پاکستانی فری لانسرز نے جولائی تا ستمبر 54 کروڑ 90 لاکھ ڈالر کمائے، نان آئی ٹی کام دگنا
اسٹیٹ بینک کے مطابق فری لانسرز کی آمدن 45 فیصد بڑھ گئی۔ آئی ٹی میں 22 فیصد اضافہ ہوا مگر لکھنے، پڑھانے اور وائس اوور والوں کی کمائی دگنی سے زیادہ۔

اسٹیٹ بینک کے اعداد و شمار کے مطابق، جو نکتہ اور ٹیک جوس نے رپورٹ کیے، پاکستانی فری لانسرز نے جولائی سے ستمبر 2026، یعنی مالی سال 2026-27 کی پہلی سہ ماہی میں 54 کروڑ 90 لاکھ ڈالر ملک میں بھیجے، جو پچھلے سال کے 37 کروڑ 73 لاکھ ڈالر سے 45 فیصد زیادہ ہے۔ حیران کن بات یہ ہے کہ اضافہ کوڈنگ سے نہیں بلکہ باقی کاموں سے آیا۔
آئی ٹی اور نان آئی ٹی کا فرق
| فری لانسرز | پہلی سہ ماہی مالی سال 26 | پہلی سہ ماہی مالی سال 27 | اضافہ |
|---|---|---|---|
| آئی ٹی | 27 کروڑ 20 لاکھ ڈالر | 33 کروڑ 30 لاکھ ڈالر | 22 فیصد |
| نان آئی ٹی | 10 کروڑ 40 لاکھ ڈالر | 21 کروڑ 50 لاکھ ڈالر | 106 فیصد |
| کل | 37 کروڑ 73 لاکھ ڈالر | 54 کروڑ 90 لاکھ ڈالر | 45 فیصد |
نکتہ کے مطابق نان آئی ٹی فری لانسنگ میں کانٹینٹ رائٹرز، وائس اوور آرٹسٹ، آن لائن ٹیچرز اور ای کامرس ماہرین شامل ہیں۔ اس گروپ کی آمدن ایک سال میں دگنی سے زیادہ ہو گئی۔ پاکیرا کے تجزیے کے مطابق مہینوں میں ستمبر سب سے بہتر رہا جب تقریباً 19 کروڑ 70 لاکھ ڈالر آئے۔
مجموعی تصویر بھی اچھی ہے۔ حکومت کی پہلی سہ ماہی کی اقتصادی رپورٹ کے مطابق سروسز کی برآمدات 23 فیصد بڑھ کر 2.7 ارب ڈالر رہیں، جن میں آئی ٹی اور ٹیک کی برآمدات 1.25 ارب ڈالر تھیں۔
یہ کام کون کر رہا ہے؟
پاکستان میں اندازاً 30 لاکھ فری لانسرز ہیں۔ ایس آئی گلوبل کے چیف ایگزیکٹو اور فری لانسنگ کوچ ڈاکٹر نعمان احمد سعید کے مطابق اگر حکومت نجی شعبے کے ساتھ قومی روڈمیپ بنائے تو ایک سال میں یہ تعداد 40 لاکھ ہو سکتی ہے۔ انہوں نے اسکول کی سطح سے ٹیکنالوجی پر مبنی تعلیم کا بھی مطالبہ کیا۔
پاکستان فری لانسرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین ابراہیم امین نے کہا کہ نئی ٹیکنالوجی کی مہارت، بات چیت اور کاروبار بڑھانے کی صلاحیت میں کمی کی وجہ سے فری لانسرز “عالمی مواقع سے پوری طرح فائدہ نہیں اٹھا رہے”۔
ہماری رائے: اچھی خبر، مگر اے آئی کے ساتھ
یہ اعداد اصل پیسہ ہیں، اور بہت سے گھروں کے لیے، خاص طور پر باقاعدہ نوکری کے بغیر نوجوانوں کے لیے، فری لانسنگ ہی اب روزگار ہے۔ لیکن دیکھیں کہ سب سے تیزی سے کیا بڑھ رہا ہے: لکھنا، آواز کا کام، ٹیوشن اور آن لائن اسٹور چلانا۔ یہی وہ کام ہیں جن میں اے آئی ٹولز ہر مہینے بہتر ہو رہے ہیں۔
اس کا مطلب یہ نہیں کہ یہ ترقی جعلی ہے یا ختم ہونے والی ہے۔ کلائنٹس اب بھی لوگوں کو اے آئی سنبھالنے، اس کا کام جانچنے اور وہ کام کرنے کے پیسے دیتے ہیں جو اے آئی نہیں کر سکتا۔ مگر ان رپورٹس میں کوئی یہ نہیں بتاتا کہ نان آئی ٹی آمدن دگنی کیوں ہوئی، اور ڈیٹا سے یہ پتا نہیں چلتا کہ یہ نئے کلائنٹس ہیں، بہتر ریٹ ہیں یا بس زیادہ لوگ اب سرکاری چینلز سے پیسہ منگوا رہے ہیں۔ 106 فیصد کو چند اور سہ ماہیوں تک سرخی سمجھیں، رجحان نہیں۔
مشورہ البتہ واضح ہے۔ وہی فری لانسرز آگے بڑھیں گے جو اے آئی سے کام تیز کریں اور ساتھ وہ انسانی حصہ دیں جس کے کلائنٹ اب بھی پیسے دیتے ہیں: سمجھ بوجھ، مقامی معلومات، اردو اور علاقائی زبانیں، اور بھروسہ۔ کاروبار بڑھانے کے بارے میں ابراہیم امین کی بات کسی بھی تکنیکی کورس جتنی اہم ہے۔
آگے کیا دیکھنا ہے
اکتوبر سے دسمبر کے اعداد بتائیں گے کہ نان آئی ٹی کا یہ اضافہ برقرار رہتا ہے یا نہیں۔ اگر یہی رفتار رہی تو یہ شعبہ اس مالی سال 2 ارب ڈالر سے کافی اوپر جا سکتا ہے، اور حکومت اپنی برآمدات کی کہانی میں اس پر بہت زور دے گی۔
ذرائع
یہ خبر اے آئی کی مدد سے تحقیق اور تحریر کی گئی، پھر شائع کرنے سے پہلے ہمارے ایڈیٹر نے اس کی جانچ اور تدوین کی۔



