پنجاب بلدیاتی انتخابات 2027: الیکشن کمیشن نے 7 فروری مقرر کر دی، کے پی مؤخر

الیکشن کمیشن پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کا پہلا مرحلہ 7 فروری 2027 کو کرائے گا، مگر کے پی کی تمام تیاریاں روک دی ہیں۔ آرٹیکل 140-اے کا حکم کیا ہے۔

Election Commission of Pakistan building in Islamabad
تصویر: Dawn

الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) نے جمعرات 5 نومبر کو فیصلہ کیا کہ پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کا پہلا مرحلہ 7 فروری 2027 کو ہوگا۔ خیبر پختونخوا میں اس کے برعکس ہوا: کمیشن نے انتخابات “اگلے احکامات تک” مؤخر کر دیے اور تمام تیاریاں روک دیں۔

کے پی کے انتخابات کیوں رکے

اس کی وجہ ایک دن پہلے سامنے آئی۔ بدھ 4 نومبر کو وفاقی حکومت نے آئین کے آرٹیکل 140-اے کی معطلی پورے خیبر پختونخوا تک بڑھا دی، اور یہ حکم اسی دن سرکاری گزٹ میں شائع ہوا۔

آرٹیکل 140-اے وہ شق ہے جس کے تحت ہر صوبے کو منتخب مقامی حکومتیں قائم کرنا لازم ہے۔ ای سی پی کے ایک سینیئر اہلکار کے مطابق پورے کے پی میں اس کی معطلی کے بعد کمیشن کے پاس آگے بڑھنے کی کوئی قانونی بنیاد نہیں۔ اہلکار نے بتایا کہ معطلی اس وقت تک برقرار رہے گی جب تک حکومت اسے واپس نہ لے، ایمرجنسی ختم نہ ہو یا عدالت اسے کالعدم نہ کر دے۔

یہ معطلی خیبر پختونخوا میں 11 اکتوبر کو لگائی گئی ایمرجنسی کا حصہ ہے، جس کے تحت وفاقی کابینہ نے وزیرِ اعلیٰ کے اختیارات گورنر فیصل کریم کنڈی کو سونپ دیے۔ گورنر نے بعد ازاں ایمرجنسی کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ یہ غیر معمولی حالات میں لگائی گئی۔

ایک ہفتے میں الٹا فیصلہ

یہ فیصلہ ای سی پی کے اپنے 28 اکتوبر کے حکم کو الٹ دیتا ہے، جب اس نے کے پی کو ہدایت کی تھی کہ جن اضلاع میں حلقہ بندی مکمل ہے وہاں فوراً انتخابات کرائے جائیں، صرف ان 12 اضلاع کو چھوڑ کر جو اس وقت خصوصی ہنگامی اقدامات کے تحت تھے۔

آپ کے لیے اس کا مطلب

  • پنجاب: پہلا مرحلہ 7 فروری 2027 کو ہے۔ ای سی پی شیڈول، کاغذاتِ نامزدگی کی تاریخیں اور پہلے مرحلے میں ووٹ ڈالنے والے اضلاع کا اعلان کرے گا؛ اس سے پہلے ای سی پی کی 8300 ایس ایم ایس سروس پر اپنا ووٹ چیک کر لیں۔
  • کے پی: کوئی نئی تاریخ نہیں۔ جب تک آرٹیکل 140-اے کی معطلی ختم یا کالعدم نہیں ہوتی، مقامی کونسلیں منتخب نمائندوں کے بغیر رہیں گی۔

آئین منتخب مقامی حکومتوں کو لازمی قرار دیتا ہے، اس لیے کے پی کے فیصلے کو اب بھی عدالت میں چیلنج کیا جا سکتا ہے؛ جب تک معاملہ طے نہیں ہوتا، گلی محلوں سے صفائی تک کونسلوں کی خدمات تعینات سرکاری افسران کے پاس رہیں گی۔

مزید پڑھیں