نینو ٹیرینس 'جوڈی' 4 کروڑ 73 لاکھ ڈالر میں فروخت: یہ ڈائنوسار کیا ہے؟

ٹی ریکس کا رشتہ دار ڈائنوسار جس کا اندازہ 60 سے 90 لاکھ ڈالر تھا، سوتھبیز میں 4 کروڑ 73 لاکھ ڈالر میں بکا۔ یہ کیا ہے اور سائنسدان ناخوش کیوں ہیں؟

سوتھبیز میں دھاتی سٹینڈ پر نینو ٹیرینس کا ڈھانچہ جوڈی، ساتھ 'جوڈی دی نینو ٹیرینس' کا بورڈ
تصویر: AP via NBC New York

جس ڈائنوسار پر چند سال پہلے تک سائنسدان بحث کر رہے تھے، وہ اب تاریخ کا دوسرا مہنگا ترین فوسل بن گیا ہے۔ بی بی سی کے مطابق نینو ٹیرینس کا ڈھانچہ ‘جوڈی’ منگل 27 اکتوبر کو نیویارک میں سوتھبیز کی نیلامی میں 4 کروڑ 73 لاکھ ڈالر (تقریباً 13 ارب روپے) میں فروخت ہوا۔ چھ خریداروں کے درمیان بولی 12 منٹ چلی، جبکہ سوتھبیز کا اندازہ صرف 60 سے 90 لاکھ ڈالر تھا۔

اسی لیے رات بھر پاکستان میں گوگل پر ‘نینو ٹیرینس’ سرچ ہوتا رہا۔ مختصر وضاحت یہ ہے۔

نینو ٹیرینس کیا ہے؟

کئی دہائیوں تک اس جانور کے چند ڈھانچوں کو ٹی ریکس کے ‘نوجوان’ بچے سمجھا جاتا رہا۔ یونیورسٹی آف پورٹسمتھ کی ماہرِ قدیم حیاتیات میگن جیکبز نے بی بی سی ریڈیو 4 کو بتایا کہ اسے عرصے تک ٹی ریکس کا ٹین ایجر سمجھا گیا، مگر یہ اس سے چھوٹا اور دبلا ہے اور اس کے دانت گوشت کاٹنے والے بلیڈ جیسے ہیں۔

یہ بحث اکتوبر 2025 میں ختم ہوئی جب محققین لنڈسے زانو اور جیمز نیپولی کی تحقیق نے دکھایا کہ نینو ٹیرینس ایک الگ اور مکمل بالغ جانور تھا۔ اے پی کے مطابق ہڈیوں کے نشوونما والے حلقوں سے پتا چلا کہ یہ بچے نہیں، بالغ تھے۔ دونوں تقریباً 6 کروڑ 70 لاکھ سال پہلے ایک ساتھ رہتے تھے، یعنی ٹی ریکس کا ایک چھوٹا اور پھرتیلا رشتہ دار اسی علاقے میں شکار کرتا تھا۔

‘جوڈی’ کون ہے؟

یہ نام امریکی ریاست مونٹانا کی رینچر جوڈی پیئرسن کے نام پر ہے جنھیں 2019 میں اپنی زمین پر، ہیل کریک فارمیشن میں، یہ ڈھانچہ ملا۔ اسے کمرشل ماہرِ قدیم حیاتیات کلیٹن فِپس نے نکالا۔ اے پی کے مطابق یہ تقریباً 2 میٹر اونچا اور قریب 6 میٹر لمبا ہے، تقریباً 70 فیصد مکمل، کھوپڑی لگ بھگ پوری اور جبڑے میں تقریباً 50 دانت۔ (بی بی سی نے اونچائی تقریباً 3 میٹر بتائی، کھڑے ڈھانچوں کی پیمائش اکثر مختلف طریقے سے ہوتی ہے۔)

