ایران جنگ کی تازہ خبریں: آبنائے ہرمز میں مزید ٹینکر نشانہ، ٹرمپ کا جلد فیصلہ
ایران کا کہنا ہے کہ ہرمز میں مزید دو ٹینکر بارودی سرنگوں سے ٹکرائے؛ ٹرمپ نے دھمکی دی، پھر قطر کے امیر سے بات کی۔ پاکستان پر اثر۔

جمعہ 6 نومبر کو ایران جنگ ایک بار پھر دھمکیوں اور مذاکرات کے بیچ جھولتی رہی۔ ایران کے پاسدارانِ انقلاب (IRGC) نے کہا کہ آبنائے ہرمز میں اور اس کے قریب دو مزید آئل ٹینکر بارودی سرنگوں سے ٹکرا کر آگ پکڑ گئے۔ یہ دعویٰ اس کے ایک دن بعد آیا جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ انہیں ایران کا “بچا کھچا بھی تباہ” کرنا پڑ سکتا ہے۔ چند گھنٹے بعد ٹرمپ قطر کے امیر سے جنگ ختم کرنے پر فون پر بات کر رہے تھے۔
یہ پاسدارانِ انقلاب کے پہلے دعوے کی اگلی کڑی ہے، اور اس جنگ کا تازہ موڑ ہے جو 28 فروری کو ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں سے شروع ہوئی تھی۔
سمندر میں کیا ہوا
- IRGC کا دعویٰ (جمعہ): ایرانی سرکاری میڈیا پر نشر ہونے والے بیان کے مطابق دو ٹینکر بارودی سرنگوں سے ٹکرائے، ایک آبنائے کے مشرق میں اور ایک اس کے اندر۔ بیان کے مطابق انہوں نے اپنا نیویگیشن اور شناختی نظام بند کر کے غیر مجاز راستہ اختیار کیا تھا۔
- ایرانی سرکاری میڈیا (جمعرات): پانچ ٹینکروں اور ایک ٹگ بوٹ کے بارودی سرنگوں سے ٹکرا کر جلنے کی اطلاع دی گئی۔
- آزاد رپورٹیں: برطانیہ کے بحری سلامتی کے ادارے UKMTO کے مطابق عمان کے ساحل کے قریب نکلنے والے ایک ٹینکر نے پانی کی سطح پر دھماکے کی اطلاع دی؛ عملہ محفوظ رہا اور جہاز اپنے انجن سے چلتا رہا۔ ایک یونانی کمپنی کے مطابق اس کا خالی ٹینکر ویلوس سیفائر، جو بحرین جا رہا تھا، جمعرات کو مشتبہ میزائل سے نشانہ بنا اور ایک ملاح جاں بحق ہوا۔
کسی بحری ادارے نے ایران کے تمام دعووں کی تصدیق نہیں کی، اور ٹرمپ نے تہران پر الزام لگایا ہے کہ وہ تیل کی قیمتیں بڑھانے کے لیے واقعات گھڑ رہا ہے۔ IRGC نے جمعہ کو یہ بھی کہا کہ اس نے قشم جزیرے کے اوپر امریکی MQ-1 ڈرون مار گرایا؛ امریکہ نے اس کی تصدیق نہیں کی۔
ٹرمپ نے کیا کہا اور فون کس کو کیا
جمعرات کو اوول آفس میں ٹرمپ نے کہا کہ وہ ملک کا بچا کھچا حصہ تباہ نہیں کرنا چاہتے، “لیکن مجھے ایسا کرنا پڑ سکتا ہے۔ آپ کو بہت جلد پتا چل جائے گا۔” انہوں نے کہا کہ ایران کو دوبارہ تعمیر کے لیے 25 سال لگیں گے۔
جمعہ کو انہوں نے امیر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی کو فون کیا۔ قطر کے بیان کے مطابق دونوں نے کشیدگی کم کرنے کی سفارتی کوششوں پر بات کی اور امیر نے مذاکرات جاری رکھنے پر زور دیا۔ ادھر ایران نے اپنے سکیورٹی چیف محسن رضائی کو ماسکو بھیجا، جہاں انہوں نے صدر ولادیمیر پیوٹن سے ملاقات کی۔
واشنگٹن کی سیاست بھی بدل گئی ہے: اس ہفتے ڈیموکریٹس نے کانگریس کا کنٹرول جیت لیا، اور نائب صدر جے ڈی وینس نے لکھا کہ “ہم اس لیے ہارے کہ جنگ ہے۔”
پاکستان کے لیے کیوں اہم ہے
دنیا کا تقریباً پانچواں حصہ تیل عام طور پر ہرمز سے گزرتا ہے، اور پاکستان کا زیادہ تر ایندھن اور ایل این جی بھی اسی راستے سے آتی ہے۔ ہر ٹینکر حملے سے جہاز رانی اور انشورنس کے اخراجات بڑھتے ہیں، جو چند ہفتوں میں یہاں پیٹرول اور گیس کی قیمتوں تک پہنچ جاتے ہیں۔ پاکستان جنگ کے شروع میں ثالث کا کردار بھی ادا کر چکا ہے، اس لیے قطر کی قیادت میں چلنے والا راستہ اسلام آباد کی اپنی سفارت کاری کے لیے بھی اہم ہے۔
اگلی چیز ٹرمپ کا نئے حملوں کا فیصلہ ہے، جو ان کے بقول “بہت جلد” آئے گا۔



