پاکستان آنے والا ایل این جی ٹینکر المایدہ آبنائے ہرمز کے قریب حملے کی زد میں: گیس سپلائی پر اثر

پاکستان کے لیے گیس لانے والا قطری ٹینکر آبنائے ہرمز کے قریب نشانہ بنا اور واپس مڑ گیا۔ کیا ہوا، عملہ کیسا ہے اور سردیوں کی گیس کیوں مہنگی پڑ سکتی ہے۔

Cargo ships anchored at sea in the Gulf near the Strait of Hormuz
تصویر: Getty Images via Al Jazeera

پاکستان کے لیے مائع قدرتی گیس (ایل این جی) لانے والا ایک قطری ٹینکر جمعہ کی شام آبنائے ہرمز کے قریب “نامعلوم اشیاء” سے ٹکرایا اور واپس خلیج کی طرف مڑ گیا۔ جہاز کی مالک کمپنی نے یہ بات اتوار، یکم نومبر کو بتائی۔ عملے میں کوئی زخمی نہیں ہوا، لیکن یہ ابھی واضح نہیں کہ یہ گیس پاکستان پہنچے گی بھی یا نہیں، اور وہ بھی ایسے وقت جب سردیوں میں گیس کی مانگ بڑھنے لگی ہے۔

جہاز کا نام المایدہ ہے۔ یہ مارشل آئی لینڈز کے جھنڈے والا ایل این جی کیریئر ہے جو قطر گیس ٹرانسپورٹ کمپنی (نقلات) کی ملکیت ہے۔

جہاز کے ساتھ کیا ہوا

قطر اسٹاک ایکسچینج میں جمع کرائے گئے بیان میں کمپنی نے کہا کہ جہاز خلیج میں سفر کے دوران نشانہ بنا۔ کمپنی کے مطابق جہاز “محفوظ” اور “فعال” ہے، عملے کو کوئی چوٹ نہیں آئی اور ماحول کو نقصان نہیں پہنچا۔ نقصان کا اندازہ لگایا جا رہا ہے۔ جہازوں کی نقل و حرکت کے ڈیٹا کے مطابق حملے کے بعد ٹینکر نے رخ موڑ لیا۔

بھارت کے وزیر جہاز رانی سربانند سونووال نے کہا کہ جہاز پر پروجیکٹائل سے حملہ ہوا اور عملے کے تمام 25 ارکان، جن میں چھ بھارتی ہیں، محفوظ ہیں۔

ابھی تک کسی نے حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی اور ہتھیار کی شناخت بھی نہیں ہوئی۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران نے اجازت دے دی تھی

سب سے زیادہ توجہ وقت پر ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق پاکستان نے، پچھلے ہفتوں کی کئی قطری کھیپوں کی طرح، اس جہاز کے محفوظ گزرنے کے لیے بھی ایرانی حکام سے بات کی تھی اور ایران نے حملے سے صرف چند گھنٹے پہلے اجازت دی تھی۔ اسلام آباد یا تہران نے اس پر عوامی طور پر کچھ نہیں کہا۔

قطر کی وزارت خارجہ نے ایکس پر حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے “ایک خطرناک عمل” قرار دیا جو سمندری آمد و رفت اور عالمی توانائی کی سپلائی کے لیے خطرہ ہے۔ وزارت نے کہا کہ تحقیقات جاری ہیں اور قطر “تمام ضروری اقدامات کا حق محفوظ رکھتا ہے”۔

پاکستان کے لیے یہ کیوں اہم ہے

پاکستان بجلی گھروں، کھاد کے کارخانوں اور سردیوں میں گھروں کے ہیٹر اور چولہوں کی گیس کا بڑا حصہ قطر کی ایل این جی سے پورا کرتا ہے۔ امریکا ایران جنگ کے بعد ہرمز سے زیادہ تر آمد و رفت بند ہے، اس لیے ہر کھیپ کے لیے بات چیت کرنی پڑ رہی ہے۔

اکتوبر میں پاکستان کو قطر کی تین کھیپیں ملیں، لیکن اسی مہینے آبنائے سے ایل این جی کی ترسیل جنگ سے پہلے کے مقابلے میں صرف 30 فیصد کے قریب رہی۔ اگر المایدہ کی گیس نہ پہنچی تو پاکستان کو اسپاٹ مارکیٹ سے متبادل کھیپ خریدنی پڑے گی، جہاں قیمتیں جنگ سے پہلے کے مقابلے میں تین گنا سے زیادہ ہیں۔ مہنگی ایل این جی کا مطلب عموماً آر ایل این جی کی زیادہ قیمت اور گھروں اور صنعت کے لیے طویل لوڈ شیڈنگ ہوتا ہے۔

خلیج میں جہاز رانی شاید ہی کبھی اتنی خطرناک رہی ہو۔ انٹرنیشنل میری ٹائم آرگنائزیشن اور برطانیہ کی میری ٹائم سیکیورٹی ایجنسی کے مطابق جنگ شروع ہونے کے بعد 120 سے زیادہ تجارتی جہاز نشانہ بن چکے ہیں، اور اکتوبر اب تک کا بدترین مہینہ رہا جس میں کم از کم 29 جہاز نشانہ بنے۔

آگے کیا دیکھنا ہے

کیا المایدہ دوبارہ آبنائے پار کرنے کی کوشش کرے گا، کیا پیٹرولیم ڈویژن متبادل کھیپ کا انتظام کرتا ہے، اور اس مہینے سردی بڑھنے کے ساتھ سوئی گیس کی لوڈ شیڈنگ کے شیڈول میں کیا تبدیلی آتی ہے۔

مزید پڑھیں