فیصلوں پر اوور تھنکنگ کیسے روکیں: ماہرِ نفسیات ایڈم گرانٹ کا 'تیسرا دروازہ' اصول
دو راستوں میں پھنسے ہیں؟ ایڈم گرانٹ کہتے ہیں زیادہ سوچنا اکثر کم سوچنا ہوتا ہے۔ راستہ بدلنے کے تین اشارے اور وہ سوال جو نئے آپشن کھولتا ہے۔


اگر آپ کسی فیصلے پر بار بار ایک ہی جگہ گھوم رہے ہیں تو ادارہ جاتی ماہرِ نفسیات ایڈم گرانٹ کی تشخیص حیران کن ہے: “زیادہ سوچنا اکثر دراصل کم سوچنا ہوتا ہے۔” اس ہفتے میل رابنز پوڈکاسٹ پر وارٹن اسکول کے اس پروفیسر نے بتایا کہ لوگ دو ہی آپشنز کو بار بار دہراتے رہتے ہیں، اور حل یہ ہے کہ تیسرا آپشن ڈھونڈا جائے۔
مختصراً
- اوور تھنکنگ کا مطلب اکثر صرف دو آپشنز پر اٹکے رہنا ہے۔ خود سے پوچھیں: تیسرے دروازے کے پیچھے کیا ہے؟
- نوکری میں صرف رہنا یا چھوڑنا ہی راستے نہیں، اکثر کام کی شکل خود بدلی جا سکتی ہے۔
- پہلے سے طے کریں کہ کون سی بات بتائے گی کہ راستہ ٹھیک نہیں، اور ایک مقررہ تاریخ پر جائزہ لیں۔
- ایسے لوگ پاس رکھیں جو ایمانداری سے بتائیں کہ آپ رک گئے ہیں۔
- پھنس گئے ہیں؟ سوچیں آپ اپنی جگہ کسی دوست کو کیا مشورہ دیتے۔ اکثر وہی آپ کا جواب ہوتا ہے۔
- بڑی تبدیلی کو اچھا لگنے میں وقت لگتا ہے۔ نئی نوکری میں جمنے میں تقریباً ایک سال لگ سکتا ہے۔
پھنس جانے کے بارے میں ایڈم گرانٹ کیا کہتے ہیں
میل رابنز نے یہ حصہ گرانٹ کی کتاب ہڈن پوٹینشل کی ایک بات سے شروع کیا: جب لوگوں کو راستہ نظر نہیں آتا تو وہ منزل کا خواب دیکھنا چھوڑ دیتے ہیں۔ گرانٹ کے مطابق بہت سے لوگ یہ سوچ کر خاموشی سے مقصد چھوڑ دیتے ہیں کہ یہ عملی نہیں۔
اس کا الٹ جال وہ ہے جسے محققین “اسکیلیشن آف کمٹمنٹ” کہتے ہیں: کسی ناکام راستے پر صرف اس لیے ڈٹے رہنا کہ اس پر برسوں لگا چکے ہیں۔ گرانٹ کے الفاظ میں: “یہ جلد مان لینا کہیں بہتر ہے کہ پچھلے دو سال ضائع ہوئے، بجائے اس کے کہ اگلے بیس سال ضائع کیے جائیں۔”
انہوں نے مانا کہ راستہ بدلنے کا وقت کبھی یقینی طور پر معلوم نہیں ہوتا، مگر تین طریقے بتائے۔ پہلا، شرائط پہلے سے طے کریں، جیسے ہر چھ ماہ بعد “کیریئر چیک اپ” جس میں پہلے سے طے ہو کہ کیا چیز چھوڑنے کا اشارہ ہوگی۔ دوسرا، ایسے دوست، استاد یا شریکِ حیات پر بھروسہ کریں جو آپ سے پہلے بھانپ لیں کہ آپ ایک جگہ رک گئے ہیں۔ تیسرا، وہ اصول استعمال کریں جسے ماہرینِ نفسیات “سلیمان کا تضاد” کہتے ہیں: ہم دوسروں کے مسئلوں پر اپنے مسئلوں سے زیادہ سمجھداری سے سوچتے ہیں، اس لیے تصور کریں کہ آپ کسی اور کو مشورہ دے رہے ہیں۔
زیادہ سوچنا اکثر کم سوچنا کیوں ہوتا ہے
