چین کے AI ایکسپورٹ کنٹرولز: ڈیپ سیک اور منی میکس کو اجازت، کیا پاکستانی انہیں استعمال کر سکیں گے؟

چین کے مسودہ قواعد 23 AI ٹیکنالوجیز پر لاگو ہوں گے، مگر ایپس، API اور اوپن سورس ماڈلز ان سے باہر ہیں۔ چینی AI پر انحصار کرنے والے پاکستانیوں کے لیے مطلب۔

DeepSeek AI's company name in Chinese and English on a glass door
تصویر: Reuters

چین نے اپنی AI کی برآمد کو کنٹرول کرنا شروع کر دیا ہے، اور اس نئے دروازے سے گزرنے والی پہلی دو کمپنیاں ڈیپ سیک اور منی میکس ہیں۔ روئٹرز کے مطابق منی میکس نے جمعہ 23 اکتوبر کو کہا کہ اس نے کچھ حالیہ اور آنے والے ماڈلز کو اوپن سورس کرنے اور بیرونِ ملک لائسنس دینے کے لیے چین کی وزارتِ تجارت کے ساتھ ٹیکنالوجی ایکسپورٹ رجسٹریشن مکمل کر لی ہے۔ ایک دن پہلے سرکاری نشریاتی ادارے سی سی ٹی وی سے منسلک سوشل میڈیا اکاؤنٹ یویوان تانتیان نے کہا تھا کہ منی میکس اور ڈیپ سیک دونوں کو اپنے ماڈلز کے عالمی استعمال کی منظوری مل گئی ہے۔ ڈیپ سیک نے روئٹرز کو فوری جواب نہیں دیا۔

اگر آپ پاکستان میں ڈیپ سیک کی ایپ استعمال کرتے ہیں یا کوین یا منی میکس ماڈلز پر کچھ بنا رہے ہیں، تو مختصر جواب یہ ہے کہ آج آپ کے لیے کچھ نہیں بدلا۔ وجہ یہ ہے۔

چین نے اصل میں کیا تجویز کیا

دی نیکسٹ ویب کے مطابق جمعہ 16 اکتوبر کو چین کی وزارتِ تجارت اور وزارتِ سائنس نے 40 ٹیکنالوجیز کی مسودہ فہرست جاری کی جنہیں قومی ایکسپورٹ کنٹرول کیٹلاگ میں شامل کیا جانا ہے۔ ان میں 23 AI سے متعلق ہیں: بڑے لینگویج ماڈلز، AI ایجنٹس، AI چپس کے ڈیزائن اور کمپیوٹنگ کلسٹرز۔ باقی شمسی توانائی اور بائیو میڈیسن کی ہیں۔

ماڈلز کے لیے پابندیاں ان سسٹمز کے ویٹس، سورس کوڈ اور دیگر بنیادی حصوں پر ہوں گی جن کے کم از کم 2 ٹریلین پیرامیٹرز ہوں، یا جو کارکردگی اور حفاظت کے امتحانات میں دنیا کے ٹاپ ٹین میں ہوں۔ مسودے میں کسی ماڈل کا نام نہیں، مگر بلومبرگ اور اے پی کے مطابق مون شاٹ AI کا کیمی K3 اور علی بابا کا کوین 3.8 میکس اس حد سے اوپر ہیں۔

اسی دن ایک عارضی قاعدہ نافذ ہو گیا: کمپنیوں کو فہرست والی ٹیکنالوجی برآمد کرنے سے پہلے رجسٹریشن کرانی ہوگی۔ مکمل مسودے پر عوامی آرا 15 نومبر تک دی جا سکتی ہیں۔ وزارت کے ترجمان کے مطابق مقصد “غلط استعمال روکنا” اور یہ “یقینی بنانا ہے کہ AI انسانی کنٹرول میں رہے”، اور یہ منصوبہ کسی ملک یا کمپنی کے خلاف نہیں۔

کیا کھلا رہے گا

چین سے باہر کے لیے یہی حصہ اہم ہے:

