عمرہ ویکسینیشن پاکستان میں روک دی گئی: زائرین اور بیرونِ ملک ملازمت کے خواہشمند اب کیا کریں؟

وزارتِ صحت نے بارڈر ہیلتھ سروسز کے تحت گردن توڑ بخار اور فلو کی ویکسینیشن روک دی ہے۔ زائرین کو فی الحال ٹریول ایجنٹ کے ذریعے ویکسین لگوانے کا کہا گیا ہے۔

Pilgrims in white ihram around the Kaaba at the Grand Mosque in Makkah at night
تصویر: The Express Tribune

وفاقی وزارتِ صحت نے زائرین اور بیرونِ ملک ملازمت کے لیے جانے والوں کی گردن توڑ بخار (میننجائٹس) اور انفلوئنزا ویکسینیشن کا عمل روک دیا ہے، اور ویکسین کا وہ ٹینڈر منسوخ کر دیا ہے جسے وزارت ناقص قرار دیتی ہے۔ نیا ٹینڈر، جو وزارت کے مطابق ایک ماہ کے اندر آئے گا، آنے تک زائرین کو اپنی لازمی ویکسین ٹریول ایجنٹ کے ذریعے لگوانے کا کہا گیا ہے۔

وزارت نے بارڈر ہیلتھ سروسز کا یہ انتظام بھی ختم کر دیا ہے، اور منسوخ شدہ ٹینڈر جاری کرنے والے افسران کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

ویکسینیشن کیوں روکی گئی؟

وزارت کے مطابق وزیرِ اعظم شہباز شریف کی ہدایت پر ہونے والی اعلیٰ سطحی انکوائری میں ویکسین کے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ معاہدے میں “سنگین خامیاں اور مالی بے ضابطگیاں” سامنے آئیں۔ اس معاہدے کے تحت ایک نجی کمپنی ویکسین خریدتی اور فیس نادرا کے اکاؤنٹ میں جمع ہو کر بارڈر ہیلتھ سروسز اور کمپنی میں تقسیم ہوتی۔

اصل اعتراض قیمت پر تھا۔ الزامات کے مطابق نئے معاہدے میں فی زائر تقریباً 4,500 روپے وصول کیے جاتے، جبکہ پہلے فی خوراک قریباً 1,250 روپے لگتے تھے۔ سات کمپنیوں نے اس بولی کے عمل کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کر رکھا ہے۔

وزارت نے 9 مئی کو اپنی چھ رکنی پروکیورمنٹ کمیٹی بنائی تھی، مگر 10 جون کو بارڈر ہیلتھ سروسز نے اپنی الگ کمیٹی بنا کر خود ہی ٹینڈر جاری کر دیا۔ وزارت کا کہنا ہے کہ اس ٹینڈر کی کبھی منظوری نہیں دی گئی تھی۔

وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال نے کہا کہ وزارت کو اندھیرے میں رکھنے والوں کے خلاف کارروائی ہوگی، اور وہ اپنی کردار کشی کی کوئی کوشش برداشت نہیں کریں گے۔

زائرین اور ملازمت کے خواہشمند اب کیا کریں؟

  • ٹریول ایجنٹ یا عمرہ آپریٹر کے ذریعے ویکسین لگوائیں، جیسا کہ وزارت نے کہا ہے، جب تک سرکاری کاؤنٹر دوبارہ نہیں کھلتے۔
  • سرٹیفکیٹ سنبھال کر رکھیں۔ روانگی سے پہلے میننجائٹس اور پولیو ویکسین کا ریکارڈ لازمی ہے، اور سندھ حکومت نے کراچی سے جانے والے زائرین کے لیے فلو ویکسین بھی لازمی کر رکھی ہے۔ موجودہ شرائط کی آخری تاریخ 20 نومبر تک بڑھا دی گئی تھی۔
  • صرف مستند ہسپتال یا کلینک سے ویکسین لگوائیں۔ حکام کے مطابق ماضی میں بے ترتیب خریداری کی وجہ سے جعلی ویکسینیشن سرٹیفکیٹ بنے، جن سے مسافروں کو ایئرپورٹ پر مشکلات ہوئیں۔
  • اگر آپ نادرا کی پاک آئی ڈی ایپ سے فیس جمع کرا چکے ہیں تو اپنے ایجنٹ یا ایئرپورٹ ہیلتھ ڈیسک سے محفوظ خوراکوں کے بارے میں پوچھیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق ایسے مسافروں کے لیے تقریباً 4,000 خوراکیں رکھی گئی تھیں۔

ایئرپورٹ پر کیا بدلا؟

کراچی سے میڈیا رپورٹس کے مطابق جناح ٹرمینل پر بارڈر ہیلتھ سروسز کا ہنگامی ویکسینیشن کاؤنٹر ہٹا دیا گیا ہے، ڈسپنسری کے زیادہ تر عملے کو فارغ کر دیا گیا اور دیہاڑی دار ملازمین کو اگلے حکم تک نہ آنے کا کہا گیا ہے۔ وزارت نے سروس دوبارہ شروع ہونے کی کوئی تاریخ نہیں دی۔

یہ کیوں اہم ہے؟

ہر ہفتے ہزاروں پاکستانی عمرے کے لیے اور اس سے کہیں زیادہ خلیجی ممالک میں ملازمت کے لیے جاتے ہیں، جہاں ویکسینیشن ریکارڈ کاغذات کا حصہ ہے۔ سرکاری سروس رکنے کا مطلب عموماً نجی جگہوں پر زیادہ قیمت اور جعلی سرٹیفکیٹس کا خطرہ ہوتا ہے۔ اب نظریں نئے ٹینڈر پر ہیں، اور اس پر کہ کیا فی خوراک قیمت دوبارہ 1,250 روپے کے قریب آتی ہے۔

مزید پڑھیں