مریم نواز کا چوہدری سالک حسین کو 5 ارب روپے کا ہتکِ عزت نوٹس
وزیر اعلیٰ پنجاب نے وفاقی وزیر، اے آر وائی کے میزبان اور چینل چیئرمین سے سات دن میں کرپشن کے الزامات واپس لینے کا کہا ہے۔ سالک حسین اپنی بات پر قائم ہیں۔

وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے وفاقی وزیر چوہدری سالک حسین کو 5 ارب روپے ہرجانے کا ہتکِ عزت نوٹس بھیج دیا ہے۔ سالک حسین نے ایک ٹی وی ٹاک شو میں کہا تھا کہ پنجاب میں کرپشن عام ہے۔ سمندر پار پاکستانیوں کے وزیر اور ق لیگ کے رہنما سالک حسین کہتے ہیں کہ وہ اپنی بات واپس نہیں لیں گے۔
یہ معاملہ دو افراد تک محدود نہیں۔ ق لیگ حکمران اتحاد کا حصہ ہے اور سالک حسین کے بڑے بھائی چوہدری شافع حسین خود مریم نواز کی کابینہ میں صنعت کے وزیر ہیں۔
سالک حسین نے کیا کہا
پیر 2 نومبر کی رات سالک حسین اے آر وائی نیوز کے پروگرام میں نعیم اشرف بٹ کے مہمان تھے۔ انہوں نے سابق وزیر اعلیٰ پرویز الٰہی کی تعریف کی، کہا کہ ترقیاتی فنڈز کا بڑا حصہ لاہور پر لگ رہا ہے، سرکاری جہازوں کے استعمال پر سوال اٹھایا اور کہا کہ انہیں کرپشن کی شکایات مسلسل سننے کو ملتی ہیں۔ ثبوت پوچھنے پر انہوں نے کہا کہ ان کے پاس ثبوت نہیں، لیکن وہ روز پنجاب میں کرپشن کی کہانیاں سنتے ہیں۔
نوٹس میں کیا مانگا گیا
منگل کو وزیر اعلیٰ کے وکلا کی جانب سے بھیجے گئے نوٹس میں تین نام ہیں: سالک حسین، میزبان نعیم اشرف بٹ اور چینل کے چیئرمین محمد اقبال۔ یہ بات مسلم لیگ ن نے ایکس پر بتائی۔ نوٹس میں مطالبہ ہے کہ:
- الزامات واپس لیے جائیں؛
- غیر مشروط معافی اور وضاحت شائع کی جائے؛
- انٹرویو کے متعلقہ حصے ہٹائے یا درست کیے جائیں؛
- 5 ارب روپے ہرجانہ ادا کیا جائے۔
اس کے لیے سات دن دیے گئے ہیں، ورنہ عدالت سے رجوع کیا جائے گا۔ نوٹس کے مطابق الزامات بے بنیاد ہیں اور ان کے ساتھ کسی دستاویزی کیس یا شکایت کا حوالہ نہیں دیا گیا۔
اٹک میں ایک تقریب سے خطاب میں مریم نواز نے کہا کہ وہ کرپشن کے جھوٹے الزامات برداشت نہیں کریں گی اور سالک حسین ثبوت لائیں یا عدالت کا سامنا کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ اصل ناراضی یہ ہے کہ انہوں نے حال ہی میں گجرات کے ڈپٹی کمشنر کو تبدیل کیا۔
سالک حسین کا جواب
سالک حسین نے صحافیوں سے کہا کہ انہوں نے ایک سوال کا ایمانداری سے جواب دیا تھا اور وہ اس پر قائم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ “ہاں، کرپشن یقیناً ہے” اور ساتھ کہا: “اللہ لوگوں کو غرور اور تکبر سے بچائے۔” ثبوت مانگنے پر انہوں نے کہا کہ انٹرویو دوبارہ سن لیں۔
آگے کیا ہوگا
پنجاب حکومت نے ہتکِ عزت کے مقدمات کے لیے ایڈووکیٹ جنرل کے ماتحت ایک خصوصی سیل بھی بنا دیا ہے۔ اگر اگلے ہفتے کے شروع تک معافی نہ آئی تو اگلا قدم عدالت میں مقدمہ ہوگا۔ پاکستان میں ہتکِ عزت کے کیس برسوں چلتے ہیں، اس لیے اتحاد کے اندر سیاسی اثرات فیصلے سے بہت پہلے سامنے آ سکتے ہیں۔