  • چینی کمپنیاں ایپس، ویب سائٹس اور API کے ذریعے بیرونِ ملک صارفین کو سروس دیتی رہیں گی۔
  • اوپن سورس کوڈ اور شائع شدہ تحقیق مستثنیٰ ہیں۔
  • کسی کنٹرول شدہ ماڈل کو بیرونِ ملک سرورز پر چلانا برآمد شمار ہوگا، مگر اپنا بیرونی کلاؤڈ استعمال کرنے والی کمپنی کو لائسنس خودکار طور پر مل سکتا ہے۔

روئٹرز کے مطابق وزارتِ تجارت نے یہ بھی کہا ہے کہ زیادہ تر AI ٹیکنالوجی آزادانہ برآمد ہوتی رہے گی اور اوپن سورس کے لیے لائسنس کا طریقہ آسان ہوگا۔

ہماری رائے: چین امریکی طریقہ اپنا رہا ہے، احتیاط سے

برسوں سے امریکہ ہی ایکسپورٹ کے قواعد بناتا رہا ہے، زیادہ تر چپس پر، تاکہ چین کی رفتار کم ہو۔ اب بیجنگ اپنے بہترین اثاثوں کے گرد اپنی باڑ لگا رہا ہے: سب سے طاقتور ماڈلز کے ویٹس اور جدید چپس کی مہارت۔ ایک ہفتے میں دو کمپنیوں کی رجسٹریشن اور سرکاری میڈیا کی تعریف بتاتی ہے کہ مقصد بندش نہیں، کنٹرول ہے۔ چین جاننا چاہتا ہے کہ اس کے طاقتور ترین ماڈلز کہاں جا رہے ہیں، جبکہ اس کی اوپن سورس حکمتِ عملی دنیا بھر میں صارفین جیت رہی ہے۔

دلچسپ پہلو یہ ہے کہ قواعد سب سے بڑے ماڈلز کے ویٹس پر سختی کرتے ہیں مگر اوپن سورس ریلیز کو چھوڑ دیتے ہیں۔ اس سے چینی لیبز کو سوچنا پڑے گا کہ آئندہ کیا کھلے عام جاری کریں۔ اگر ڈیپ سیک یا کوین کا اگلا بڑا ماڈل صرف API کے ذریعے آیا تو سمجھیں قواعد اثر دکھا رہے ہیں۔

پاکستان کے لیے مطلب

پاکستانی فری لانسرز، اسٹارٹ اپس اور یونیورسٹی لیبز چینی اوپن ماڈلز پر بہت انحصار کرتے ہیں کیونکہ یہ سستے، طاقتور ہیں اور مقامی سرورز پر چل سکتے ہیں، جو ڈالر میں API بلوں کے دور میں اہم ہے۔ فی الحال ایپس، API اور موجودہ اوپن سورس ماڈلز متاثر نہیں۔ خطرہ مستقبل میں ہے: اگر سب سے بڑے نئے ماڈلز کھلے عام جاری ہونا بند ہو گئے تو لاگت یا ڈیٹا پرائیویسی کی وجہ سے خود ماڈل چلانے والی پاکستانی ٹیموں کو API پر جانا پڑ سکتا ہے، جس کے ساتھ بل اور ڈیٹا کے سوالات بھی آئیں گے۔

15 نومبر پر نظر رکھیں، جب آرا کی مدت ختم ہوگی، اور دیکھیں کہ حتمی فہرست میں اوپن سورس کی چھوٹ برقرار رہتی ہے یا نہیں۔

ذرائع

  1. Reuters (via Central Oregon Daily): China's DeepSeek, MiniMax win approval for AI global use, state media-affiliated entity says
  2. The Next Web: China proposes export controls on its advanced AI models and chip designs

یہ خبر اے آئی کی مدد سے تحقیق اور تحریر کی گئی، پھر شائع کرنے سے پہلے ہمارے ایڈیٹر نے اس کی جانچ اور تدوین کی۔

مزید پڑھیں