لاہور کا اے کیو آئی 410، شہر پھر دنیا کا سب سے آلودہ قرار
جمعہ کی صبح لاہور کا ایئر کوالٹی انڈیکس 410 تک پہنچ گیا، جو آئی کیو ایئر کی فہرست میں سب سے بدتر تھا۔ یہ اعداد کیا کہتے ہیں اور اپنے گھر والوں کو کیسے بچائیں۔

جمعہ کی صبح لاہور ایک بار پھر دنیا کا سب سے آلودہ بڑا شہر تھا۔ ڈان کے مطابق سوئس ادارے آئی کیو ایئر کی لائیو رینکنگ میں لاہور کا ایئر کوالٹی انڈیکس 410 ریکارڈ ہوا جو “انتہائی غیر صحت بخش” درجے میں آتا ہے۔ دوسرے نمبر پر نئی دہلی 203 کے ساتھ کافی پیچھے تھا۔
یہ نمبر صبح بھر اوپر نیچے ہوتا رہا۔ جیو نیوز نے صبح تقریباً آٹھ بجے کے اعداد و شمار کی بنیاد پر 344 بتایا، مگر ساتھ یہ بھی بتایا کہ کچھ علاقوں میں حالت کہیں زیادہ خراب تھی: اقبال ٹاؤن 535، بیدیاں روڈ پر ایئرواش 497 اور کاہنہ 446۔ ڈیفنس فیز فائیو اور ماڈل ٹاؤن تقریباً 350 پر تھے۔
410 کا اے کیو آئی کتنا خطرناک ہے؟
یہ پیمانہ “خطرناک” درجے پر ختم ہوتا ہے اور لاہور اس کے قریب ہے۔ اصل مسئلہ پی ایم 2.5 ہے، یعنی دھوئیں اور گرد کے وہ باریک ذرات جو پھیپھڑوں سے ہوتے ہوئے خون تک پہنچ جاتے ہیں۔ ڈان کے مطابق آئی کیو ایئر نے لاہور میں ان ذرات کی مقدار عالمی ادارہ صحت کی سالانہ حد سے 45 گنا سے زیادہ بتائی، جبکہ جیو کی صبح والی ریڈنگ میں یہ 57 گنا تھی۔
جیو کے مطابق یہ ذرات فالج، دل کی بیماری اور سانس کی پرانی بیماریوں کا خطرہ بڑھاتے ہیں، اور یونیسف خبردار کرتا ہے کہ ایسی ہوا میں بچوں کو سینے کے انفیکشن کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔
پنجاب حکومت کے اپنے نظام نے، جو شہر کے دس اسٹیشنوں کا اوسط لیتا ہے، جمعرات صبح گیارہ بجے 339 ریکارڈ کیا، یہ بھی “انتہائی غیر صحت بخش” ہے۔ ڈان نے لکھا کہ دونوں نظام مختلف اسٹیشن اور مختلف اوسط استعمال کرتے ہیں اس لیے نمبر کم ہی ملتے ہیں۔ مگر خبر دونوں میں اچھی نہیں۔
ہر سال اکتوبر میں ایسا کیوں ہوتا ہے؟
اس موسم میں ٹھنڈی ہوا شہر کے اوپر نیچی بیٹھ جاتی ہے اور جو کچھ اس میں جاتا ہے اسے قید کر لیتی ہے: فصلوں کی باقیات جلانے کا دھواں، گاڑیوں کا دھواں، فیکٹریوں کا اخراج اور تعمیراتی گرد۔ اسموگ عام طور پر نومبر میں عروج پر ہوتی ہے۔
اس سال اضافہ تیزی سے ہوا ہے۔ 2 اکتوبر کو بھی لاہور آئی کیو ایئر کی فہرست میں پہلے نمبر پر تھا مگر تب اے کیو آئی 167 تھا۔ تین ہفتے بعد یہ دوگنے سے بھی زیادہ ہو چکا ہے۔
کیا حکومت کی اسموگ مہم کام کر رہی ہے؟
وزیر اعلیٰ مریم نواز نے ماحولیاتی قوانین توڑنے والی فیکٹریوں، دھواں چھوڑتی گاڑیوں اور اینٹوں کے بھٹوں کے خلاف مہم کا حکم دیا ہے۔ دی نیشن کے مطابق ستمبر کے آخر میں صوبائی حکومت نے بتایا کہ ڈرون اور فیلڈ اسکواڈز نے ایک دن میں 269 صنعتی یونٹس کا معائنہ کیا اور 11 کو سیل کیا۔
سب لوگ مطمئن نہیں۔ انسانی حقوق کے کارکن شیخ ثاقب نے ڈان کو بتایا کہ ان کے دونوں بچوں کو اسموگ کی وجہ سے گلے کا انفیکشن ہے اور موٹروے پر انہیں اب بھی فصلیں جلتی نظر آتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا: “دھواں چھوڑتی گاڑیاں اب بھی لاہور کی سڑکوں پر چل رہی ہیں۔” انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ والدین بچوں کو گھر رکھیں گے تو اسکولوں میں حاضری بہت کم ہو سکتی ہے۔
آج آپ کیا کر سکتے ہیں؟
آئی کیو ایئر کی لاہور کے لیے ہدایات سادہ ہیں اور اس ہفتے ان پر عمل کرنا بہتر ہے:
- باہر ورزش نہ کریں، خاص طور پر صبح سویرے کی سیر، کیونکہ تب ہوا عموماً سب سے خراب ہوتی ہے۔
- دروازے اور کھڑکیاں بند رکھیں۔
- باہر نکلیں تو اچھا ماسک پہنیں۔ این 95 یا کے این 95 کپڑے کے ماسک سے کہیں بہتر ہے۔
- گھر میں ایئر پیوریفائر ہو تو چلائیں، اور بچوں اور بزرگوں کو جتنا ہو سکے اندر رکھیں۔
گھر میں کسی کو دمہ یا دل کا مسئلہ ہو تو دوائیں پاس رکھیں اور سانس لینے میں دقت بڑھے تو جلد ڈاکٹر سے رجوع کریں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا پنجاب پچھلے برسوں کی طرح اسکول بند کرنے یا “اسموگ ایمرجنسی” کا اعلان کرتا ہے۔
ذرائع
یہ خبر اے آئی کی مدد سے تحقیق اور تحریر کی گئی، پھر شائع کرنے سے پہلے ہمارے ایڈیٹر نے اس کی جانچ اور تدوین کی۔



