رسل برانڈ کیس کا فیصلہ: ریپ اور جنسی حملوں کے مجرم قرار، جیل بھیج دیے گئے
لندن کی جیوری نے 5 نومبر کو رسل برانڈ کو ایک ریپ اور تین جنسی حملوں کا مجرم قرار دیا اور تین دیگر الزامات سے بری کیا۔ سزا پیر کو سنائی جائے گی۔

برطانوی کامیڈین، اداکار اور میزبان رسل برانڈ کو جمعرات 5 نومبر کو لندن کی ساؤتھ وارک کراؤن کورٹ میں چار ہفتے کے مقدمے کے بعد جیوری نے ایک ریپ اور تین جنسی حملوں کا مجرم قرار دے دیا۔
جیوری نے انہیں ریپ کے دو دیگر الزامات اور غیر اخلاقی حملے کی کوشش کے ایک الزام سے بری کر دیا۔
جیل بھیج دیا گیا
جج جسٹس جوئل بیناتھن نے برانڈ کو حراست میں بھیج دیا۔ انہوں نے کہا کہ ان فیصلوں کا مطلب “قید کی ایک بڑی سزا” ہے اور یہ کہ وہ پیر کو باقاعدہ سزا سنائے جانے تک جیل میں رہیں گے۔
برطانوی رپورٹس کے مطابق میٹروپولیٹن پولیس نے تصدیق کی ہے کہ برانڈ کے خلاف ریپ کے مزید الزامات کی بھی تحقیقات ہو رہی ہیں۔
مقدمہ کیسے شروع ہوا
یہ الزامات 2023 میں دی ٹائمز، سنڈے ٹائمز اور چینل 4 کے پروگرام ڈسپیچز کی مشترکہ تحقیقات سے سامنے آئے، جس میں کئی خواتین نے 2000 کی دہائی اور 2010 کی ابتدا میں برانڈ کے رویے کے بارے میں الزامات لگائے۔ یہ وہ دور تھا جب وہ برطانوی ٹی وی، ریڈیو اور ہالی وڈ فلموں میں اپنی شہرت کے عروج پر تھے۔
برانڈ شروع سے تمام الزامات سے انکار کرتے رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کے تعلقات “ہمیشہ اور مکمل طور پر رضامندی سے” تھے۔ میٹروپولیٹن پولیس نے 2025 میں ان پر فردِ جرم عائد کی تھی۔
یہ ٹرینڈ کیوں کر رہا ہے
برانڈ برطانیہ اور امریکہ میں ایک جانا پہچانا نام تھے، فلموں سے لے کر گلوکارہ کیٹی پیری سے ان کی مختصر شادی تک۔ پچھلے چند برسوں میں انہوں نے سیاست، صحت اور مذہب پر ویڈیوز سے آن لائن بڑی تعداد میں فالوورز بنائے، جن میں سے بہت سے ان کا دفاع کرتے رہے۔ جمعرات کو یہ فیصلہ پاکستان میں سب سے زیادہ سرچ ہونے والی چیزوں میں تھا۔
برانڈ کو پیر کو سزا سنائی جائے گی۔



