آبنائے ہرمز: پاسداران انقلاب کا دعویٰ، بارودی سرنگوں سے 4 آئل ٹینکر تباہ

ایران کے پاسداران انقلاب کا کہنا ہے کہ ہرمز کے جنوب میں چار ٹینکر بارودی سرنگوں سے ٹکرا کر اب بھی جل رہے ہیں۔ دعوے کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوئی۔ پاکستان کے تیل پر کیا اثر ہو گا؟

Boats on the water in the Strait of Hormuz, with the mountains of the coast behind
تصویر: AFP

ایران کے پاسداران انقلاب (آئی آر جی سی) نے بدھ 4 نومبر کو کہا ہے کہ چار آئل ٹینکر آبنائے ہرمز کے جنوب میں ایک “ممنوعہ راستے” سے گزرنے کی کوشش میں بحری بارودی سرنگوں سے ٹکرا کر تباہ ہو گئے اور “اب بھی جل رہے ہیں”۔ اس دعوے کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔ پاسداران نے نہ ٹینکروں کے نام بتائے نہ یہ کہ ان پر کس ملک کا جھنڈا تھا، اور اب تک کسی شپنگ کمپنی نے بھی نقصان کی تصدیق نہیں کی۔

ایران کی سرکاری خبر ایجنسی ارنا کے ذریعے جاری بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ ایرانی قوانین کی خلاف ورزی پر دو دوسرے جہاز روک لیے گئے، اور پاسداران نے مقامی وقت کے مطابق صبح ساڑھے چار بجے آبنائے کے اوپر امریکی ساختہ ایم کیو 9 ڈرون مار گرایا، جسے انہوں نے اپنا 56واں ڈرون قرار دیا۔

کیا معلوم ہے اور کیا نہیں

ایران کا کہنا ہے کہ آبنائے اس کے کنٹرول میں ہے اور اس نے جہازوں کو صرف اپنے شمالی ساحل کے قریب والے راستے استعمال کرنے کا کہا ہے۔ امریکی فوج کی سینٹرل کمانڈ کہتی ہے کہ مرکزی جہاز رانی کے راستے بارودی سرنگوں سے صاف کر دیے گئے ہیں، اور الزام لگاتی ہے کہ ایران جہازوں پر میزائل اور گولے داغ رہا ہے۔ پاسداران اس کی تردید کرتے ہیں۔

دوسری طرف جہازوں پر حملوں کا ریکارڈ رکھنے والے برطانوی ادارے یو کے ایم ٹی او نے منگل کو بتایا کہ عمان کے علاقے لیمہ سے تقریباً 14 بحری میل شمال مشرق میں ایک ٹینکر کے انجن روم میں دو نامعلوم پروجیکٹائل لگے۔ کوئی زخمی نہیں ہوا۔ یہ واضح نہیں کہ یہ ٹینکر پاسداران کے بتائے گئے چار میں سے ایک ہے یا نہیں۔

ایک ہفتے میں یہ دوسری بار ہے کہ پاسداران نے چار جلتے ٹینکروں کا اعلان کیا ہے۔ 30 اکتوبر کو بھی ایسا ہی دعویٰ کیا گیا تھا جسے امریکا نے مسترد کر دیا تھا۔

حملے اور مذاکرات ساتھ ساتھ

یہ خبر اس کے ایک دن بعد آئی ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر امریکی حملوں کی تصدیق کی۔ ایرانی میڈیا کے مطابق یہ حملے آبنائے کے دہانے پر واقع جزیرہ قشم پر ہوئے۔ ٹرمپ نے اسے “معمولی حملہ” کہا جو “جنگ نہیں تھی”۔ امریکی حکام کے مطابق یہ دفاعی کارروائی تھی جو ایک امریکی طیارے پر ایرانی فائرنگ کے بعد کی گئی۔

مذاکرات بھی جاری ہیں۔ ایران نے پیشکش کی ہے کہ اگر واشنگٹن پابندیاں ہٹانے اور ایرانی بندرگاہوں کی امریکی بحری ناکہ بندی ختم کرنے سمیت سات شرائط مان لے تو آبنائے دو دن میں کھول دی جائے گی۔ ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی نے ایکس پر لکھا کہ امریکی جواب ناکافی ہے۔ قطر کی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ وہ دونوں فریقوں کی تجاویز فوری طور پر ایک دوسرے تک پہنچا رہی ہے۔ ایران کے چیف مذاکرات کار اور اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا کہ ایران “ٹریگر پر انگلی رکھے جنگ کے لیے تیار ہے”، جبکہ صدر مسعود پزشکیان نے کہا کہ حکومت بات چیت چاہتی ہے۔

پاکستان کے لیے یہ کیوں اہم ہے

پاکستان کا زیادہ تر خام تیل، ڈیزل اور ایل این جی خلیجی ملکوں سے اسی ایک راستے سے آتا ہے۔ پچھلے ہفتے کے آخر میں پاکستان آنے والے ایل این جی ٹینکر المائدہ پر آبنائے کے قریب حملہ ہوا تھا، جس کی خبر ہم نے یکم نومبر کو دی۔

تیل کی منڈی نے بدھ کے دعوے پر زیادہ ردعمل نہیں دیا۔ پاکستانی وقت کے مطابق دوپہر 2 بجے برینٹ خام تیل تقریباً 103.9 ڈالر فی بیرل پر تھا، یعنی دن میں چوتھائی فیصد سے کچھ زیادہ اضافہ۔ پاکستان میں آج ہی پیٹرول 5 روپے 45 پیسے فی لیٹر سستا ہو کر 369 روپے 6 پیسے ہوا ہے، اور حکومت چند دن میں قیمتیں پھر طے کرتی ہے، اس لیے اس ہفتے ہرمز میں جو ہو گا، اس کا اثر سیدھا پیٹرول پمپ کی قیمت پر پڑے گا۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا کوئی شپنگ کمپنی یا ملک ٹینکر کے نقصان کی تصدیق کرتا ہے، اور کیا امریکا ایران کی سات شرائط کا جواب دیتا ہے۔

مزید پڑھیں