیے متغیر شرح والے قرضوں کی قسطیں تھوڑی بڑھنے کا امکان ہے۔ بچت کرنے والوں کو فائدہ ہو سکتا ہے: اضافے کے بعد بینک ڈپازٹ اور قومی بچت کی شرحیں عموماً بڑھتی ہیں، اگرچہ فوراً نہیں۔

کاروبار کے لیے پیغام یہ ہے کہ سستا قرضہ جلد واپس نہیں آ رہا۔ اسٹیٹ بینک نے 2023 کی ریکارڈ 22 فیصد شرح میں بڑی کمی کی تھی، پھر اپریل میں تیل مہنگا ہونے پر ایک فیصد اضافہ کر کے رخ بدلا۔ ٹاپ لائن سیکیورٹیز نے ڈان کو بتایا کہ فیصلہ ان کی توقع کے مطابق ہے۔

کمیٹی نے کہا کہ وہ تیل، گندم اور بجلی و گیس کے نرخوں میں ممکنہ تبدیلی پر نظر رکھے گی۔ اگلے اجلاس سے پہلے پیٹرول کی قیمت میں ایک اور بڑا اضافہ مزید اضافے کا امکان بڑھا دے گا۔

ذرائع

  1. Dawn: Central bank raises policy rate by 50 basis points to 12pc
  2. Geo News: SBP raises policy rate by 50bps to 12% amid rising inflation risks
  3. The Express Tribune: SBP hikes policy rate to 12% on Middle East risks

یہ خبر اے آئی کی مدد سے تحقیق اور تحریر کی گئی، پھر شائع کرنے سے پہلے ہمارے ایڈیٹر نے اس کی جانچ اور تدوین کی۔

مزید پڑھیں