نینو ٹیرینس کے صرف تین ڈھانچے معلوم ہیں۔ ایک مشہور ‘لڑتے ڈائنوسارز’ فوسل میں ٹرائی سیراٹوپس کے ساتھ گتھم گتھا ہے اور نارتھ کیرولائنا کے میوزیم میں ہے، دوسرا امریکی ریاست الینوائے کے برپی میوزیم میں۔ دونوں فروخت کے لیے نہیں۔ جوڈی واحد تھا جو کوئی نجی خریدار لے سکتا تھا، اور خریدار کا نام ظاہر نہیں کیا گیا۔

سائنسدان ناخوش کیوں ہیں؟

اس لیے کہ جنھیں اس پر سب سے زیادہ تحقیق کرنی ہے، شاید وہ اسے دوبارہ کبھی نہ دیکھ سکیں۔ یونیورسٹی آف ایڈنبرا کے پروفیسر سٹیو بروسیٹی نے بی بی سی سے کہا کہ یہ سوچ کر دل دہلتا ہے کہ بہترین ڈھانچوں میں سے ایک کسی کلیکٹر کی تجوری میں گم ہو سکتا ہے، وہ بھی ایسے وقت جب سائنس نے ابھی اس جانور کی تصدیق کی ہے۔ سوسائٹی آف ورٹیبریٹ پیلیونٹولوجی کے صدر سٹوارٹ سمیڈا نے اے پی کو بتایا کہ جو نمونے عوامی تحویل میں نہ ہوں ان پر ہم مرتبہ جائزہ شدہ تحقیق شائع نہیں ہو سکتی۔

دوسرے فریق کی بات میں بھی وزن ہے۔ سوتھبیز کی سائنس سربراہ کیسینڈرا ہیٹن نے اے پی سے کہا کہ اپنا پیسہ لگا کر کھدائی کرنے والے نجی لوگ ضروری ہیں، ورنہ یہ فوسل ملیں ہی نہیں۔ جیکبز نے بھی کہا کہ وہ بیچنے والوں سے ناراض نہیں اور ان کا خیال ہے کہ ایسے بہت سے ڈھانچے آخرکار میوزیم پہنچ جاتے ہیں۔

قیمتیں کیوں بڑھ رہی ہیں؟

سوتھبیز نے جولائی میں ‘گس’ نامی ٹی ریکس ریکارڈ 5 کروڑ 1 لاکھ ڈالر میں اور جولائی 2024 میں ‘ایپیکس’ نامی سٹیگوسورس 4 کروڑ 46 لاکھ ڈالر میں بیچا۔ ڈائنوسار امیر ترین لوگوں کے لیے شان کی چیز بن چکے ہیں، اور یہی بات ان میوزیمز کو پریشان کرتی ہے جو ایسی بولی نہیں لگا سکتے۔

ویسے پاکستان کی اپنی ڈائنوسار کہانی بھی ہے: جیولوجیکل سروے آف پاکستان نے بلوچستان کے ضلع بارکھان کے علاقے وٹاکری سے لمبی گردن والے سوروپوڈز اور گوشت خور ڈائنوسارز کے فوسل رپورٹ کیے ہیں جو تقریباً جوڈی جتنے ہی پرانے ہیں۔ ان میں سے کوئی ہڈی نیلامی میں نہیں جا رہی، اور زیادہ تر ماہرین یہی چاہتے ہیں۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا خریدار جوڈی کو کسی میوزیم کو دکھانے کے لیے دیتا ہے۔ یہی فیصلہ طے کرے گا کہ یہ فروخت تھی یا گمشدگی۔

ذرائع

  1. BBC News: Nanotyrannus skeleton sells for $47.3m in New York auction
  2. NBC New York (AP): Rare fossil of T. rex cousin goes on display in NYC before auction
  3. Newser: Dinosaur's price skyrocketed in 12 'thrilling' minutes of bidding
  4. Sindh University Research Journal: dinosaur fossils of the Vitakri area, Balochistan

یہ خبر اے آئی کی مدد سے تحقیق اور تحریر کی گئی، پھر شائع کرنے سے پہلے ہمارے ایڈیٹر نے اس کی جانچ اور تدوین کی۔

مزید پڑھیں