امریکہ کا ایران کے جزیرے قشم پر حملہ: آبنائے ہرمز کے قریب کیا نشانہ بنا؟
امریکی حکام پیر کے حملے کو "دفاعی" کہتے ہیں۔ قشم پر کیا نشانہ بنا، ایران نے کیا جواب دیا اور تیل پھر کیوں مہنگا ہوا۔

امریکی حکام کے مطابق امریکہ نے پیر 2 نومبر کو آبنائے ہرمز میں ایران کے جزیرے قشم پر حملہ کیا، یعنی امریکہ میں وسط مدتی انتخابات سے ایک دن پہلے۔ حکام نے اسے محدود اور “دفاعی” کارروائی کہا جس کا مقصد ایران کو جہازوں کے لیے خطرہ بننے سے روکنا تھا۔
پینٹاگون نے باضابطہ اعلان نہیں کیا اور امریکی سینٹرل کمانڈ نے کوئی تبصرہ نہیں کیا۔ اب تک کی معلومات نام ظاہر نہ کرنے والے امریکی حکام سے آئی ہیں۔
قشم پر کیا نشانہ بنا؟
میڈیا رپورٹس کے مطابق ایک سینئر امریکی عہدیدار نے بتایا کہ پاسداران انقلاب نے ایک امریکی طیارے پر فائر کیا، جس کے بعد امریکی لڑاکا طیارے نے جزیرے پر زمین سے فضا میں مار کرنے والا ایک میزائل لانچر تباہ کر دیا۔ دوسرے حکام کے مطابق مقصد تجارتی جہازوں پر حملے کی ایرانی صلاحیت کو محدود کرنا تھا۔
ایرانی سرکاری میڈیا نے قشم پر کئی دھماکوں کی خبر دی۔ نقصان یا جانی نقصان کی کسی طرف سے تصدیق نہیں ہوئی۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یہ مکمل جنگ کی واپسی نہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ حالیہ ہفتوں میں ان محدود امریکی کارروائیوں میں سے ایک تھی جنہیں واشنگٹن نے عوامی طور پر تسلیم نہیں کیا۔
قشم ایران کا سب سے بڑا جزیرہ ہے اور آبنائے ہرمز کے تنگ ترین حصے پر واقع ہے، جہاں سے دنیا کے سمندری تیل کا بڑا حصہ گزرتا ہے، اور خلیج سے پاکستان آنے والا تیل بھی۔
ایران کا جواب
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے منگل کو کہا کہ تہران نے بالواسطہ مذاکرات میں واشنگٹن کو “مضبوط اور معقول جواب” دے دیا ہے اور “اب گیند امریکہ کے کورٹ میں ہے”۔ ایک سینئر ایرانی عہدیدار نے کہا کہ دونوں ملک ابھی معاہدے سے دور ہیں اور ایران امریکہ کے بقول ان کے “حد سے زیادہ مطالبات” نہیں مانے گا، خاص طور پر بحری ناکہ بندی ہٹنے سے پہلے۔
دوسری طرف امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا کہ قطر کی ثالثی میں ہونے والے بالواسطہ مذاکرات میں “پیش رفت” ہوئی ہے۔
تیل پھر کیوں مہنگا ہوا؟
معاہدے کی امید پر پیر کو تیل 7 فیصد سے زیادہ گرا تھا۔ حملے کے بعد منگل کی صبح برینٹ 1.84 ڈالر بڑھ کر 106.61 ڈالر فی بیرل اور امریکی خام تیل 1.60 ڈالر بڑھ کر 98.06 ڈالر ہو گیا۔ اکتوبر کے آخر میں برینٹ چھ مہینے کی بلند ترین سطح پر تھا۔
پاکستان کے لیے کیا مطلب؟
پاکستان کا زیادہ تر تیل اور گیس ہرمز کے راستے آتا ہے۔ پیر کی کمی کی بنیاد پر حکومت نے منگل سے پیٹرول 3.40 روپے اور ڈیزل 7.76 روپے سستا کیا، لیکن اب قیمتیں روزانہ طے ہوتی ہیں، اس لیے خام تیل مہنگا رہا تو اثر پیٹرول پمپ پر جلد نظر آئے گا۔ چند دن پہلے ہرمز کے قریب پاکستان آنے والے ایک ایل این جی ٹینکر پر بھی حملہ ہوا تھا۔
اب نظر منگل کے امریکی ووٹ پر ہے، اور اس پر کہ صدر ٹرمپ، جو انتخابات کے بعد بڑے حملے دوبارہ شروع کرنے کا اشارہ دے چکے ہیں، بات چیت جاری رکھتے ہیں یا کشیدگی بڑھاتے ہیں۔



