خنجراب گرین چینل: پاکستان اور چین میں زرعی اشیا کی تیز کسٹمز کلیئرنس کا معاہدہ

سوست خنجراب سرحد سے گزرنے والے پھل، سبزیاں اور دیگر زرعی اشیا اب ترجیحی بنیاد پر کلیئر ہوں گی۔ تاجروں کے لیے کیا بدلے گا اور برف کی ڈیڈلائن کیا ہے؟

The Khunjerab Pass border gate on the Karakoram Highway below snow-capped mountains
تصویر: CPEC Info

پاکستان اور چین نے جمعرات 29 اکتوبر کو سوست خنجراب سرحد پر زرعی اشیا کے لیے کسٹمز “گرین چینل” کھولنے کے معاہدے پر دستخط کیے۔ طے شدہ فہرست میں شامل زرعی اور متعلقہ اشیا کی کھیپوں کو ترجیحی بنیاد پر پراسیس اور چیک کیا جائے گا، اور پھل سبزیوں جیسے جلد خراب ہونے والے سامان کو پہلے نمٹایا جائے گا تاکہ سرحد پر انتظار کم ہو۔

معاہدے پر اسلام آباد میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو میں آن لائن دستخط ہوئے۔ پاکستانی وفد کی قیادت ممبر کسٹمز (آپریشنز) سید شکیل شاہ نے کی، جبکہ چینی وفد کے سربراہ ارومچی کسٹمز کے ڈپٹی ہیڈ اور تاشکرغان کسٹمز کے ڈائریکٹر لی چنگ ہوا تھے۔

گرین چینل سے کیا بدلے گا؟

سرکاری اعلان کے مطابق معاہدے میں تین چیزیں شامل ہیں:

  • اہل زرعی کھیپوں کی ترجیحی کلیئرنس، جبکہ خطرے کی بنیاد پر کسٹمز چیکنگ برقرار رہے گی۔ یعنی سامان کی جانچ تو ہوگی، مگر اسے عام قطار میں انتظار نہیں کرنا پڑے گا۔
  • دونوں ملکوں کی کسٹمز کے درمیان معلومات کا تبادلہ، جس میں مشکوک کھیپوں کے الرٹ بھی شامل ہیں۔
  • جلد خراب ہونے والے سامان کی تیز ہینڈلنگ، تاکہ دنیا کی بلند ترین سرحدی چوکیوں میں سے ایک پر ٹرک کھڑے رہیں تو مال خراب نہ ہو۔

اشیا کی مکمل فہرست اور آغاز کی تاریخ ابھی جاری نہیں کی گئی۔

پاکستانی تاجروں کے لیے یہ کیوں اہم ہے؟

خنجراب کے راستے تجارت یک طرفہ ہے۔ پچھلے سال پاکستان کسٹمز نے اس درے سے چین سے آنے والی درآمدات پر ریکارڈ 15 ارب روپے ڈیوٹی وصول کی، جبکہ دوسری طرف چین اور وسطی ایشیا کو جانے والی برآمدات صرف 2.8 ارب روپے کی تھیں۔

یہ فرق کم کرنے کا سب سے اچھا موقع زرعی اشیا میں ہے۔ گلگت بلتستان کی چیری، خوبانی اور خشک میوے، اور میدانی علاقوں کے آم اور کینو، سب کی قیمت سڑک پر گزرنے والے ہر دن کے ساتھ گرتی ہے۔ سرحد پر چند دن کی تاخیر یہ طے کر دیتی ہے کہ مال پوری قیمت پر بکے گا یا بالکل نہیں۔ تیز اور یقینی کلیئرنس کا سب سے زیادہ فائدہ چھوٹے برآمد کنندگان کو ہوگا، کیونکہ وہ یہ نقصان برداشت نہیں کر سکتے۔

دستخط کی تقریب میں پاکستانی ٹیم میں ڈیپارٹمنٹ آف پلانٹ پروٹیکشن، نیشنل ایگری فوڈ سیفٹی اتھارٹی، پاکستان سنگل ونڈو اور وزارت تجارت کے نمائندے بھی شامل تھے۔ یہ اہم ہے، کیونکہ زرعی سامان اکثر کسٹمز ڈیسک پر نہیں بلکہ پودوں کی صحت کے سرٹیفکیٹ اور فوڈ سیفٹی کے کاغذات میں پھنستا ہے۔

برف کی ڈیڈلائن

وقت کا مسئلہ ہے۔ 1985 کے سرحدی پروٹوکول کے تحت تقریباً 15,500 فٹ کی بلندی پر واقع درہ خنجراب صرف اپریل سے نومبر تک تجارت اور سفر کے لیے کھلتا ہے، کیونکہ سردیوں میں برف راستہ بند کر دیتی ہے۔ سیزن چند ہفتوں میں بند ہونے والا ہے، اس لیے تاجروں کو اصل فائدہ غالباً اپریل 2027 میں درہ دوبارہ کھلنے پر ہی ملے گا۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ اشیا کی فہرست میں کیا شامل ہوتا ہے۔ اگر اس میں چیری اور آم جیسے پاکستان کے اہم برآمدی پھل شامل ہوئے، تو اگلے سیزن میں یہ چینل واقعی فرق ڈال سکتا ہے۔

مزید پڑھیں