گرانٹ نے مینجمنٹ کے محقق پال نٹ کی تحقیق کا حوالہ دیا جس میں اداروں کے سینکڑوں فیصلوں کا جائزہ لیا گیا اور تقریباً آدھے ناکام رہے۔ ان کے مطابق سب سے واضح خطرے کی علامت یہ تھی کہ فیصلہ کرنے والوں نے صرف دو آپشنز پر غور کیا تھا۔ ساتھ ہی گرانٹ نے احتیاطاً کہا کہ وہ یقین سے نہیں کہہ سکتے کہ تیسرا آپشن بہتر فیصلے کی وجہ بنتا ہے یا محتاط لوگ ویسے ہی زیادہ آپشنز دیکھتے ہیں۔
کیریئر کے لیے انہوں نے “جاب کرافٹنگ” کا مشورہ دیا، جو محققین ایمی ورزیسنیئسکی اور جین ڈٹن کا تصور ہے: صرف رہنے یا چھوڑنے کے بجائے اپنے کام اور ساتھ کام کرنے والوں کو بدلنا۔ انہوں نے آسٹریلیا کی ایک بڑی تحقیق کا بھی ذکر کیا جس کے مطابق بہت ناخوش لوگ نوکری چھوڑنے کے بعد کچھ عرصہ اکثر پہلے سے کم خوش رہے۔ ساتھ ہی واضح کیا کہ اگر کام بے معنی ہو یا باس بدسلوکی کرے تو چھوڑنا ہی درست ہے۔
ہماری رائے
ان میں سب سے مضبوط بنیاد سلیمان کے تضاد والی بات کی ہے۔ ماہرینِ نفسیات ایگور گروسمین اور ایتھن کراس نے 2014 میں 693 افراد پر تحقیق میں دیکھا کہ لوگ دوست کے مسئلے پر اپنے مسئلے سے زیادہ دانشمندی سے سوچتے ہیں، اور اپنے مسئلے کو فاصلے سے، حتیٰ کہ تیسرے شخص کی زبان میں سوچنے سے یہ فرق کافی حد تک ختم ہو جاتا ہے۔ “دو آپشنز” والی بات کارآمد ہے، مگر جیسا خود گرانٹ نے کہا، یہ ایک رجحان ہے، ثبوت نہیں۔
پاکستان میں فیصلے کم ہی اکیلے ہوتے ہیں۔ کیریئر بدلنے میں والدین، رشتے اور گھر کا بجٹ سب شامل ہوتے ہیں، اور “تیسرا دروازہ” کوئی پارٹ ٹائم کورس، ساتھ ساتھ فری لانسنگ کا تجربہ یا مکمل چھلانگ سے پہلے اسی کمپنی میں تبادلہ ہو سکتا ہے۔ اگر آپ گھر کے واحد کمانے والے ہیں تو پہلے سے طے شدہ جائزے کی تاریخ اور بھی اہم ہے، تاکہ مشکل فیصلہ کسی برے ہفتے کے بعد نہیں، سکون سے ہو۔
آج یہ کر کے دیکھیں
- جس فیصلے پر بار بار اٹکتے ہیں اسے لکھیں، پھر زبردستی تیسرا اور چوتھا آپشن بھی لکھیں۔
- تین یا چھ ماہ بعد کی تاریخ چنیں اور لکھیں کہ کون سی بات آپ کو راستہ بدلنے کا اشارہ دے گی۔
- اپنا مسئلہ تیسرے شخص میں بیان کریں (“علی سوچ رہا ہے کہ…”) اور اسے جو مشورہ دیں وہ لکھیں۔
- ایک ایسے شخص کا نام سوچیں جو آپ سے سچ بولے، اور اسی ہفتے اس سے بات کریں۔
یہ عمومی معلومات ہیں، طبی یا کیریئر مشورہ نہیں۔ اگر زیادہ سوچنے کے ساتھ مسلسل پریشانی، نیند کی خرابی یا اداسی ہو تو ڈاکٹر یا مستند ماہرِ نفسیات سے بات کریں۔
قسط کے دوسرے حصے
ذرائع
یہ خبر اے آئی کی مدد سے تحقیق اور تحریر کی گئی، پھر شائع کرنے سے پہلے ہمارے ایڈیٹر نے اس کی جانچ اور تدوین کی۔



