ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو سیکیورٹی بیریئر کیس میں 10، 10 سال قید
انسدادِ دہشت گردی عدالت نے جمعرات کو وکیل جوڑے کو 2024 کے بیریئر کیس میں سزا سنا دی۔ الزام کیا تھا، عدالت میں انہوں نے کیا کہا اور اب آگے کیا ہوگا۔

انسانی حقوق کی وکیل ایمان مزاری اور ان کے شوہر ہادی علی چٹھہ کو جمعرات، 29 اکتوبر کو انسدادِ دہشت گردی عدالت نے 10، 10 سال قید کی سزا سنا دی۔ جج طاہر عباس سپرا نے یہ فیصلہ راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں سنایا، جہاں مقدمے کی سماعت ہو رہی تھی۔ فیصلہ دو دن پہلے محفوظ کیا گیا تھا۔
دونوں تمام الزامات سے انکار کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ انہیں ان کے قانونی کام کی سزا دی جا رہی ہے۔
ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ پر الزام کیا تھا؟
مقدمہ اکتوبر 2024 کا ہے، جب ایک غیر ملکی کرکٹ ٹیم راولپنڈی میں پاکستان اور انگلینڈ کے ٹیسٹ میچ کے لیے پاکستان میں تھی۔ استغاثہ کے مطابق دونوں نے اسلام آباد کے زیرو پوائنٹ کے قریب ٹیم کے راستے پر لگے سیکیورٹی بیریئر ہٹائے اور ڈیوٹی پر موجود پولیس اہلکاروں پر حملہ کیا۔
عدالتی حکم کے مطابق 10 سال قید اور ایک، ایک لاکھ روپے جرمانہ انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کے تحت ہے۔ دفعہ 353 (سرکاری ملازم پر حملہ) کے تحت دو سال قید اور 50 ہزار روپے جرمانہ، اور دفعہ 186 (سرکاری کام میں رکاوٹ) کے تحت ایک سال قید اور مزید 50 ہزار روپے جرمانہ بھی سنایا گیا۔ تمام سزائیں ایک ساتھ چلیں گی، یعنی کل قید 10 سال ہے، اور عدالت نے دفعہ 382 کا فائدہ دیا، جس کے تحت حراست میں گزرا وقت سزا میں شمار ہوگا۔
استغاثہ نے سات گواہ پیش کیے، جن پر عدالت کے مقرر کردہ سرکاری وکیل عاطف محمود نے جرح کی۔
عدالت میں جوڑے نے کیا کہا؟
27 اکتوبر کو اپنے آخری بیانات میں دونوں نے مقدمہ مسترد کیا۔ ہادی چٹھہ نے خود کو “ضمیر کا قیدی” کہا اور بتایا کہ وہ صرف اپنی اہلیہ کو بچانے کے لیے آگے بڑھے تھے۔ ایمان مزاری نے کہا کہ ان پر مقدمہ ایک پنجرے میں بند رکھ کر چلایا گیا، جس سے وہ اپنے وکیلوں سے ٹھیک سے بات بھی نہیں کر سکے، اور کہا: “ہمیں مثال بنایا جا رہا ہے۔”
ان کا کہنا تھا کہ پولیس نے خود عدالت میں مانا کہ کرکٹ ٹیم دوسرے راستے سے اسٹیڈیم پہنچ چکی تھی، اور اس دن انہیں لوہے کی راڈ لگی تھی، جس کی میڈیکل رپورٹ انہوں نے جمع کرائی۔
ان کے وکیل ایمل خان مندوخیل نے جج سے درخواست کی تھی کہ فیصلہ روکا جائے، کیونکہ مقدمے کے خلاف ان کی درخواستیں سپریم کورٹ اور اسلام آباد ہائی کورٹ میں زیرِ سماعت ہیں اور کیس دوسری عدالت منتقل کرنے کی درخواست بھی موجود ہے۔ جج نے فیصلہ سنا دیا۔
معاملہ یہاں تک کیسے پہنچا؟
اس سال یہ جوڑے کو ملنے والی دوسری لمبی سزا ہے:
- 23 جنوری: اسلام آباد ہائی کورٹ کے باہر احتجاج کے کیس میں گرفتاری۔
- 24 جنوری: سیشن کورٹ نے ایکس پر پوسٹس کے کیس میں پیکا قانون کے تحت مجموعی طور پر 17 سال قید سنائی۔ وکلا اور اقوامِ متحدہ کے ماہرین نے اس فیصلے پر تنقید کی۔
- 17 ستمبر: سپریم کورٹ نے وہ سزائیں معطل کر کے ضمانت پر رہائی کا حکم دیا۔ چند گھنٹوں میں پولیس نے انہیں سیکیورٹی بیریئر کیس میں دوبارہ گرفتار کر لیا۔
- 7 اکتوبر: انسدادِ دہشت گردی عدالت نے فردِ جرم عائد کی، دونوں نے صحتِ جرم سے انکار کیا۔
- 29 اکتوبر: سزا، 10 سال قید۔
اب آگے کیا ہوگا؟
اس فیصلے کے خلاف اپیل ہو سکتی ہے اور توقع ہے کہ قانونی ٹیم اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کرے گی۔ ہائی کورٹ کی جانب سے مقدمہ نہ روکنے کے خلاف 26 اکتوبر کو سپریم کورٹ میں دائر درخواست ابھی زیرِ التوا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ اس درخواست کی سماعت کب مقرر ہوتی ہے، کیونکہ اسی سے طے ہوگا کہ سزا پر جلد نظرِ ثانی ہوتی ہے یا معاملہ اپیلوں کی لمبی قطار میں چلا جاتا ہے۔



