کیا ورزش سے توجہ بڑھتی ہے؟ ہیوبرمن کی ورزش، ٹھنڈے پانی اور پڑھائی پر رائے

نیورو سائنسدان اینڈریو ہیوبرمن کے مطابق ورزش آپ کو چوکنا اور سیکھنے کے لیے تیار کرتی ہے، مگر خود بخود ذہین نہیں بناتی۔ سائنس کیا کہتی ہے۔

Neuroscientist Andrew Huberman
تصویر: Huberman Lab
Andrew Hubermanاصل ویڈیو دیکھیں (YouTube)

جی ہاں، ورزش توجہ بڑھانے میں مدد دے سکتی ہے، مگر ویسے نہیں جیسے بہت سے لوگ سمجھتے ہیں۔ جمعے کو شائع ہونے والی ایک مختصر ویڈیو میں اسٹین فورڈ کے نیورو سائنسدان ڈاکٹر اینڈریو ہیوبرمن بتاتے ہیں کہ درمیانی سے سخت ورزش چوکنا پن بڑھاتی ہے، اور یہی چوکنا پن بہتر سیکھنے کا موقع کھولتا ہے۔ ان کے الفاظ میں: “ورزش بذاتِ خود آپ کو ذہین نہیں بناتی”؛ سیکھنے کا کام پھر بھی آپ ہی کو کرنا ہے۔

مختصر بات

  • ورزش اور ٹھنڈے پانی کا سامنا، دونوں جسم اور دماغ میں چوکنا کرنے والے کیمیکل بڑھاتے ہیں۔
  • زیادہ چوکنا پن ہونے سے فوراً بعد پڑھنے یا مشق کرنے پر توجہ لگانا آسان ہوتا ہے۔
  • ورزش خود سیکھنا نہیں ہے۔ فائدہ تبھی ہے جب آپ اس موقع پر کام کریں۔
  • تحقیق کے مطابق ایک ورزش سے سوچنے کی صلاحیت میں اضافہ حقیقی ہے مگر معمولی۔
  • ٹھنڈا پانی ایڈرینالین جیسے کیمیکل کو تیزی سے بڑھاتا ہے، لیکن اس سے سیکھنا بہتر ہوتا ہے یا نہیں، یہ کم واضح ہے۔

ہیوبرمن کیا کہتے ہیں

ہیوبرمن اسٹین فورڈ اسکول آف میڈیسن میں نیوروبائیولوجی کے پروفیسر ہیں۔ وہ تین کیمیکل ایک ساتھ گنتے ہیں: ڈوپامین، نورایپینیفرین (نورایڈرینالین) اور ایڈرینالین، جنہیں کیٹیکولامینز کہا جاتا ہے۔ ورزش انہیں بڑھاتی ہے، اسی لیے ورزش سے لوگ صرف توانائی خرچ نہیں کرتے بلکہ “حاصل” بھی کرتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ یہ چوکنا کیفیت اس چیز کے لیے اچھا وقت ہے جسے وہ خود سے کی جانے والی نیوروپلاسٹیسٹی کہتے ہیں: یعنی سرگرمی سے مشق یا پڑھائی کرنا تاکہ دماغ نئے سرے سے جڑ جائے۔ ان کی بات ترتیب کی ہے: پہلے حرکت کریں، پھر بیٹھ کر توجہ لگائیں۔

وہ مزید کہتے ہیں کہ جان بوجھ کر ٹھنڈے پانی کا سامنا، جیسے ٹھنڈا شاور یا آئس باتھ، جسم میں ایڈرینالین اور ڈوپامین اور دماغ میں نورایپینیفرین بڑھاتا ہے، اور ابھرتے شواہد بتاتے ہیں کہ یہ دماغ کے انعامی راستوں میں ڈوپامین بھی بڑھا سکتا ہے۔ تفصیل وہ اپنی کتاب Protocols میں بیان کرتے ہیں۔

ہماری رائے: شواہد کیا کہتے ہیں

ورزش والی بات کو اچھی تائید حاصل ہے، ایک شرط کے ساتھ۔ جریدے Brain Research میں 2012 کے ایک میٹا اینالسس نے 79 مطالعات کو ملا کر دیکھا کہ ایک بار کی ورزش سوچنے کے کاموں میں کارکردگی بہتر کرتی ہے، لیکن اوسط اثر چھوٹا ہے اور اس پر منحصر ہے کہ ورزش کتنی سخت اور کتنی دیر کی تھی اور آپ کی فٹنس کیا ہے۔ اسے ایک ہلکا دھکا سمجھیں، کوئی سپر پاور نہیں۔

ٹھنڈے پانی کے بارے میں شواہد کیمیکلز کے لیے بہتر ہیں، سیکھنے کے لیے کم۔ European Journal of Applied Physiology میں 2000 کی ایک معروف تحقیق میں پایا گیا کہ 14 ڈگری سینٹی گریڈ کے پانی میں ایک گھنٹہ بیٹھنے سے خون میں نورایڈرینالین 530 فیصد اور ڈوپامین 250 فیصد بڑھ گئی۔ اس سے جسم کا الارم سسٹم چالو ہونا ثابت ہوتا ہے؛ یہ ثابت نہیں ہوتا کہ آپ بعد میں بہتر پڑھیں گے۔ ٹھنڈے پانی میں غوطہ ہر کسی کے لیے محفوظ نہیں: دل کے مریض یا ہائی بلڈ پریشر والے پہلے ڈاکٹر سے پوچھ لیں۔

پاکستانی طلبہ کے لیے کام کی بات مفت ہے۔ شام کی پڑھائی سے پہلے 20 منٹ کی تیز واک یا سیڑھیوں کے چند چکر لوڈ شیڈنگ اور بھرے گھروں میں جم کی ممبرشپ سے زیادہ آسانی سے ہو جاتے ہیں۔ سردیوں میں برف والے غسل کے بجائے چہرے پر ٹھنڈے، مگر برفیلے نہیں، پانی کے چھینٹے نرم راستہ ہیں۔

آج ہی آزمائیں

  1. 15 سے 20 منٹ تیز چلیں یا رسی کودیں۔
  2. ورزش ختم کرنے کے 30 منٹ کے اندر اپنا سب سے مشکل پڑھائی کا کام شروع کریں۔
  3. اس پہلے سیشن میں فون دوسرے کمرے میں رکھ دیں۔
  4. دیکھیں کہ کیا آپ ان دنوں کے مقابلے میں بہتر توجہ دیتے ہیں جب واک نہیں کی، اور اسی حساب سے ردوبدل کریں۔

یہ عمومی معلومات ہیں، طبی مشورہ نہیں۔

مزید پڑھیں