رات 3 بجے سوچوں میں گم؟ ہیوبرمین کہتے ہیں 2 سے 5 بجے کی سوچ پر بھروسہ نہ کریں

نیورو سائنسدان اینڈریو ہیوبرمین کے مطابق رات 2 سے 5 بجے کے درمیان دماغ جذبات اور فیصلوں کو ٹھیک سے نہیں سنبھالتا۔ اس کا مطلب، سائنس اور کیا کریں۔

Huberman Lab episode cover with Andrew Huberman and Ross Edgley
تصویر: Huberman Lab
Andrew Hubermanاصل ویڈیو دیکھیں (YouTube)

اگر آپ رات 3 بجے آنکھ کھلنے پر یقین کر لیتے ہیں کہ نوکری، رشتہ یا مستقبل سب بکھر رہا ہے، تو اسٹینفورڈ کے نیورو سائنسدان اینڈریو ہیوبرمین کا مشورہ سادہ ہے: ابھی اس پر یقین نہ کریں اور کوئی فیصلہ نہ کریں۔ ہفتہ 31 اکتوبر کو پوسٹ کی گئی ایک مختصر ویڈیو میں انہوں نے کہا کہ زیادہ تر لوگوں کا دماغ رات 2 سے 5 بجے کے درمیان جذبات، منطق اور منصوبہ بندی کو اچھی طرح نہیں سنبھالتا، اس لیے ان گھنٹوں کی سوچ کو کم اہمیت دینی چاہیے۔

مختصر بات

  • ہیوبرمین کے مطابق تقریباً رات 2 سے 5 بجے کے درمیان دماغ کا اگلا حصہ جذبات کو قابو میں رکھنے کا کام کمزور کرتا ہے۔
  • اسی لیے رات کی پریشانیاں صبح کے مقابلے میں زیادہ بڑی اور تاریک لگتی ہیں۔
  • ان گھنٹوں میں کوئی اہم فیصلہ نہ کریں اور اہم پیغام نہ بھیجیں، سوائے اصل ایمرجنسی کے۔
  • چار سے چھ گھنٹے انتظار کریں، ہو سکے تو مزید نیند لیں؛ ذہن زیادہ صاف ہو گا۔
  • یہ بات عام دن کے معمول والوں پر لاگو ہوتی ہے، رات کی شفٹ والوں پر نہیں جن کی جسمانی گھڑی بدلی ہوئی ہے۔

ہیوبرمین کیا کہتے ہیں

یہ کلپ ان کے حالیہ پوڈکاسٹ سے ہے جو برطانوی لمبی دوری کے تیراک راس ایجلی کے ساتھ موٹیویشن پر تھا۔ گفتگو اس طرف مڑی کہ جسمانی گھڑی دن اور رات میں ہماری سوچ کو کیسے بدلتی ہے۔

اسٹینفورڈ میں نیورو بائیولوجی کے پروفیسر ہیوبرمین کہتے ہیں کہ جتنی دیر آپ جاگتے رہیں، اور خاص طور پر اگر آپ رات 2 سے 5 بجے کے درمیان جاگ رہے ہوں، دماغ کا اگلا حصہ جذبات، منطقی سوچ اور حکمت عملی والے فیصلوں کو اتنا ہی کم سنبھالتا ہے۔ وہ صاف کہتے ہیں کہ ان گھنٹوں میں دماغ “سنجیدہ حد تک کمزور” ہوتا ہے۔

وہ واضح کرتے ہیں کہ یہ ان لوگوں کی بات ہے جو عموماً رات 9 سے 12 بجے کے درمیان سوتے اور صبح 5 سے 8 بجے کے درمیان اٹھتے ہیں۔ رات کو کام اور دن کو سونے والوں کی گھڑی مختلف ہے۔

ان کا مشورہ ہے کہ آدھی رات کی سوچوں پر نہ گھبرائیں اور نہ ان پر عمل کریں۔ چار سے چھ گھنٹے انتظار کریں، آپ “کہیں زیادہ تیز” سوچ رہے ہوں گے۔

کیا اس کے پیچھے سائنس ہے؟

ہاں، اگرچہ اس پر ابھی تحقیق جاری ہے۔ 2022 میں یونیورسٹی آف پنسلوینیا، یونیورسٹی آف ایریزونا اور ہارورڈ کے نیند کے محققین نے جریدے Frontiers in Network Physiology میں “مائنڈ آفٹر مڈنائٹ” کے نام سے ایک جائزہ شائع کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ آدھی رات کے بعد جاگنا، جب جسمانی گھڑی نیند کے لیے تیار ہوتی ہے، دماغ کو منفی جذبات، کم ضبط اور خطرناک فیصلوں کی طرف جھکا دیتا ہے۔ انہوں نے رات کے وقت کچھ نقصان دہ رویوں کی زیادہ شرح کو ثبوت کے طور پر پیش کیا۔

مصنفین نے خود اسے ایک مفروضہ کہا جسے ابھی پرکھنا باقی ہے، اس لیے اسے قانون نہیں بلکہ ایک مضبوط رجحان سمجھیں۔

ہماری رائے

یہ اس مہینے سننے والے سب سے کارآمد اور کم خطرے والے مشوروں میں سے ہے۔ کوئی سپلیمنٹ یا گیجٹ نہیں چاہیے، بس وقت پر نظر رکھنی ہے۔

پاکستان کی زندگی سے یہ خوب ملتا ہے۔ امتحان سے پہلے رات بھر جاگنے والے طلبہ، لوڈ شیڈنگ میں پنکھا بند ہونے پر جاگتے لوگ، رات 3 بجے نوکری کی خبریں دیکھتے نوجوان: سب تھکے ہوئے دماغ سے اپنی زندگی کو پرکھ رہے ہوتے ہیں۔ گھروں میں بھی مشکل باتیں اکثر رات گئے ہوتی ہیں جب سب گھر آ چکے ہوں۔ “آدھی رات کے بعد کوئی بڑا فیصلہ نہیں” کا اصول بہت سی پچھتاووں سے بچاتا ہے۔

کسے محتاط رہنا چاہیے: اگر رات کی سوچیں خود کو نقصان پہنچانے کی ہوں، یا ہفتوں سے زیادہ تر راتیں بےچینی میں آنکھ کھلتی ہو، تو یہ اکیلے انتظار کرنے والی بات نہیں۔ ڈاکٹر سے بات کریں۔

آج یہ آزمائیں

  1. بستر کے پاس ایک کاپی رکھیں۔ کوئی پریشانی جگائے تو لکھ لیں اور خود سے کہیں کہ صبح 10 بجے دیکھیں گے۔
  2. رات کو آنکھ کھلے تو واٹس ایپ، ای میل یا بینک ایپ نہ کھولیں۔
  3. صبح اٹھ کر چند منٹ دن کی روشنی لیں؛ اس سے جسمانی گھڑی سیٹ ہوتی ہے اور رات کو کم آنکھ کھلتی ہے۔
  4. رات 3 بجے کا نوٹ اگلی صبح دوبارہ پڑھیں اور دیکھیں وہ اب کیسا لگتا ہے۔

یہ عمومی معلومات ہیں، طبی مشورہ نہیں۔ اگر بےچینی یا اداسی آپ کی نیند یا روزمرہ زندگی کو متاثر کر رہی ہے تو ڈاکٹر یا کسی قابل اعتماد شخص سے بات کریں۔

مزید پڑھیں