پاکستان میں پولیو کیس 2026: باڑہ میں سات ماہ کا بچہ پولیو کا شکار، نواں کیس

خیبر کی تحصیل باڑہ میں سات ماہ کا بچہ 2026 کا نواں پولیو کیس ہے، اس ضلع کا تیسرا۔ کیسز کہاں ہیں اور اس وقت کون سی مہم جاری ہے۔

A health worker gives polio drops to a young child at the doorway of a house
تصویر: Dawn

ضلع خیبر کی تحصیل باڑہ کی یونین کونسل مستک کے سات ماہ کے بچے میں پولیو کی تصدیق ہو گئی ہے، جو 2026 میں پاکستان کا نواں پولیو کیس ہے۔ پولیو کے خاتمے کے لیے قومی ایمرجنسی آپریشنز سینٹر (این ای او سی) نے جمعرات 5 نومبر کو اس کا اعلان کیا۔

یہ ایک ہفتے میں خیبر سے دوسرا کیس ہے: اتوار کو این ای او سی نے اسی ضلع سے 13 ماہ کی بچی کو آٹھویں کیس کے طور پر رپورٹ کیا تھا۔

اس سال کے کیسز کہاں ہیں

  • خیبر پختونخوا: 7 کیسز، جن میں ضلع خیبر کے 3 شامل ہیں
  • سندھ: 2 کیسز
  • پنجاب: فروری 2025 کے بعد کوئی کیس نہیں
  • بلوچستان: 2025 یا 2026 میں کوئی کیس نہیں
  • آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان: پولیو سے پاک

این ای او سی کے مطابق تازہ کیس کا وائرس جینیاتی طور پر افغانستان سے جڑا ہوا ہے، جہاں اس سال 50 کیسز سامنے آ چکے ہیں۔ اس کے بیان میں کہا گیا: “یہ کیس واضح یاد دہانی ہے کہ پولیو وائرس سرحدوں کو نہیں مانتا۔”

وزیرِ اعظم کی ہدایت: ایک ہفتے میں پلان

وزیرِ اعظم شہباز شریف نے صورتحال پر بریفنگ کے بعد حکام کو ایک ہفتے کے اندر ایکشن پلان لانے کی ہدایت کی۔ انہوں نے کہا: “پولیو سے پاک پاکستان کا حصول بڑا چیلنج ہے۔ تاہم ہمارا عزم اور حوصلہ اس چیلنج سے کہیں زیادہ مضبوط ہے۔”

والدین اب کیا کریں

گھر گھر ویکسینیشن مہم پہلے ہی 97 اضلاع میں جاری ہے، جن میں خیبر بھی شامل ہے، اور اس کا ہدف پانچ سال سے کم عمر تقریباً 2 کروڑ 40 لاکھ بچوں تک پہنچنا ہے۔ پولیو کا کوئی علاج نہیں، اور دو قطرے ہر بار مفت پلائے جاتے ہیں، چاہے بچے کو پہلے کتنی ہی بار ویکسین دی جا چکی ہو۔ ہر اضافی خوراک تحفظ بڑھاتی ہے، اسی لیے صحت کارکن والدین سے کہتے ہیں کہ ہر مہم میں گھر کے ہر بچے کو قطرے پلانے دیں۔

اگر ویکسینیٹرز آپ کے گھر نہیں پہنچ سکے تو پولیو ہیلپ لائن 1166 بتا سکتی ہے کہ قطرے کہاں سے پلوائے جائیں۔

مزید پڑھیں