جیمنائی 4 کاربن: گوگل کا نیا سب سے طاقتور اے آئی ماڈل، مگر ابھی عام لوگوں کے لیے نہیں
گوگل کا کہنا ہے کہ جیمنائی 4 کاربن سافٹ ویئر کی خامیاں ڈھونڈنے میں سب سے آگے ہے۔ یہ پہلے کسے ملے گا اور اس کی قیمت کیا ہے؟

گوگل نے بدھ 28 اکتوبر کو جیمنائی 4 کاربن متعارف کرایا اور اسے اپنا اب تک کا سب سے طاقتور ماڈل قرار دیا، جو خاص طور پر سائبر سکیورٹی اور لمبے، کئی مرحلوں والے کوڈنگ کام کے لیے بنایا گیا ہے۔ فی الحال یہ صرف سائبر دفاع کرنے والے چند اداروں کو ملے گا؛ ڈویلپرز، کاروبار اور عام صارفین کو بعد میں ملے گا، اور اس کی کوئی تاریخ نہیں بتائی گئی۔
یہ ماڈل جیمنائی 4 آرگن کے چند ہفتے بعد آیا ہے، جو بھی پہلے صرف سکیورٹی پارٹنرز کو دیا گیا تھا۔ یعنی گوگل اب اپنے سب سے طاقتور ماڈل سب سے پہلے دفاع کرنے والوں کے ہاتھ میں دے رہا ہے۔
جیمنائی 4 کاربن ہے کیا؟
اعلان میں گوگل ڈیپ مائنڈ کے سینئر نائب صدر اور گوگل کے چیف اے آئی آرکیٹیکٹ کورے کاووکچوولو نے لکھا کہ کاربن سائبر سکیورٹی اور “لانگ ہورائزن” صلاحیتوں میں سب سے آگے ہے۔ آسان الفاظ میں اس کا مطلب ہے کہ یہ ایک بڑے کام پر دیر تک لگا رہ سکتا ہے، مثلاً کسی بہت بڑے سافٹ ویئر میں خرابی کی اصل وجہ ڈھونڈ کر اس کا حل لکھنا۔
گوگل کے اپنے اعداد و شمار:
- آرٹیفیشل اینالسس انٹیلیجنس انڈیکس: 59 اسکور کے ساتھ پہلا نمبر۔
- سکیورٹی خامیاں ڈھونڈنا (SEC-bench Pro): 88.2 فیصد۔
- خامی کے استعمال کا ثبوت (ExploitGym): 54.8 فیصد۔
- خامیاں ٹھیک کرنا (CWE-bench): 71 فیصد۔
- ویب سائٹ بنانا (WebDev Arena): 89 پوائنٹس کے اضافے کے ساتھ چوتھا نمبر۔
گوگل کے مطابق کروم ٹیم نے دیکھا کہ کاربن نے ایک دوسری کمپنی کے بڑے ماڈل کے مقابلے میں دس گنا زیادہ اچھے پیچ بنائے، تاہم اس کمپنی کا نام نہیں بتایا گیا۔
کون استعمال کر سکے گا اور قیمت کیا ہے؟
اس ہفتے سے چند سائبر دفاعی ادارے اسے استعمال کر سکیں گے، پھر گوگل کے فیئرونڈ پروگرام کے ذریعے مزید قابلِ اعتماد پارٹنرز کو رسائی ملے گی۔ گوگل کا کہنا ہے کہ وہ نئے ماڈلز کی ریلیز سے پہلے امریکی حکومت کی رضاکارانہ جانچ میں بھی حصہ لے رہا ہے۔
ابتدائی قیمت آرگن جیسی ہے: دس لاکھ اِن پٹ ٹوکنز کے 2 ڈالر اور آؤٹ پٹ کے 10 ڈالر۔ ابتدائی مدت کے بعد یہ دگنی ہو کر 4 اور 20 ڈالر ہو جائے گی۔
کیا یہ زیادہ محفوظ ہے؟
گوگل کے اندرونی ٹیسٹ کے مطابق کاربن آرگن کے مقابلے میں تقریباً آدھے بے بنیاد دعوے کرتا ہے، کہے گئے کام سے آگے بڑھ جانے کی عادت 26 فیصد کم ہوئی، اور لائیو کوڈنگ میں سنگین گڑبڑ کے الرٹس تقریباً 80 فیصد کم ہوئے۔ یہ سب کمپنی کے اپنے اعداد ہیں؛ آزاد ماہرین نے ابھی انہیں پرکھا نہیں۔
ہماری رائے: پاکستان کے لیے اس کا مطلب
اصل خبر نمبرز سے زیادہ اس کی محدود ریلیز ہے۔ جو ماڈل سافٹ ویئر کی خامیاں ڈھونڈنے اور ان کا فائدہ اٹھانے میں اتنا ماہر ہو، وہ حملہ آوروں کے بھی کام آ سکتا ہے، اس لیے گوگل اسے فی الحال عام لوگوں سے دور رکھ رہا ہے۔ یہ سمجھ میں آتا ہے، مگر اس کا مطلب ہے کہ پاکستانی ڈویلپرز اور فری لانسرز کو یہ کچھ عرصے تک نہیں ملے گا۔
جب ملے گا تو قیمت اہم ہوگی۔ سستے اِن پٹ ٹوکنز لاہور، کراچی اور اسلام آباد کی چھوٹی سافٹ ویئر کمپنیوں کے لیے لمبے کوڈنگ کام سستے کر سکتے ہیں۔ اور اگر ایسے ٹولز خامیاں جلدی ٹھیک کرنے میں مدد دیں تو یہاں کے بینک، ٹیلی کام اور سرکاری ویب سائٹس، جو اکثر حملوں کا نشانہ بنتی ہیں، فائدہ اٹھا سکتی ہیں۔
ایک انڈیکس میں پہلا نمبر وقتی ہے؛ دوسری کمپنیاں ہر چند ہفتے نیا ماڈل لا رہی ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ عام ریلیز کب ہوتی ہے اور آزاد ٹیسٹ گوگل کے دعووں کی تصدیق کرتے ہیں یا نہیں۔



