جزیرہ قشم پر حملہ: سوزا میں دو میزائل گرے، ایران کا امریکی MQ-9 ڈرون گرانے کا دعویٰ
ایرانی میڈیا کے مطابق رات گئے ہرمز کے قریب قشم جزیرے پر دو میزائل لگے اور ایران نے امریکی MQ-9 ڈرون گرایا؛ ٹرمپ نے معمولی حملوں کا ذکر کیا۔

ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی تسنیم کے مطابق جمعے کی رات گئے آبنائے ہرمز میں واقع ایرانی جزیرے قشم کے علاقے سوزا میں دو میزائل گرے۔ چند گھنٹے بعد ایرانی سرکاری میڈیا نے کہا کہ فضائی دفاع نے جزیرے کے اوپر امریکی MQ-9 ریپر ڈرون مار گرایا۔ ہفتے کی صبح تک نہ امریکی فوج اور نہ ایرانی حکام نے نقصان یا ہلاکتوں کی کوئی تفصیل بتائی۔
جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے پوچھا گیا کہ کیا قشم کے قریب حملوں کے پیچھے امریکہ ہے تو انہوں نے براہ راست تصدیق نہیں کی۔ یروشلم پوسٹ کے مطابق انہوں نے کہا کہ امریکہ «معمولی حملے» کرتا ہے اور ایران نے «تھوڑا سا طیارہ شکن آلہ» بنایا تھا جسے امریکی فورسز نے «تقریباً 15 منٹ میں تباہ کر دیا»۔
قشم پر کیا ہوا؟
سرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا کے مطابق رہائشیوں نے جزیرے کے اوپر طیارے کی آواز سنی، پھر دو گولے سوزا کے علاقے میں آ لگے۔ تسنیم نے کہا کہ نقصان کے بارے میں ابھی کوئی سرکاری معلومات نہیں اور حکام کے تصدیق کرنے پر مزید تفصیل دی جائے گی۔ ایران نے یہ نہیں بتایا کہ میزائل کس نے داغے۔
قشم ایران کا سب سے بڑا جزیرہ ہے اور آبنائے ہرمز کی تنگ بحری گزرگاہ کے عین بیچ واقع ہے، اسی لیے اس جنگ میں یہ سب سے زیادہ دیکھی جانے والی جگہوں میں سے ہے۔ امریکہ نے اس ہفتے کے شروع میں وسط مدتی انتخابات سے ایک دن پہلے قشم پر اہداف کو نشانہ بنایا تھا، اور ایران کے پاسداران انقلاب نے جمعے کو کہا تھا کہ انہوں نے اسی جزیرے پر ایک چھوٹا امریکی MQ-1 ڈرون تباہ کیا۔ MQ-9 کے نئے دعوے کی پینٹاگون نے تصدیق نہیں کی۔
اس ہفتے کی وسیع تر تصویر
- ٹینکر: یونانی انتظام والے ٹینکر ویلوس سیفائر پر ایک ملاح مارا گیا، جو جمعرات کو خالی حالت میں بحرین جاتے ہوئے نشانہ بنا، یہ بات اس کے مینیجر ویلوس ٹینکرز نے بتائی۔ ایران کے پاسداران انقلاب کے مطابق دو دیگر ٹینکر «غیر مجاز راستہ» اختیار کرنے پر بارودی سرنگوں سے ٹکرائے؛ ٹرمپ نے ایران پر الزام لگایا ہے کہ وہ ایسے واقعات کو بڑھا چڑھا کر تیل کی قیمتیں اوپر لے جاتا ہے۔
- فیصلہ باقی: سی بی ایس نیوز کے مطابق ٹرمپ نے کہا ہے کہ نئے امریکی حملوں کا فیصلہ قریب ہے، ساتھ ہی انہوں نے مذاکرات کا بھی ذکر کیا۔
- ثالثی: قطر کے وزیر اعظم نے کہا کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان قطر کی ثالثی اب بھی صورتحال کو قابو سے باہر ہونے سے روک رہی ہے، اور قطر نے مذاکرات ناکام ہونے کی خبروں کی تردید کی۔
پاکستان کے لیے یہ کیوں اہم ہے
دنیا کا تقریباً پانچواں حصہ تیل ہرمز سے گزرتا ہے۔ قشم کے قریب ہر کشیدگی خام تیل کی قیمتیں ہلاتی ہے، اور پاکستان اب پیٹرول کی قیمتیں تقریباً روزانہ بدلتا ہے، اس لیے وہاں کا کوئی حملہ چند دنوں میں ہمارے پمپوں پر نظر آ سکتا ہے۔ تیل ٹھنڈا ہونے سے اس ہفتے پیٹرول لگاتار پانچ بار سستا ہوا؛ سنگین کشیدگی اسے الٹ سکتی ہے۔ بہت سے پاکستانی اسی راستے پر جہازوں اور خلیجی بندرگاہوں میں کام بھی کرتے ہیں۔
آگے دیکھنے کی باتیں: کیا ایران بتاتا ہے کہ میزائل کس نے داغے، کیا پینٹاگون MQ-9 کے نقصان کی تصدیق یا تردید کرتا ہے، اور مزید حملوں پر ٹرمپ کا وعدہ کیا گیا فیصلہ۔



