ہائی فنکشننگ ڈپریشن کی علامات: سائیکاٹرسٹ ڈاکٹر جوڈتھ جوزف کی وضاحت

ہائی فنکشننگ ڈپریشن کی علامات: سائیکاٹرسٹ ڈاکٹر جوڈتھ جوزف کہتی ہیں کہ مصروف اور کامیاب لوگ بھی سب سنبھالتے ہوئے خوشی کھو سکتے ہیں۔

Mel Robbins, left, and psychiatrist Dr Judith Joseph, right, talking at The Mel Robbins Podcast microphones
تصویر: The Mel Robbins Podcast
Mel Robbinsمکمل قسط کا حصہ: 9:58–25:31مکمل قسط یوٹیوب پر دیکھیں

آپ ہر ڈیڈ لائن پوری کر سکتے ہیں، گھر چلا سکتے ہیں، اور پھر بھی اندر کچھ محسوس نہ ہو۔ کولمبیا یونیورسٹی اور نیویارک یونیورسٹی سے تربیت یافتہ سائیکاٹرسٹ ڈاکٹر جوڈتھ جوزف، جو “ہائی فنکشننگ ڈپریشن” پر تحقیق کرتی ہیں، دی میل رابنز پوڈکاسٹ میں اس کی علامات بتاتی ہیں۔ اوپر کی ویڈیو میں قسط کا وہ حصہ چلتا ہے جہاں وہ اس کی تعریف اور اس کا حل بیان کرتی ہیں۔

مختصر بات

  • ہائی فنکشننگ ڈپریشن کوئی باقاعدہ تشخیص نہیں۔ ڈاکٹر جوزف یہ نام ان لوگوں کے لیے استعمال کرتی ہیں جو کام چلاتے رہتے ہیں مگر خوشی کھو چکے ہوتے ہیں۔
  • چھپی ہوئی علامت “اینہیڈونیا” ہے، یعنی لطف کم ہو جانا، جسے وہ “خوشی کا چور” کہتی ہیں۔
  • دوسری علامات: کم توانائی، توجہ میں کمی، نیند اور بھوک میں تبدیلی، بےحسی یا بےرنگی کا احساس۔
  • مردوں میں یہ اداسی کے بجائے چڑچڑاپن، غصے، لاتعلقی یا شراب نوشی کی صورت میں ظاہر ہو سکتا ہے۔
  • مصروفیت محسوس نہ کرنے کا طریقہ بن سکتی ہے۔ حد سے زیادہ کام اور مسلسل اسکرولنگ خطرے کی علامت ہیں، ٹھیک ہونے کا ثبوت نہیں۔
  • ان کا پہلا مشورہ ڈاکٹر سے بات کرنا ہے۔

ہائی فنکشننگ ڈپریشن کیا ہے؟

ڈاکٹر جوزف ان لوگوں کی بات کرتی ہیں جو باہر سے کامیاب نظر آتے ہیں: ڈیڈ لائنز پوری ہو رہی ہیں، تعریفیں مل رہی ہیں، مگر خوشی کا احساس نہیں۔ اکثر یہ خاندان کا “سہارا” ہوتے ہیں جس پر سب ٹیک لگاتے ہیں۔ بہت سے لوگ خود کو کبھی اداس یا ڈپریسڈ نہیں کہتے، کیونکہ ثقافت، جذبات کے لیے الفاظ کی کمی یا پرانے تجربات نے انہیں بس چلتے رہنا سکھایا ہوتا ہے۔

وہ واضح کرتی ہیں کہ ڈاکٹروں کی تشخیصی کتاب DSM-5 میں یہ زمرہ موجود نہیں، اور جو لوگ ابھی کام کر پا رہے ہوں انہیں بعض اوقات کہا جاتا ہے کہ حالت بگڑے تو آنا۔ ایسے شخص کا ایک عام دن وہ یوں بیان کرتی ہیں: الارم سے پہلے آنکھ کھل جانا، کھانے کا ذائقہ محسوس کیے بغیر کھانا، دوپہر کا کھانا کام کرتے ہوئے، اور رات گئے تک خبروں اور پوسٹس کی بےمقصد اسکرولنگ۔

