وائٹ ہاؤس: اسٹیفن ملر ٹرمپ کے نئے چیف آف اسٹاف، سوزی وائلز رخصت

ٹرمپ نے اسٹیفن ملر کو پیر 9 نومبر سے وائٹ ہاؤس کا چیف آف اسٹاف بنا دیا، ریپبلکنز کے دونوں ایوان ہارنے کے تین دن بعد سوزی وائلز رخصت۔

Stephen Miller in a suit in front of a blue curtain
تصویر: NBC News

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنا چیف آف اسٹاف بدل دیا ہے۔ جمعہ 6 نومبر کو انہوں نے ٹرتھ سوشل پر اعلان کیا کہ اسٹیفن ملر پیر 9 نومبر سے وائٹ ہاؤس کے چیف آف اسٹاف ہوں گے، جبکہ سوزی وائلز ان کی سیاسی تنظیم میں چلی جائیں گی۔ وائلز نے ایکس پر لکھا کہ جمعہ ان کی ذمہ داری کا آخری دن تھا۔

اس ہفتے کے وسط مدتی انتخابات میں ریپبلکنز کے ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ دونوں کھو دینے کے بعد ٹرمپ کی ٹیم میں یہ سب سے بڑی تبدیلی ہے۔ چند دن پہلے ہی وائٹ ہاؤس نے وائلز کے جانے کی باتوں کو رد کیا تھا۔

اسٹیفن ملر کون ہیں؟

41 سالہ ملر اب تک پالیسی کے ڈپٹی چیف آف اسٹاف اور ہوم لینڈ سکیورٹی کے مشیر تھے۔ وہ انتظامیہ کی سخت امیگریشن پالیسیوں، بڑے پیمانے پر ملک بدری سے لے کر ویزا قوانین سخت کرنے تک، کے معمار کے طور پر مشہور ہیں اور 2016 کی مہم سے ٹرمپ کے ساتھ ہیں۔ انہیں اعلیٰ عہدہ دینے کا مطلب ہے کہ عمارت کی سب سے جارحانہ آواز اب پورا نظام چلائے گی۔

سوزی وائلز کیوں گئیں؟

وائلز نے ٹرمپ کی 2024 کی مہم چلائی اور وائٹ ہاؤس کی پہلی خاتون چیف آف اسٹاف بنیں۔ 2025 کے آخر میں انہوں نے وعدہ کیا تھا کہ ریپبلکنز وسط مدتی انتخابات جیتیں گے۔ آئیووا، کینساس اور ساؤتھ کیرولائنا جیسی ریاستوں میں شکست کے بعد پارٹی کے دائیں بازو کی کچھ شخصیات نے کھل کر انہیں ہٹانے کا مطالبہ کیا۔ ٹرمپ نے یہ نہیں کہا کہ انہیں ہٹایا گیا، اور ان کے نئے کردار کو اپنی سیاسی مہم کی قیادت قرار دیا۔ اس سال مارچ میں ان میں چھاتی کے کینسر کی تشخیص ہوئی تھی۔

ملر خاندان اور الزام تراشی

ملر کی اہلیہ کیٹی ملر، جو انتظامیہ کی سابق ترجمان ہیں اور اب پوڈکاسٹ کرتی ہیں، اس ہفتے مذاق کا نشانہ بنیں جب انہوں نے مصروف ماؤں کو الیکشن کے دن گھر بیٹھنے کا ذمہ دار ٹھہرایا۔ نائب صدر جے ڈی وینس نے ایک اور وجہ بتائی۔ انہوں نے ایکس پر لکھا: “ہم اس لیے ہارے کہ جنگ ہو رہی ہے”، اور اشارہ ایران کے تنازع کی طرف تھا۔

پاکستان کے لیے اہم کیوں؟

چیف آف اسٹاف طے کرتا ہے کہ صدر تک کون پہنچے گا اور ان کی میز پر کیا آئے گا۔ ملر کے آنے سے امیگریشن اور ویزے ایجنڈے میں سب سے اوپر رہنے کی توقع ہے، جو امریکا کے لیے درخواست دینے والے پاکستانی طلبہ، ورکرز اور خاندانوں کے لیے اہم ہے۔ جنوری میں کانگریس ڈیموکریٹس کے پاس جانے کے بعد وائٹ ہاؤس کے ایگزیکٹو آرڈرز پر زیادہ انحصار کا امکان بھی ہے، جو ملر کا سب سے مضبوط میدان ہے۔

ملر پیر سے کام شروع کریں گے۔ پہلا امتحان یہ ہوگا کہ جنوری میں ڈیموکریٹک ہونے والی کانگریس سے وائٹ ہاؤس کیسے نمٹتا ہے۔

مزید پڑھیں