کراچی کال سینٹر پر این سی سی آئی اے کا چھاپہ: شاہراہ فیصل سے 273 گرفتار

این سی سی آئی اے کے مطابق شاہراہ فیصل کے مبینہ فراڈ کال سینٹر سے 273 افراد گرفتار، جن میں 100 سے زائد خواتین اور 42 کم عمر شامل۔ کیا برآمد ہوا اور آگے کیا ہو گا۔

کراچی کی شاہراہ فیصل پر چھاپے والے کال سینٹر کے باہر رات کو جمع لوگ
تصویر: Express Tribune

نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کا کہنا ہے کہ اس نے کراچی کی شاہراہ فیصل پر ایک مبینہ فراڈ کال سینٹر پر چھاپہ مار کر 273 افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔ یہ شہر میں کسی ایک کال سینٹر کے خلاف سب سے بڑی کارروائیوں میں سے ایک ہے۔

این سی سی آئی اے کے ایڈیشنل ڈائریکٹر شہزاد اکبر نے بتایا کہ گرفتار ہونے والوں میں 100 سے زائد خواتین اور 42 کم عمر لڑکے لڑکیاں شامل ہیں۔ ایجنسی کا الزام ہے کہ یہ سینٹر بیرون ملک لوگوں کو نشانہ بناتا تھا اور جعلی شناخت، شناخت کی چوری اور کالر آئی ڈی اسپوفنگ استعمال کرتا تھا، جس میں کال ایسے دکھائی دیتی ہے جیسے کسی بینک یا سرکاری دفتر سے آ رہی ہو۔

کیا برآمد ہوا

این سی سی آئی اے کے مطابق اہلکاروں نے قبضے میں لیے:

  • 339 لیپ ٹاپ
  • 152 موبائل فون
  • 4 کمپیوٹر سی پی یو

شہزاد اکبر کے مطابق ہر لیپ ٹاپ میں مختلف جعلی آن لائن شناختیں موجود تھیں۔ حکام کے مطابق بلوچ کالونی پل کے قریب یہ کاروبار ووکسٹرون سولیوشنز کے نام سے چل رہا تھا۔ چھاپہ اسی ہفتے مارا گیا؛ رپورٹس میں تاریخ 3 یا 4 نومبر بتائی گئی ہے۔

عدالت، سب جیل اور احتجاج

کراچی کی ایک عدالت نے این سی سی آئی اے کو 9 ملزمان کا دو دن کا جسمانی ریمانڈ دیا، جن پر کام چلانے کا الزام ہے۔ باقیوں کو جوڈیشل ریمانڈ پر بھیجا گیا، اور سندھ محکمہ داخلہ نے انہیں رکھنے کے لیے کال سینٹر کی عمارت کو ہی سب جیل قرار دے دیا۔ سماعت کی رپورٹس کے مطابق خواتین اور کم عمر افراد کی ضمانت منظور ہو گئی۔

تعداد پر اختلاف ہے۔ وکیلِ صفائی نے عدالت کو بتایا کہ گرفتار افراد میں 70 سے زائد کم عمر اور 80 سے زائد خواتین ہیں، جو این سی سی آئی اے کے اعداد سے مختلف ہے۔ گرفتار نوجوانوں کے گھر والوں اور مقامی رہائشیوں نے بلوچ کالونی پل کے قریب احتجاج کیا اور کہا کہ ان میں سے بہت سے عام ملازم تھے جو نوکری کے اشتہار دیکھ کر آئے تھے۔

بڑا مسئلہ

شہزاد اکبر کے مطابق اس وقت کراچی میں تقریباً 350 کال سینٹر فراڈ میں ملوث ہیں۔ پاکستان کا آئی ٹی اور کال سینٹر کا شعبہ ملک کے لیے زرمبادلہ کماتا ہے، اور یہ صنعت عرصے سے کہہ رہی ہے کہ فراڈ کرنے والے ان ایماندار کمپنیوں کو نقصان پہنچاتے ہیں جو غیر ملکی کلائنٹس کے لیے کام کرتی ہیں۔

نوکری ڈھونڈنے والوں کے لیے یہ ایک انتباہ ہے: رات کی شفٹ والی “کال سینٹر” نوکری جس میں تنخواہ زیادہ ہو مگر کلائنٹ کا پتہ نہ ہو، ایسا اسکرپٹ جس میں آپ کو بینک، ٹیکس آفس یا ٹیک سپورٹ بن کر بات کرنی ہو، یا یہ کہا جائے کہ کام کے بارے میں کسی کو نہ بتائیں، یہ سب خطرے کی نشانیاں ہیں۔

جسمانی ریمانڈ پر موجود 9 ملزمان دو دن پورے ہونے پر دوبارہ عدالت میں پیش کیے جائیں گے۔

مزید پڑھیں