پی ایس ایکس: کے ایس ای 100 انڈیکس 1,428 پوائنٹس بڑھ کر 164,467 پر، شرح سود بڑھنے پر بھی تیزی کیوں؟

منگل کو کے ایس ای 100 انڈیکس 0.88 فیصد اضافے سے 164,467 پر بند ہوا۔ تیزی کی وجہ کیا تھی، کون سے شیئرز آگے رہے اور اسٹیٹ بینک کے فیصلے کا اس سے کیا تعلق ہے۔

Trading board at the Pakistan Stock Exchange in Karachi
تصویر: Business Recorder

منگل کی رات پاکستان میں سب سے زیادہ تلاش کی جانے والی چیزوں میں “پی ایس ایکس کے ایس ای 100 انڈیکس” بھی شامل تھا، اور وجہ اعداد میں ہے۔ بزنس ریکارڈر کے مطابق منگل 27 اکتوبر کو کے ایس ای 100 انڈیکس 1,428.73 پوائنٹس (0.88 فیصد) اضافے کے ساتھ 164,467.20 پر بند ہوا، جو مسلسل دوسرے دن کی تیزی تھی۔ دن کے دوران انڈیکس 164,787.67 تک گیا۔

انڈیکس کیوں بڑھا؟

ڈان اور بزنس ریکارڈر میں بروکریج ہاؤسز کے مطابق تین چیزیں ایک ساتھ ہوئیں۔

  • اندازے سے کم شرح سود میں اضافہ۔ اسٹیٹ بینک نے پیر کو پالیسی ریٹ 50 بیسس پوائنٹس بڑھا کر 12 فیصد کیا۔ کچھ سرمایہ کار 100 بیسس پوائنٹس کی توقع کر رہے تھے، اس لیے ڈان کے مطابق کم اضافے کو توازن والا فیصلہ سمجھا گیا۔ ٹاپ لائن سیکیورٹیز نے کہا کہ اضافے کے “باوجود خریداری میں دوبارہ دلچسپی” آئی۔
  • امن مذاکرات۔ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے حکام نے ایران میں اعلیٰ سطح کی بات چیت کی اور چاروں ملکوں نے بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔ اس سے ہفتوں سے چھائے جنگ کے خدشات کچھ کم ہوئے۔
  • سستا تیل اور بیرون ملک اچھا ماحول۔ بزنس ریکارڈر کے مطابق تیل کی قیمتیں کم ہوئیں اور ایشیائی منڈیاں اینتھروپک کی امریکی شیئر لسٹنگ کی درخواست اور میٹا کے بڑے سرمایہ اکٹھا کرنے کے منصوبے کے بعد اوپر گئیں۔

عارف حبیب لمیٹڈ کے ڈپٹی ہیڈ آف ٹریڈنگ علی نجیب نے کہا کہ انڈیکس “دن کی بلند ترین سطح کے قریب بند ہوا اور 164,000 کی سطح واپس حاصل کر لی”۔

کون سے شیئرز آگے رہے؟

سیمنٹ، گاڑیاں بنانے والی کمپنیوں اور بینکوں نے انڈیکس کو اٹھایا۔ ایم سی بی بینک، فوجی فرٹیلائزر، یونائیٹڈ بینک، پاکستان پیٹرولیم اور نیشنل بینک نے مل کر انڈیکس میں تقریباً 490 پوائنٹس کا اضافہ کیا۔ فوجی سیمنٹ، میپل لیف سیمنٹ، گندھارا آٹوموبائلز، گندھارا انڈسٹریز، پاکستان انٹرنیشنل بلک ٹرمینل اور سنرجیکو نتائج کی خبروں کی وجہ سے نمایاں رہے۔

کاروبار بھی بڑھا: حجم 37 کروڑ 60 لاکھ سے بڑھ کر تقریباً 40 کروڑ 20 لاکھ شیئرز اور مالیت 18.07 ارب روپے ہو گئی۔ 497 کمپنیوں میں سے 282 کے شیئرز بڑھے اور 170 کے گرے۔ کے الیکٹرک سب سے زیادہ ٹریڈ ہونے والا شیئر رہا، جس کے 5 کروڑ 40 لاکھ شیئرز کا لین دین ہوا۔

کیا یہ پچھلے ہفتے کی گراوٹ کی واپسی ہے؟

کسی حد تک۔ 22 اکتوبر کو ایران سے متعلق کشیدگی پر انڈیکس 2,000 سے زیادہ پوائنٹس گرا تھا، جیسا کہ ہم نے اس وقت بتایا۔ پیر کو 663 اور منگل کو 1,428 پوائنٹس کے اضافے سے جنگ کے خوف والا زیادہ تر نقصان پورا ہو گیا ہے، لیکن مارکیٹ اب بھی خلیج کی خبروں پر چل رہی ہے، کسی طے شدہ منظرنامے پر نہیں۔

اگر آپ کے پاس شیئرز نہیں تو اس کا مطلب کیا ہے؟

براہ راست زیادہ نہیں۔ انڈیکس کا بڑھنا بس یہ بتاتا ہے کہ بڑے سرمایہ کار اس ہفتے کم پریشان ہیں۔ جس شرح سود کے اضافے کو مارکیٹ نے نظرانداز کیا، اس کا مطلب یہ ہے کہ کائیبور سے جڑے کار یا کاروباری قرض والوں کی قسط تھوڑی بڑھ سکتی ہے۔ روپیہ تقریباً وہیں رہا اور ڈالر کے مقابلے میں 276.80 پر بند ہوا۔

ڈان کے مطابق بروکرز کا خیال ہے کہ قریبی مدت میں “منتخب خریداری” مارکیٹ کو آگے لے جائے گی، تاہم اتار چڑھاؤ برقرار رہ سکتا ہے۔ اگلا امتحان اس ہفتے کمپنیوں کے نتائج اور ایران مذاکرات کی خبریں ہوں گی۔

ذرائع

  1. Business Recorder: PSX extends gains for second session as KSE-100 surges over 1,400 points
  2. Dawn: Equities extend rally on peace optimism

یہ خبر اے آئی کی مدد سے تحقیق اور تحریر کی گئی، پھر شائع کرنے سے پہلے ہمارے ایڈیٹر نے اس کی جانچ اور تدوین کی۔

مزید پڑھیں