تھرپارکر ایمبولینس دھماکہ: نگرپارکر میں آکسیجن سلنڈر پھٹنے سے کم از کم 9 جاں بحق
پی پی ایچ آئی کی ایمبولینس میں سلنڈر پھٹنے سے طبی عملے سمیت کئی افراد جاں بحق ہوئے۔ کیا ہوا، کون جاں بحق ہوا اور کس انکوائری کا حکم دیا گیا۔

تھرپارکر کے علاقے نگرپارکر میں بدھ کی رات، 28 اکتوبر کو ایک سرکاری مرکزِ صحت پر کھڑی ایمبولینس میں آکسیجن سلنڈر پھٹنے سے کم از کم نو افراد جاں بحق ہو گئے۔ ڈپٹی کمشنر مٹھی حمید جاگیرانی نے جمعرات کو نو اموات کی تصدیق کی، جبکہ بعض میڈیا رپورٹس کے مطابق رات بھر میں مزید زخمیوں کے دم توڑنے سے تعداد 10 ہو گئی ہے۔
پیپلز پرائمری ہیلتھ کیئر انیشی ایٹو (پی پی ایچ آئی) کی یہ ایمبولینس ڈانو دھاندھل کے بنیادی مرکزِ صحت پر کھڑی تھی اور ایک مریضہ کو اسپتال لے جانے کی تیاری ہو رہی تھی۔
تھرپارکر کی ایمبولینس میں کیا ہوا؟
ڈپٹی کمشنر کے مطابق مریضہ نے مرکزِ صحت پر بیٹے کو جنم دیا تھا اور آپریشن کے بعد پیچیدگیاں پیدا ہو گئی تھیں۔ عملہ انہیں ضلعی ہیڈکوارٹر اسپتال مٹھی منتقل کر رہا تھا، اور ایمبولینس کے اندر ان کے لیے آکسیجن سلنڈر لگاتے ہوئے دھماکہ ہوا، جس کے بعد گاڑی میں آگ لگ گئی۔
اسسٹنٹ کمشنر نگرپارکر ارم کریم نریجو نے بتایا کہ دھماکے کے وقت ایمبولینس سڑک پر نہیں بلکہ مرکز پر کھڑی تھی۔ سات افراد موقع پر یا اسی رات جاں بحق ہوئے اور پانچ جھلس گئے۔
جاں بحق ہونے والے کون تھے؟
پی پی ایچ آئی کے ڈسٹرکٹ منیجر ابراہیم کمبھر کے مطابق جاں بحق افراد میں مرکزِ صحت کا عملہ بھی شامل ہے۔ پولیس کے مطابق ایمبولینس ڈرائیور، چوکیدار، ڈسپنسر اور ایک اٹینڈنٹ کے ساتھ رشتہ دار اور دو خواتین بھی جاں بحق ہوئیں۔ حکام نے ابھی حتمی تصدیق شدہ فہرست جاری نہیں کی، اور ابتدائی اطلاعات میں یہ واضح نہیں کہ نئی ماں اور نومولود محفوظ رہے یا نہیں، اس لیے تصدیق تک ہم یہ نہیں لکھ رہے۔
پولیس کے مطابق زخمیوں میں دو مڈوائفز اور ایک خاتون اٹینڈنٹ شامل ہیں۔ ایس ایس پی تھرپارکر کے مطابق انہیں پہلے سول اسپتال مٹھی اور پھر جھلسنے کے علاج کے لیے کراچی منتقل کیا گیا۔
حکومت نے کیا احکامات دیے؟
- صدر آصف علی زرداری نے فوری اور شفاف تحقیقات اور سرکاری ایمبولینسوں و طبی مراکز میں حفاظتی انتظامات کا جائزہ لینے کا حکم دیا۔
- وزیرِ اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے ہر متاثرہ خاندان کے لیے 20 لاکھ روپے کا اعلان کیا، زخمیوں کو بہترین علاج کی ہدایت کی اور ایم پی اے قاسم سومرو کو امدادی کام کی نگرانی کے لیے نگرپارکر بھیجا۔
- پی پی پی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ اگر غفلت یا جرم ثابت ہو تو ذمہ داروں کو سخت ترین سزا ملنی چاہیے۔
- وزیرِ داخلہ ضیاء الحسن لنجار نے ایس ایس پی اور ڈپٹی کمشنر سے رپورٹ طلب کی۔ صوبائی حکومت کے ترجمان کے مطابق سلنڈر اور گاڑی کے معائنے کے لیے میرپورخاص اور کراچی سے ماہرین کی ٹیمیں بلائی گئی ہیں۔
تھر کے لیے یہ کیوں اہم ہے
نگرپارکر کے بہت سے خاندانوں کے لیے پی پی ایچ آئی کا مرکز اور اس کی ایمبولینس ہی بڑے اسپتال تک پہنچنے کا واحد ذریعہ ہیں، اور اس واقعے میں اس کا مطلب مٹھی تک لمبا سفر تھا۔ آکسیجن سلنڈر ان ایمبولینسوں کا معمول کا سامان ہیں، جنہیں باقاعدہ چیک کرنا، سیدھا رکھنا اور درست ریگولیٹر کے ساتھ لگانا ضروری ہوتا ہے۔ اب انکوائری کو بنیادی سوال کا جواب دینا ہے: کیا سلنڈر خراب تھا، ری فلنگ میں مسئلہ تھا یا اسے غلط طریقے سے لگایا گیا، اور ضلع کی کتنی اور ایمبولینسیں اسی خطرے کے ساتھ چل رہی ہیں۔
ماہرین کی ابتدائی رپورٹ آئندہ چند دنوں میں متوقع ہے۔



