یوم سیاہ کشمیر 2026: 27 اکتوبر کیوں منایا جاتا ہے اور آج کیا ہو رہا ہے
یوم سیاہ کشمیر پاکستان میں ٹرینڈ کر رہا ہے۔ 27 اکتوبر کی تاریخ کہاں سے آئی، اس سال قیادت نے کیا کہا، آج کی تقریبات اور بھارت اس دن کو کیسے دیکھتا ہے۔

یوم سیاہ کشمیر ہر سال 27 اکتوبر کو اس دن کی یاد میں منایا جاتا ہے جب 1947 میں بھارتی فوج سری نگر میں اتری تھی۔ اس سال یہ دن منگل کو ہے، اور آج صبح گوگل ٹرینڈز پر پاکستان میں “کشمیر بلیک ڈے” سب سے زیادہ تلاش کی جانے والی چیزوں میں شامل ہے۔
یہ 79ویں برسی ہے۔ وزیر اعظم شہباز شریف، صدر آصف علی زرداری اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے بیانات جاری کیے، جبکہ ملک بھر کے اضلاع میں ریلیاں، سیمینار اور خاموشی کے لمحات رکھے گئے ہیں۔
27 اکتوبر کو یوم سیاہ کیوں کہا جاتا ہے؟
بھارت کے مؤقف کے مطابق 26 اکتوبر 1947 کو جموں و کشمیر کے مہاراجہ ہری سنگھ نے بھارت سے الحاق کی دستاویز پر دستخط کیے۔ اگلی صبح، 27 اکتوبر کو بھارتی فوجی جہازوں کے ذریعے سری نگر پہنچائے گئے۔
پاکستان اور حق خود ارادیت کی حامی کشمیری جماعتوں کا کہنا ہے کہ یہ الحاق عوام کی مرضی نہیں تھا، اس لیے وہ اس دن کو قبضے کا آغاز مانتے ہیں۔ یہ دن لائن آف کنٹرول کے دونوں طرف کے کشمیری، پاکستانی اور بیرون ملک کشمیری برادری مناتی ہے، عموماً سیاہ جھنڈوں، سیاہ پٹیوں اور ریلیوں کے ساتھ۔
اس سال قیادت نے کیا کہا
ڈان کے مطابق شہباز شریف نے کہا کہ 79 سال پہلے بھارتی فوج کی آمد سے ایک “المناک باب” شروع ہوا، اور کشمیری سیاسی رہنماؤں اور انسانی حقوق کے کارکنوں کی طویل نظربندی پر تشویش ظاہر کی۔ انہوں نے پاکستان کے مؤقف کو “واضح، مستقل اور اصولی” قرار دیا اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کا مطالبہ دہرایا۔
صدر زرداری نے کہا کہ کشمیری کئی دہائیوں سے تنازع اور پابندیاں جھیل رہے ہیں، اور عالمی برادری سے مسلسل توجہ کی اپیل کی۔ اسحاق ڈار نے کہا کہ 5 اگست 2019 کے بھارتی اقدامات نے، جب خطے کی خصوصی حیثیت ختم کی گئی، حالات بگاڑے مگر اس کی متنازع حیثیت نہیں بدل سکتے، اور یہ مسئلہ طاقت سے حل نہیں ہو سکتا۔
آج کیا ہو رہا ہے
- سندھ: وفاقی اور صوبائی نوٹیفکیشن کے تحت صبح 10 بجے پورے صوبے میں ایک منٹ کی خاموشی، ضلعی ریلیاں، اور اسکولوں کالجوں میں مباحثے اور مضمون نویسی کے مقابلے۔ یہ تفصیل سندھ حکومت کی ترجمان نے ڈیلی ٹائمز میں لکھی۔
- سرگودھا: اے پی پی کے مطابق سیمینار، آرٹس کونسل سے جی پی او چوک تک ریلی، تصویری نمائش اور پانچ منٹ کا بلیک آؤٹ۔
- دیگر علاقے: پچھلے برسوں میں پنجاب، خیبر پختونخوا اور آزاد کشمیر میں ایسی ہی ریلیاں اور سیمینار ہوئے، اور بیرون ملک پاکستانی سفارت خانوں نے تقریبات رکھیں۔
یہ عام تعطیل نہیں ہے۔ دفاتر، اسکول اور بینک معمول کے مطابق کھلے ہیں۔
بھارت 27 اکتوبر کو کیسے دیکھتا ہے؟
بھارت کا مؤقف ہے کہ 1947 کے الحاق کے ذریعے پورا جموں و کشمیر بھارت کا حصہ بنا، اور وہ کشمیر پر پاکستان کے بیانات کو اپنے اندرونی معاملات میں مداخلت کہہ کر مسترد کرتا ہے۔ بھارتی فوج 27 اکتوبر کو “انفنٹری ڈے” مناتی ہے، اور 1st سکھ بٹالین کے ان فوجیوں کو یاد کرتی ہے جنہیں 22 اکتوبر 1947 کو ریاست میں داخل ہونے والے قبائلی لشکر کو روکنے کے لیے سری نگر پہنچایا گیا۔
لائن آف کنٹرول کے دونوں طرف ایک ہی صبح کے بالکل الگ معنی ہیں، اسی لیے یہ تاریخ ہر سال لوٹ کر آتی ہے۔
سرچ میں اضافہ کیوں؟
زیادہ تر لوگ سادہ سوال پوچھ رہے ہیں: اسے یوم سیاہ کیوں کہتے ہیں، کیا آج چھٹی ہے، اور خاموشی کس وقت ہوگی۔ 79ویں برسی ایسے مہینے میں آئی ہے جب پاکستان کی توجہ خلیج کی صورتحال پر بھی ہے، اس لیے کشمیر کے بیانات بڑی سفارتی خبروں کے ساتھ سامنے آئے۔ اس معاملے پر اگلی مقررہ تاریخ 5 فروری، یوم یکجہتی کشمیر ہے، جو پاکستان میں عام تعطیل ہوتی ہے۔
ذرائع
یہ خبر اے آئی کی مدد سے تحقیق اور تحریر کی گئی، پھر شائع کرنے سے پہلے ہمارے ایڈیٹر نے اس کی جانچ اور تدوین کی۔



