نئے کرنسی نوٹ: کابینہ نے ڈیزائن منظور کر لیے، دس روپے کا نوٹ سکے میں بدلے گا

وفاقی کابینہ نے نئے نوٹوں کے ڈیزائن اور دس روپے کے سکے کی منظوری دے دی۔ کیا بدلے گا، پرانے نوٹوں کا کیا ہوگا، اور ابھی تک کون سی بات معلوم نہیں؟

دس روپے کا موجودہ نوٹ جس پر قائد اعظم محمد علی جناح کی تصویر ہے
تصویر: Gulf News

پاکستان میں نئے کرنسی نوٹ آ رہے ہیں اور دس روپے کا نوٹ ختم ہونے والا ہے۔ وزیر اعظم شہباز شریف کی صدارت میں وفاقی کابینہ نے بدھ 4 نومبر کو نئے نوٹوں کے ڈیزائن کی منظوری دی، اور ساتھ ہی دس روپے کا سکہ متعارف کرانے کی بھی، جو دس روپے کے نوٹ کی جگہ لے گا۔

اسی لیے رات بھر گوگل پر “بینک نوٹ” اور نئے نوٹوں کی تلاش بڑھ گئی۔ لوگ دو باتیں جاننا چاہتے ہیں: نئے نوٹ کیسے ہوں گے، اور جیب میں پڑے پرانے نوٹ چلیں گے یا نہیں۔ پہلی بات کا جواب یہ ہے کہ ڈیزائن ابھی عوام کو نہیں دکھائے گئے۔ دوسری بات پر، حکومت کے بیان میں کہیں نہیں لکھا کہ پرانے نوٹ بند ہو رہے ہیں۔

کابینہ نے کیا منظور کیا

وزیر اعظم ہاؤس کے بیان کے مطابق کابینہ نے وزارت خزانہ کی سفارش پر نئے ڈیزائن منظور کیے۔ مقصد یہ ہے کہ جعلی نوٹ بنانا مشکل ہو اور روزمرہ کی نقدی محفوظ رہے۔

  • نئے ڈیزائن: ملک بھر کے آرٹسٹوں اور ڈیزائنرز سے تجاویز مانگی گئیں، اور وزیر اعظم کی بنائی کمیٹی نے متعلقہ لوگوں سے مشورے کے بعد انہیں حتمی شکل دی۔
  • بہتر سکیورٹی: نئے نوٹوں میں جعل سازی روکنے کے بہتر فیچر ہوں گے۔
  • زیادہ عمر: جدید میٹیریل استعمال ہوگا تاکہ نوٹ زیادہ دیر چلیں۔
  • دس روپے کا سکہ: دس روپے کا نوٹ سکے میں بدل جائے گا۔

دس روپے کا نوٹ کیوں ختم ہو رہا ہے

دس روپے کا نوٹ سب سے زیادہ ہاتھوں سے گزرتا ہے اور سب سے جلدی پھٹتا ہے۔ اگست میں اسٹیٹ بینک کے ڈپٹی گورنر ڈاکٹر عنایت حسین نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی خزانہ کو بتایا تھا کہ اس کی چھپائی مہنگی ہو گئی ہے، اس لیے اسے ختم کرنے پر غور ہو رہا ہے اور نئی سیریز آنے پر یہ نوٹ ختم ہو جائے گا۔ اسٹیٹ بینک اس سے پہلے بھی دو بار ایسی کوشش کر چکا ہے۔

سکہ بنانا ایک بار مہنگا پڑتا ہے مگر برسوں چلتا ہے، جبکہ روز استعمال ہونے والا کاغذی نوٹ جلد گھس جاتا ہے۔ ساری دلیل یہی ہے۔

نئے نوٹ کب آئیں گے؟

کابینہ نے کوئی تاریخ نہیں دی۔ اگست میں اسٹیٹ بینک کے ڈپٹی گورنر سلیم اللہ نے کہا تھا کہ نئے نوٹ نومبر سے دسمبر 2026 کے درمیان متوقع ہیں۔ کابینہ کو پہلے بتایا گیا تھا کہ نئی سیریز میں سو، پانچ سو، ایک ہزار اور پانچ ہزار کے نئے نوٹ ہوں گے۔ موجودہ سیریز 2005 سے چھپ رہی ہے۔

یہ معاملہ آسانی سے آگے نہیں بڑھا۔ جنوری میں کابینہ ارکان نے سوال اٹھائے اور معاملہ کمیٹی کو بھیجا گیا جس نے ڈیزائن میں تبدیلیاں کیں۔ اگست میں سینیٹ کمیٹی کے چیئرمین سلیم مانڈوی والا نے ڈیزائن کا ٹھیکہ دینے کے طریقے پر بھی اعتراض کیا تھا۔

ابھی آپ کو کیا کرنا ہے

کچھ نہیں۔ اپنے نوٹ معمول کے مطابق استعمال کرتے رہیں۔ اسٹیٹ بینک جب نئے نوٹ جاری کرتا ہے تو پرانے نوٹ بینکوں سے بدلوانے کے لیے عموماً لمبا وقت دیا جاتا ہے۔ واٹس ایپ یا ٹک ٹاک پر جو کوئی فیس لے کر پرانے نوٹ “بدلنے” کی پیشکش کرے یا کہے کہ کوئی نوٹ بند ہو چکا ہے، اس سے ہوشیار رہیں۔ اصل اعلان اسٹیٹ بینک اور وزارت خزانہ ہی کریں گے۔ اب اگلی خبر اسٹیٹ بینک کی طرف سے ڈیزائن کی رونمائی ہوگی۔

مزید پڑھیں