اوپن اے آئی گوگل کے ٹی پی یو چپس خریدے گی، رپورٹ: این ویڈیا اور اے آئی دوڑ پر کیا اثر؟
دی انفارمیشن کے مطابق اوپن اے آئی گوگل کے ٹی پی یو کرائے پر نہیں بلکہ خریدنے جا رہی ہے۔ کمپنی نے تبصرے سے انکار کیا۔ چپس کیوں اہم ہیں اور پاکستان کے لیے مطلب۔

این ویڈیا کے سب سے بڑے گاہکوں میں شامل اوپن اے آئی گوگل سے اے آئی چپس خریدنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ یہ خبر دی انفارمیشن نے منگل 27 اکتوبر کو ایک باخبر شخص کے حوالے سے دی۔ روئٹرز کے مطابق مالی تفصیلات سامنے نہیں آئیں، اوپن اے آئی نے تبصرے سے انکار کیا اور گوگل نے فوری جواب نہیں دیا۔ یعنی فی الحال یہ ایک رپورٹ ہے، تصدیق شدہ معاہدہ نہیں۔
رپورٹ میں اصل بات کیا ہے؟
گوگل کی چپس کو ٹی پی یو (ٹینسر پروسیسنگ یونٹ) کہا جاتا ہے، جو گوگل 2016 سے خاص طور پر اے آئی کے کام کے لیے خود بنا رہا ہے۔ کچھ عرصہ پہلے تک باہر کی کمپنیاں انہیں صرف گوگل کلاؤڈ کے ذریعے کرائے پر استعمال کر سکتی تھیں۔ روئٹرز نے جون 2025 میں بتایا تھا کہ اوپن اے آئی نے انہیں کرائے پر لینا شروع کیا ہے۔ اب خریدنا اس سے بڑا قدم ہوگا۔
سب سے واضح اشارہ: اوپن اے آئی نے ایسے انجینئرز کے لیے نوکری کا اشتہار دیا ہے جو اس کے “جدید ترین ماڈلز کو ٹی پی یو پر بہتر” بنائیں۔ دی انفارمیشن کے مطابق یہ کام ابھی ابتدائی مرحلے میں لگتا ہے۔ جب پچھلی بار کرائے کی خبر آئی تھی تو اوپن اے آئی نے کہا تھا کہ ٹی پی یو کے استعمال کا کوئی خاص منصوبہ نہیں، یعنی اب اس کا مؤقف بدل چکا ہے۔
وقت بھی اہم ہے۔ پچھلے ہفتے اوپن اے آئی نے اپنے ماڈلز گوگل کلاؤڈ پر دستیاب کرنے کا اعلان کیا، اور گوگل اس سال کچھ گاہکوں کو ٹی پی یو براہ راست بیچنے لگا ہے۔ سیول اکنامک ڈیلی کے مطابق اوپن اے آئی کی بڑی کلاؤڈ پارٹنر اوریکل گوگل کے علاوہ پہلی بڑی کلاؤڈ کمپنی ہوگی جو ٹی پی یو خرید کر کرائے پر دے گی۔
اوپن اے آئی ایسا کیوں کرے گی؟
ایک لفظ میں: انحصار۔ چیٹ جی پی ٹی جیسے ماڈلز بنانے اور چلانے کے لیے بے شمار چپس چاہئیں اور اس منڈی پر این ویڈیا کا راج ہے۔ سیول اکنامک ڈیلی کے مطابق این ویڈیا کے سی ای او جینسن ہوانگ کہہ چکے ہیں کہ اوپن اے آئی نے 2030 تک این ویڈیا سرورز پر تقریباً 600 ارب ڈالر خرچ کرنے کا وعدہ کیا ہے۔ جون میں اوپن اے آئی نے براڈکام کے ساتھ اپنی چپ بھی متعارف کرائی۔
گوگل کو شامل کرنے کا مطلب ہے زیادہ سپلائرز، سودے بازی کی زیادہ طاقت اور کم خطرہ۔ حریف کمپنی اینتھروپک پہلے ہی یہ کر رہی ہے: اس کی آئی پی او دستاویز میں چار قسم کی چپس کا ذکر ہے، ایمیزون کی ٹرینیم، گوگل کی ٹی پی یو، اور این ویڈیا اور اے ایم ڈی کی جی پی یو۔
کیا یہ این ویڈیا کے لیے بری خبر ہے؟
فوری طور پر نہیں۔ اوپن اے آئی اب بھی این ویڈیا کی بڑی خریدار ہے اور خریداری کا حجم سامنے نہیں آیا۔ مگر یہ ایک حقیقی رجحان کا حصہ ہے: بڑی اے آئی لیبز اب ایک ہی سپلائر پر نہیں رہنا چاہتیں۔ روئٹرز کے مطابق ایمیزون، مائیکروسافٹ اور الفابیٹ اس سال اے آئی انفراسٹرکچر پر مل کر 600 ارب ڈالر تک خرچ کرنے کا ارادہ رکھتی ہیں، اور تینوں کی اپنی چپ ہے۔
پاکستان کے لیے مطلب
زیادہ تر پاکستانی صارفین کے لیے کل چیٹ جی پی ٹی میں کچھ نہیں بدلے گا۔ لمبے عرصے میں اثر قیمت پر ہوگا۔ اگر چپ بنانے والوں میں مقابلہ بڑھنے سے اے آئی ماڈلز چلانا سستا ہوا تو وہ اے پی آئیز بھی سستی ہو سکتی ہیں جن پر پاکستانی اسٹارٹ اپس اور فری لانسرز کام کرتے ہیں، جیسا کہ اس سال اے آئی کمپنیوں کی قیمتوں کی جنگ میں ہوا۔
پالیسی کے لیے بھی سبق ہے۔ پاکستان ایسا اے آئی انفراسٹرکچر چاہتا ہے جس پر اس کا کنٹرول ہو، مگر دنیا کی سب سے زیادہ سرمایہ رکھنے والی اے آئی کمپنی خود چپس کے لیے بھاگ دوڑ کر رہی ہے۔ ہمارے لیے حقیقت پسندانہ راستہ کلاؤڈ کمپنیوں اور علاقائی ڈیٹا سینٹرز کے ذریعے رسائی ہے، جدید ترین ہارڈویئر کی ملکیت نہیں۔
آگے کیا دیکھنا ہے
الفابیٹ اس ہفتے سہ ماہی نتائج جاری کرے گی، جہاں گوگل کا پہلا تبصرہ آ سکتا ہے۔ اوپن اے آئی کی تصدیق یا ٹی پی یو کی تعداد کی تفصیل اس رپورٹ کو معاہدے میں بدل دے گی۔
ذرائع
یہ خبر اے آئی کی مدد سے تحقیق اور تحریر کی گئی، پھر شائع کرنے سے پہلے ہمارے ایڈیٹر نے اس کی جانچ اور تدوین کی۔



