جینسن ہوانگ اور چینی جاسوس کی رپورٹ: الزام کیا ہے اور اینویڈیا کیا کہتی ہے
رپورٹس کے مطابق امریکی انٹیلی جنس کو شبہ ہے کہ اینویڈیا کے سی ای او سے ملنے والی میگا اسپیڈ کی ایک ایگزیکٹو چینی ایجنٹ تھیں۔ اینویڈیا نے ملاقاتوں کو معمول قرار دیا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی انٹیلی جنس اداروں کو شبہ ہے کہ سنگاپور کی ڈیٹا سینٹر کمپنی میگا اسپیڈ، جو اینویڈیا کی گاہک ہے، کی ایک خاتون ایگزیکٹو چینی انٹیلی جنس کے لیے کام کر رہی تھیں اور اسی دوران ان کا اینویڈیا کے سربراہ جینسن ہوانگ سے رابطہ رہا۔ یہ رپورٹس جمعرات 29 اکتوبر کو سامنے آئیں۔ اینویڈیا کا کہنا ہے کہ یہ ملاقاتیں عام کاروباری معاملات تھیں، اور اب تک کی کسی رپورٹ میں یہ نہیں کہا گیا کہ ہوانگ کو اس کردار کا علم تھا یا انہوں نے کوئی خفیہ بات بتائی۔
یہ خبر ایسے وقت آئی جب اے آئی کمپنیوں کے حصص پہلے ہی دباؤ میں تھے، اور یہ دنیا کی سب سے طاقتور اے آئی چِپس پر امریکہ اور چین کی کشمکش کے عین بیچ میں ہے۔
الزام کیا ہے
ایک خفیہ امریکی تحقیقات کے حوالے سے سامنے آنے والی رپورٹس کا مرکز ایلس ہوانگ ہیں، جنہیں ہوانگ لی بھی کہا جاتا ہے۔ 2023 میں میگا اسپیڈ کے آغاز کے بعد کچھ عرصہ وہ اس کی منیجنگ ڈائریکٹر کے طور پر درج تھیں، بعد میں ان کا نام کمپنی کے کاغذات سے ہٹا دیا گیا۔
رپورٹس کے مطابق:
- امریکی اداروں نے نتیجہ نکالا کہ وہ چینی انٹیلی جنس کی اثاثہ تھیں اور ان کی نگرانی کی جاتی رہی۔
- اسی نگرانی میں جینسن ہوانگ سے ان کے رابطے سامنے آئے، جن میں 2024 کے وسط میں تائی پے کی ایک ٹیک نمائش کی تقریب بھی شامل ہے۔ ان کے درمیان کیا بات ہوئی، یہ ظاہر نہیں کیا گیا۔
- حکام کو خدشہ تھا کہ وہ اینویڈیا یا امریکہ کی چین سے متعلق چِپ پالیسی کے بارے میں حساس معلومات حاصل کر سکتی ہیں۔
- صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو تقریباً ایک سال پہلے بریفنگ دی گئی مگر انہوں نے کوئی قدم نہیں اٹھایا۔ جینسن ہوانگ کو مبینہ طور پر کبھی باضابطہ خبردار نہیں کیا گیا۔
امریکی حکومت نے ان میں سے کسی بات کی تصدیق نہیں کی۔ رپورٹس آنے تک وائٹ ہاؤس اور سی آئی اے نے کوئی تبصرہ نہیں کیا تھا۔
پیچھے چِپ اسمگلنگ کا سوال
میگا اسپیڈ پہلے ہی نظروں میں تھی۔ 2024 کے آخر میں امریکی محکمہ تجارت کے ایک اہلکار نے ملائیشیا میں اس کے ڈیٹا سینٹر کا دورہ کیا تو اینویڈیا کا سامان ڈبوں میں بند پڑا دیکھا، جس سے شبہ ہوا کہ یہ چِپس کہیں اور، ممکنہ طور پر چین، بھیجنے کے لیے تھیں۔ چین کو جدید ترین چِپس خریدنے کی اجازت نہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق تجارتی ریکارڈ بتاتا ہے کہ اس کی ملائیشین ذیلی کمپنی نے جون 2024 سے فروری 2026 کے دوران کم از کم 4.8 ارب ڈالر کا اے آئی سامان خریدا جس میں اینویڈیا چِپس تھیں۔
اینویڈیا، میگا اسپیڈ اور چین کا مؤقف
اینویڈیا کے ترجمان جان رِزو نے کہا کہ ایلس ہوانگ سے جینسن ہوانگ کی ملاقاتیں “غیر معمولی یا غیر متوقع نہیں” تھیں اور گاہکوں سے ملنا سی ای او کے کام کا حصہ ہے۔ ان کے مطابق میگا اسپیڈ جیسے گاہکوں کو کوئی حساس تجارتی راز یا قومی سلامتی کی معلومات نہیں دی جاتیں، اور چِپس کہیں اور بھیجنے کے الزامات کی “گزشتہ سال مکمل تحقیقات ہوئیں اور وہ غلط ثابت ہوئے”۔ جینسن ہوانگ نے خود بھی ان تعلقات کو “معمول کا” قرار دیا۔
میگا اسپیڈ نے کسی غلط کام سے انکار کیا اور کہا کہ وہ اندرونی تحقیقات کے ذریعے “حقائق تک پہنچنے کے لیے پرعزم” ہے۔ واشنگٹن میں چینی سفارت خانے کے ترجمان لیو چانگ نے ان باتوں کو “بے بنیاد الزام تراشی” کہا۔
ہماری رائے: پاکستان کو کیوں فکر ہونی چاہیے
جاسوسی کی کہانی ایک طرف رکھیں تو اصل معاملہ اے آئی چِپس پر کنٹرول کا ہے۔ امریکہ اینویڈیا کی کچھ چِپس چین جانے دیتا ہے اور کچھ روک دیتا ہے، اور ملائیشیا اور سنگاپور جیسے درمیانی ممالک دباؤ کا مرکز بن گئے ہیں۔ جب اسمگلنگ کا خدشہ بڑھتا ہے تو عموماً قریبی امریکی اتحادیوں کے سوا سب کے لیے قواعد سخت ہو جاتے ہیں۔
یہ پاکستان کے لیے اہم ہے جو ڈیٹا سینٹر بنانے اور بیرونِ ملک اے آئی اور آئی ٹی خدمات بیچنے کی کوشش میں ہے۔ اس خطے کے لیے چِپس کی فروخت پر سخت لائسنس یا زیادہ کاغذی کارروائی کا مطلب ہوگا کہ پاکستانی کلاؤڈ کمپنیوں، جامعات اور اسٹارٹ اپس کو جی پی یو دیر سے اور مہنگے ملیں گے۔ ابھی یہ کہنا قبل از وقت ہے کہ قواعد بدلیں گے۔ اگلی نظر امریکی محکمہ تجارت کے کسی بیان، کانگریس میں سماعت کے مطالبات اور سنگاپور و ملائیشیا کے ردعمل پر رہے گی۔



