روز ایک ہی وقت پر پڑھائی کیوں؟ ہیوبرمین "انٹرینمنٹ" اور توجہ پر
نیوروسائنٹسٹ اینڈریو ہیوبرمین کہتے ہیں کہ دماغ سیکھ لیتا ہے کہ کب تیز ہونا ہے۔ "انٹرینمنٹ" کیا ہے اور اسے پڑھائی، کام اور ورزش میں کیسے استعمال کریں۔


اگر آپ روز تقریباً ایک ہی وقت پر پڑھتے یا کام کرتے ہیں تو اس وقت کے آنے سے پہلے ہی آپ کا دماغ زیادہ چوکس ہونے لگتا ہے۔ اسٹینفورڈ کے نیوروسائنٹسٹ ڈاکٹر اینڈریو ہیوبرمین نے “انٹرینمنٹ” پر ایک مختصر نئی ویڈیو میں یہی بات سمجھائی ہے، اور توجہ بڑھانے کا یہ سب سے سستا طریقہ ہے۔
انہوں نے یہ ویڈیو 23 اکتوبر کو پوسٹ کی اور چند دنوں میں اس کے 2 لاکھ سے زیادہ ویوز ہو گئے۔ پوری ویڈیو تین منٹ کی ہے، اس لیے ہم نے اسے مکمل لگایا ہے۔
مختصر بات
- جسم کی گھڑی خود چلتی ہے، مگر سورج نکلنے اور ڈوبنے کے ساتھ ہم آہنگ ہو تو بہترین کام کرتی ہے۔
- یہی ہم آہنگی چھوٹے پیمانے پر بھی ہوتی ہے: باقاعدہ وقت پر ورزش، پڑھائی یا کام کریں تو توانائی اور توجہ پہلے سے بڑھنے لگتی ہے۔
- ہیوبرمین کے مطابق اس کا کچھ حصہ نفسیاتی ہے، مگر بڑا حصہ جسمانی: چوکسی کنٹرول کرنے والے کیمیکل روٹین کو جواب دیتے ہیں۔
- ان کے مطابق باقاعدہ شیڈول کے دو تین دن عموماً فرق محسوس کرنے کے لیے کافی ہیں۔
- سختی کی ضرورت نہیں۔ مقصد اپنے بہترین اوقات پہچاننا اور ان کی حفاظت کرنا ہے۔
انٹرینمنٹ کیا ہے؟
حیاتیات میں انٹرینمنٹ کا مطلب ہے کہ اندرونی ردھم کسی بیرونی اشارے سے جڑ جائے۔ سب سے مشہور مثال سرکیڈین ردھم ہے، یعنی نیند اور چوکسی کا 24 گھنٹے کا چکر۔ امریکی نیشنل انسٹی ٹیوٹس آف ہیلتھ کے مطابق آنکھوں تک پہنچنے والی روشنی وہ بنیادی اشارہ ہے جو دماغ کے ایک حصے کے ذریعے اس گھڑی کو دن اور رات کے ساتھ رکھتا ہے۔
ہیوبرمین کہتے ہیں کہ جو لوگ رات کو جاگ کر زندگی گزارنے کی کوشش کرتے ہیں انہیں صحت کی قیمت چکانی پڑتی ہے، جبکہ نیند کو تھوڑا بھی سورج کے مطابق کرنے والوں کو فائدہ ہوتا ہے۔ این آئی ایچ کے مطابق بگڑے ردھم کا فوری اثر سیکھنے اور توجہ میں مشکل ہے، اور طویل اثرات میں نیند اور موڈ کے مسائل شامل ہیں۔
ہیوبرمین روز ایک وقت پر کام کے بارے میں کیا کہتے ہیں
وہ نیند والی بات کو روزمرہ عادتوں تک لے جاتے ہیں۔ ان کے مطابق چند دن ایک ہی وقت پر ورزش کریں تو معمول کے وقت سے چند منٹ پہلے توانائی بڑھنے لگتی ہے۔ روز ایک ہی وقت پر پڑھیں تو ذہنی تیزی پہلے سے بڑھنے لگتی ہے۔
وہ اپنی مثال دیتے ہیں، اصول کے طور پر نہیں: صبح جلدی کتے کو گھمانا اور ورزش، پھر تقریباً 10 سے 2 بجے اور دوبارہ 3 سے 7 بجے تک بہترین توجہ۔ وہ لکھتے ہیں “یہ صرف میرا معاملہ ہے” اور ناظرین سے اپنا شیڈول خود ڈھونڈنے کا کہتے ہیں۔
ہماری رائے
نیند والا حصہ مضبوط سائنس پر کھڑا ہے؛ سرکیڈین گھڑی صحت کی سب سے ٹھوس تحقیق میں سے ہے۔ یہ دعویٰ کہ دماغ باقاعدہ پڑھائی کے وقت کے لیے پہلے سے تیار ہو جاتا ہے، معقول ہے اور عادتوں کے کام کرنے کے طریقے سے ملتا ہے، مگر اس کی پیمائش کم ہوئی ہے، اور ہیوبرمین خود اسے جزوی طور پر نفسیاتی کہتے ہیں۔ اسے مفید عادت سمجھیں، کوئی جادوئی نسخہ نہیں۔
یہ پاکستانی طلبہ کے لیے خاص طور پر امتحانوں کے دنوں میں کارآمد ہے: مشترکہ خاندان کے مصروف گھر میں “جب وقت ملا” سے مقررہ وقت بہتر ہے۔ یہاں مشکل لوڈشیڈنگ اور رات دیر تک جاگنے کی عادت ہے۔ اگر بجلی جانے کا وقت معلوم ہے تو پڑھائی کا وقت اس کے گرد رکھیں، اور روز ایک ہی گھنٹے پر رکھیں۔
یہ عمومی معلومات ہیں، طبی مشورہ نہیں۔ اگر نیند یا توجہ کی کمی زندگی پر اثر ڈال رہی ہے تو ڈاکٹر سے بات کریں۔
آج یہ آزمائیں
- پڑھائی یا گہرے کام کے لیے 60 سے 90 منٹ کا ایک وقت چنیں اور اگلے تین دن یہی وقت رکھیں۔
- ہر بار ایک ہی چھوٹے کام سے آغاز کریں: وہی کرسی، پانی کا گلاس، فون دوسرے کمرے میں۔
- صبح باہر کی روشنی لیں اور ویک اینڈ پر سونے کا وقت گھنٹوں آگے پیچھے نہ کریں۔
- چوتھے دن دیکھیں کہ کیا بیٹھنا آسان لگ رہا ہے۔ اگر ہاں، تو یہ وقت برقرار رکھیں۔
ذرائع
یہ خبر اے آئی کی مدد سے تحقیق اور تحریر کی گئی، پھر شائع کرنے سے پہلے ہمارے ایڈیٹر نے اس کی جانچ اور تدوین کی۔



