کیا ٹراما ہمیشہ جسم میں رہتا ہے؟ تھراپسٹ ایما میک ایڈم اور اعصابی نظام کی 3 غلط فہمیاں

"ڈس ریگولیٹڈ نروس سسٹم" آج کل ہر جگہ ہے۔ تھراپسٹ ایما میک ایڈم بتاتی ہیں کہ سکون مقصد کیوں نہیں، اور ٹراما مستقل نقصان کیوں نہیں۔

Therapist Emma McAdam holding a smoke alarm in her video thumbnail captioned I was wrong
تصویر: Therapy in a Nutshell
Therapy in a Nutshellمکمل قسط کا حصہ: 11:06–16:14مکمل قسط یوٹیوب پر دیکھیں

لائسنس یافتہ تھراپسٹ ایما میک ایڈم کا جواب ہے: نہیں۔ ماضی کا ٹراما آپ کے جسم کے ردعمل پر اثر ڈالتا ہے، مگر آپ کو ہمیشہ کے لیے “خراب” نہیں کر دیتا۔ تھراپی ان اے نٹ شیل کی نئی ویڈیو میں وہ اعصابی نظام کے بارے میں تین مقبول باتوں کی وضاحت کرتی ہیں اور کہتی ہیں کہ اصل مقصد لچک ہے، ہر وقت پرسکون رہنا نہیں۔

ایما میک ایڈم امریکا میں لائسنس یافتہ میرج اینڈ فیملی تھراپسٹ ہیں اور تھراپی ان اے نٹ شیل چینل چلاتی ہیں۔ نیچے ویڈیو کا ٹراما والا حصہ ہے۔

مختصر بات

  • صحت مند اعصابی نظام ہر وقت پرسکون نہیں ہوتا۔ اصل مسئلہ ہو تو بے چینی، غصہ اور چوکنا ہونا فطری ہے۔
  • مقصد لچک ہے: مسئلہ صحیح پہچانیں، اس پر کچھ کریں، پھر واپس سکون میں آئیں۔
  • ٹراما ردعمل بناتا ہے، مگر یہ ردعمل آج ہوتے ہیں، اس لیے آج ہی نئے ردعمل کی مشق ہو سکتی ہے۔
  • پولی ویگل تھیوری، جس پر بہت سے “ویگس نرو ہیکس” بنے ہیں، سائنسی طور پر متنازع ہے، لیکن اس سے جسم پر مبنی ہر طریقہ بیکار نہیں ہو جاتا۔
  • سانس کی مشق، مائنڈفلنس، ورزش، بائیو فیڈ بیک اور بتدریج سامنا کرنے کے طریقوں کے پیچھے شواہد موجود ہیں۔

ایما میک ایڈم کیا کہتی ہیں

سکون ہدف نہیں۔ ان کے مطابق انٹرنیٹ نے “ریگولیشن” کو ہر وقت آرام میں رہنے کا وعدہ بنا دیا ہے۔ اگر واقعی کچھ غلط ہو تو جسم کا الرٹ ہونا ٹھیک ہے۔ ریگولیٹڈ ہونے کا مطلب ہے مسئلہ صاف دیکھنا، مفید قدم اٹھانا اور پھر تحفظ اور تعلق کے احساس میں واپس آنا۔

جسم حساب رکھتا ہے، مگر ہمیشہ کے لیے نہیں۔ یہ جملہ ٹراما پر ایک مشہور کتاب سے آیا ہے اور میک ایڈم اسے رد نہیں کرتیں۔ ماضی کے تجربات ہمارے ردعمل ضرور بناتے ہیں، لیکن چونکہ یہ پرانے انداز آج سامنے آتے ہیں، اس لیے آج ہی انہیں بدلا جا سکتا ہے: تحفظ بنا کر، مسائل حل کر کے، حدیں طے کر کے اور اپنی زندگی پر اختیار کا احساس واپس لا کر۔

پولی ویگل تھیوری کے سنجیدہ ناقد ہیں۔ آن لائن “ڈس ریگولیشن” کی زیادہ تر زبان اسی تھیوری سے آئی ہے۔ میک ایڈم بتاتی ہیں کہ اس کے کچھ حصوں پر سخت سائنسی تنقید ہوئی ہے، لیکن سب کچھ رد کرنے کی ضرورت نہیں: ذہن اور جسم کا تعلق حقیقی ہے۔

ہماری رائے

یہ ایک مفید اصلاح ہے۔ سوشل میڈیا پر بہت سا ویلنس مواد لوگوں کو بتاتا ہے کہ ان کا جسم “پھنسا” ہوا ہے اور پھر کوئی کورس بیچتا ہے۔ میک ایڈم کی بات زیادہ پرامید اور ایماندار ہے: آپ کو مکمل پرسکون جسم نہیں، مختلف ردعمل کی مشق چاہیے۔

پولی ویگل پر بحث حقیقی ہے۔ 2025 میں محققین کے ایک بین الاقوامی گروپ نے جریدے کلینیکل نیوروسائیکیٹری میں سخت تنقید شائع کی اور تھیوری کے بانی اسٹیفن پورجیز نے جواب میں اس کا دفاع کیا۔ عام قاری کے لیے محفوظ بات وہی ہے جو میک ایڈم کہتی ہیں: شواہد والے طریقے اپنائیں اور “ویگس نرو ری سیٹ” کے وعدوں سے دور رہیں۔

پاکستان میں بہت سے لوگ نقصان، تشدد یا خاندانی دباؤ اٹھاتے ہیں مگر اسے کبھی ٹراما نہیں کہتے۔ یہ خیال کہ تبدیلی آج ممکن ہے، بتاتا ہے کہ برسوں بعد بھی مدد کام آتی ہے۔ برطانیہ کی سرکاری صحت سروس این ایچ ایس کے مطابق پی ٹی ایس ڈی زیادہ تر لوگوں میں بہتر ہو جاتا ہے، اور ٹراما پر مرکوز سی بی ٹی اور ای ایم ڈی آر جیسی تھراپی مدد کرتی ہے۔

آج یہ آزمائیں

  1. جب بے چینی ہو تو پوچھیں: کیا ابھی کوئی اصل مسئلہ ہے؟ اگر ہاں، تو اس پر ایک چھوٹا قدم اٹھائیں۔
  2. اگر نہیں، تو دو منٹ آہستہ سانس لیں، سانس اندر لینے سے زیادہ دیر باہر نکالیں۔
  3. 15 منٹ چہل قدمی کریں۔ حرکت جسم کو پرسکون کرنے کے سب سے ثابت شدہ طریقوں میں سے ہے۔
  4. کوئی ایسی جگہ یا شخص سوچیں جہاں آپ محفوظ محسوس کرتے ہیں، اور اس ہفتے وہاں وقت گزاریں۔

ویڈیو کے دوسرے حصے

  • 0:58 ریگولیشن کا مطلب ہر وقت سکون کیوں نہیں
  • 1:55 جب اعصابی نظام الرٹ ہو تو کیا کریں
  • 16:14 پولی ویگل تھیوری پر تنقید
  • 19:09 تینوں غلط فہمیوں کا خلاصہ

یہ معلومات کے لیے ہے، طبی مشورہ نہیں۔ اگر ماضی کے واقعات اب بھی آپ کی نیند، کام یا رشتوں پر اثر ڈال رہے ہیں تو کسی ڈاکٹر، ماہر نفسیات یا قابل اعتماد شخص سے بات کریں۔

مزید پڑھیں