پاکپتن حادثہ: دیپالپور روڈ پر بس اور ٹرک کی ٹکر، 11 جاں بحق، 33 زخمی
جمعرات کو پاکپتن کے قریب ملتان سے آنے والی بس 10 پہیوں والے ٹرک سے ٹکرا گئی، کم از کم 11 افراد جاں بحق اور 33 زخمی۔ کیا ہوا، ریسکیو اور وزیراعلیٰ کا حکم۔

جمعرات 5 نومبر کو پنجاب میں پاکپتن کے قریب دیپالپور روڈ پر ایک مسافر بس اور 10 پہیوں والے ٹرک کی ٹکر میں کم از کم 11 افراد جاں بحق اور 33 زخمی ہو گئے۔
بس ملتان سے روانہ ہوئی تھی۔ حکام نے اس کی منزل مختلف بتائی، کچھ کے مطابق قصور اور کچھ کے مطابق لاہور۔ کئی مسافر ملبے میں پھنس گئے۔
تین گھنٹے کا ریسکیو
ریسکیو 1122 کی ٹیموں نے تقریباً تین گھنٹے کے آپریشن میں کرینوں اور بھاری مشینری کی مدد سے لوگوں کو نکالا۔ زخمیوں کو پاکپتن کے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر (ڈی ایچ کیو) اسپتال پہنچایا گیا، جہاں ایمرجنسی نافذ کر کے اضافی عملہ بلایا گیا۔
حکام کے مطابق جاں بحق ہونے والوں میں بس میں سفر کرنے والے وردی پوش اہلکار بھی شامل ہیں، جن میں ریسکیو 1122 کا ایک اہلکار بھی تھا۔ دوسرے اہلکاروں کے محکموں کے بارے میں رپورٹس مختلف ہیں۔
وجہ ابھی معلوم نہیں
ٹکر کی اصل وجہ ابھی سامنے نہیں آئی۔ پولیس تحقیقات کر رہی ہے۔
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے حادثے کی رپورٹ طلب کی۔
سڑکوں کا خطرناک موسم
نومبر میں پنجاب کی سڑکوں پر رش ہوتا ہے: شادیوں کا سفر، فصلوں کی ترسیل اور سردیوں کی پہلی دھند۔ دیپالپور روڈ جیسی سنگل سڑکوں پر، جہاں بسیں اور بھاری ٹرک دو لینوں میں چلتے ہیں، بدترین حادثے ہوتے ہیں۔ حفاظت کا بنیادی اصول یہی ہے کہ رات اور دھند میں رفتار کم رکھیں، ہیڈ لائٹس نیچی رکھیں اور تنگ سڑکوں پر ٹرکوں کو اوور ٹیک نہ کریں۔
پولیس نے ابھی جاں بحق افراد کے نام جاری نہیں کیے۔