ڈپریشن کی “چھپی ہوئی علامت” کیا ہے؟

ڈاکٹر جوزف کے نزدیک یہ اینہیڈونیا ہے، یعنی چیزوں سے لطف اٹھانے کی صلاحیت کھو دینا۔ یہ مصروفیت کے دوران چپکے سے آتی ہے، اور وہ کہتی ہیں کہ لوگ خود کو اپنے ہی احساسات سے انکار پر قائل کر لیتے ہیں۔ وہ دماغی کیمیا، جسم میں سوزش، وراثت، حل نہ ہونے والے صدمات اور مسلسل سوشل میڈیا سے ممکنہ تعلق کا ذکر کرتی ہیں، اور زور دیتی ہیں کہ یہ تعلقات ہیں، ثابت شدہ وجوہات نہیں۔

اگر آپ کو لگے کہ خوشی کم ہو رہی ہے مگر ابھی مدد لینے کا دل نہیں، تب بھی ان کا مشورہ ہے کہ ڈاکٹر سے بات کریں اور اسکریننگ سوالنامے سے آغاز کریں، اور وہ یاد دلاتی ہیں کہ تھراپی واحد راستہ نہیں۔

ہماری رائے

یہ نام متنازع ہے۔ کچھ ماہرین کو خدشہ ہے کہ “ہائی فنکشننگ” کہنے سے ڈپریشن ہلکا لگتا ہے، اور ڈاکٹر جوزف خود بھی اسے الگ بیماری نہیں کہتیں۔ مگر بنیادی بات مضبوط ہے: عالمی ادارۂ صحت کے مطابق اگر اداسی کے ساتھ ساتھ دلچسپی یا لطف کا ختم ہونا کم از کم دو ہفتے تک دن کے زیادہ تر حصے میں رہے تو یہ ڈپریشن کی بنیادی علامات میں شامل ہے، اور بیمار ہونے کے لیے بستر سے نہ اٹھ پانا ضروری نہیں۔

پاکستان میں یہ کیفیت عام ہے مگر اس کا نام کم ہی لیا جاتا ہے۔ گھر کا خرچ اٹھانے والا بڑا بیٹا، مشترکہ گھر چلانے والی ماں، کلاس میں اول آنے والا مگر اندر سے خالی طالب علم، سب کو سنبھالنے پر شاباش ملتی ہے۔ خاص طور پر مردوں سے اداسی کے بجائے غصہ دکھانے کی توقع کی جاتی ہے، جو ڈاکٹر جوزف کی بات سے میل کھاتا ہے۔ ڈاکٹر کے پاس جانا کمزوری نہیں، اور فیملی ڈاکٹر ایک مناسب پہلا قدم ہے۔

آج یہ کر کے دیکھیں

  1. تین ایسی چیزیں لکھیں جن سے آپ پہلے لطف اٹھاتے تھے، اور صفر سے دس تک نمبر دیں کہ اب کتنا مزہ آتا ہے۔
  2. آج ایک وقت کا کھانا فون اور کام کی میز سے دور کھائیں اور ذائقے پر دھیان دیں۔
  3. اپنے احساس کو ایک لفظ میں نام دیں، بول کر یا لکھ کر۔ ڈاکٹر جوزف کے مطابق احساس کو نام دینے سے جسم کا ڈر کم ہوتا ہے۔
  4. اگر یہ بےحسی دو ہفتے سے زیادہ رہی ہے تو ڈاکٹر سے وقت لیں۔

یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے، طبی مشورہ نہیں۔ اگر آپ کو خود کو نقصان پہنچانے کے خیالات آ رہے ہیں تو آج ہی اُمنگ پاکستان ہیلپ لائن، کسی ڈاکٹر یا کسی قابلِ اعتماد شخص سے رابطہ کریں۔

قسط کے دوسرے حصے

  • 2:03 ہائی فنکشننگ ڈپریشن کی سات حیران کن علامات
  • 7:02 مردوں میں ڈپریشن کیسے مختلف نظر آتا ہے
  • 29:49 اگر آپ خود کو گھر والوں پر بوجھ سمجھتے ہیں
  • 31:56 کمی کے صدمے سے ان کی کیا مراد ہے
  • 40:12 احساسات کو نام دینا کیسے مدد کرتا ہے

ذرائع

  1. The Mel Robbins Podcast: Episode 169 with Dr. Judith Joseph (episode page and transcript)
  2. Dr. Judith Joseph: official website
  3. NIMH: Depression
  4. WHO: Depressive disorder (depression) fact sheet

یہ خبر اے آئی کی مدد سے تحقیق اور تحریر کی گئی، پھر شائع کرنے سے پہلے ہمارے ایڈیٹر نے اس کی جانچ اور تدوین کی۔

مزید پڑھیں