عمران خان اپیل کی سماعت: اسلام آباد ہائیکورٹ 10 نومبر کو 190 ملین پاؤنڈ کیس سنے گی
اسلام آباد ہائیکورٹ نے 190 ملین پاؤنڈ کیس میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کی سزاؤں کے خلاف اپیلیں پیر کو سماعت کے لیے مقرر کر دیں۔ کیس کیا ہے اور تاخیر کیوں ہوئی۔

اسلام آباد ہائیکورٹ پیر 10 نومبر کو پی ٹی آئی کے بانی عمران خان اور بشریٰ بی بی کی 190 ملین پاؤنڈ کیس میں سزاؤں کے خلاف اپیلوں کی سماعت کرے گی۔ رجسٹرار آفس کی بدھ 4 نومبر کو جاری کاز لسٹ کے مطابق کیس چیف جسٹس سردار محمد سرفراز ڈوگر اور جسٹس محمد آصف پر مشتمل ڈویژن بینچ کے سامنے لگا ہے۔
کئی ہفتوں میں یہ پہلی پکی تاریخ ہے۔ پچھلی سماعت پر عمران خان کے وکیل بیرسٹر سلمان صفدر کی درخواست پر بینچ کیس سنے بغیر ملتوی ہو گیا تھا، اور عدالت نے وکلا کو اپیلوں پر دلائل کے لیے تیار ہو کر آنے کا کہا تھا۔
سزائیں کیا تھیں
جنوری 2025 میں اسلام آباد کی احتساب عدالت نے نیب ریفرنس میں عمران خان کو 14 سال اور بشریٰ بی بی کو 7 سال قید کی سزا سنائی تھی۔ دونوں نے ہائیکورٹ میں اپیل کی۔
190 ملین پاؤنڈ کیس کیا ہے
کیس القادر ٹرسٹ کے گرد ہے، جو 2018 میں بنا ایک فلاحی ٹرسٹ ہے اور اسلام آباد کے باہر ایک یونیورسٹی چلاتا ہے۔
- حکومت کا مؤقف: نیب کے مطابق ٹرسٹ کے ذریعے ایک پراپرٹی ٹائیکون سے کروڑوں ڈالر مالیت کی زمین لی گئی، اور بدلے میں عمران خان کی حکومت نے برطانیہ سے واپس آنے والی تقریباً 190 ملین پاؤنڈ کی رقم قومی خزانے میں جمع کرانے کے بجائے اس کاروباری شخصیت کے جرمانے کی ادائیگی میں استعمال ہونے دی۔
- عمران خان کا مؤقف: وہ الزامات کی تردید کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ نہ انہیں اور نہ ان کی اہلیہ کو ٹرسٹ یا ان لین دین سے کوئی مالی فائدہ ہوا۔
اپیل میں اتنی دیر کیوں
وکلا صفائی بار بار عدالت کو بتاتے رہے ہیں کہ انہیں اپنے مؤکلوں سے ہدایات لینے کا موقع نہیں مل رہا۔ سلمان صفدر نے کہا کہ وہ بینچ کی ہدایت پر عمران خان سے ملے، مگر دسمبر 2025 کے بعد سے بشریٰ بی بی سے نہیں مل سکے۔ انہوں نے استدعا کی کہ اپیلیں تب سنی جائیں جب وفاقی آئینی عدالت بشریٰ بی بی کی سزا معطلی کی زیر التوا درخواست کا فیصلہ کر دے۔
ایک پچھلی سماعت پر سینئر وکیل سردار لطیف کھوسہ سڑکیں بند ہونے کی وجہ سے عدالت نہیں پہنچ سکے، اور ایک اور وکیل خالد یوسف چوہدری نے کہا کہ اس دن عدالتی دفتر نے ان کی درخواست لینے سے انکار کر دیا۔ چیف جسٹس ڈوگر نے سلمان صفدر سے پوچھا کہ کیا کسی حکم سے انہیں لگا کہ بینچ جانبدار ہے، تو انہوں نے کہا نہیں۔
پیر کو کیا ہوگا
توقع ہے کہ بینچ اپیلوں پر دلائل سنے گا۔ وہ پہلے وکلا صفائی کی درخواستیں بھی نمٹا سکتا ہے، جن میں آئینی عدالت کے فیصلے کا انتظار کرنے کی استدعا شامل ہے۔ دلائل کے پہلے دن فیصلے کی توقع نہیں۔
اس کا نتیجہ پی ٹی آئی سے کہیں آگے اہم ہے: یہی وہ سزا ہے جس کی وجہ سے سابق وزیر اعظم جیل میں ہیں، اور ان کی رہائی ان کی جماعت کا سب سے بڑا مطالبہ ہے۔



