بھارتی سپریم کورٹ: دو بچوں کی شرط والے قوانین اب غیر متعلق ہو چکے

بھارتی سپریم کورٹ نے کہا کہ دو سے زیادہ بچوں والوں کو بلدیاتی عہدے سے روکنے والے قوانین شرح پیدائش 1.9 پر آنے کے بعد بے معنی ہو گئے، معاملہ بڑے بینچ کو بھیج دیا۔

The Supreme Court of India building in New Delhi
تصویر: ETV Bharat

بھارت کی سپریم کورٹ نے بدھ 4 نومبر کو کہا ہے کہ دو سے زیادہ بچے پیدا کرنے پر سزا دینے والے قوانین “اپنی افادیت کھو چکے ہیں”، کیونکہ ملک میں شرح پیدائش اس سطح سے نیچے آ گئی ہے جو آبادی کو مستحکم رکھنے کے لیے ضروری ہے۔ عدالت نے یہ قوانین ختم نہیں کیے۔ جسٹس پی ایس نرسمہا اور جسٹس الوک آرادھے پر مشتمل بینچ نے ان کے آئینی ہونے کا سوال ایک بڑے بینچ کو بھیج دیا۔

ججوں نے لکھا: “ہماری پختہ رائے ہے کہ دو سے زیادہ بچوں پر سزا دینے والے قوانین اپنی افادیت کھو چکے ہیں۔” ان کا کہنا تھا کہ ایسے قانون کو برقرار رکھنا “شہریوں کے ایک پورے طبقے کو سیاسی نمائندگی سے محروم کر دیتا ہے”۔

گاؤں کی سربراہ جن کا تیسرا بچہ ہوا

یہ مقدمہ مہاراشٹر کے ضلع بلڈھانہ کے گاؤں کاکوڈا سے شروع ہوا۔ گاؤں کی سرپنچ منگلا بھیم راؤ انگلے کو اکتوبر 2024 میں اس شکایت پر نااہل قرار دیا گیا کہ ان کا تیسرا بچہ ہوا ہے۔ مہاراشٹر کے پنچایتی قانون کے تحت دو سے زیادہ بچوں والا شخص پنچایت کا رکن یا سرپنچ نہیں بن سکتا۔

امراوتی کے ڈویژنل کمشنر کے پاس ان کی اپیل مسترد ہوئی اور اگست 2025 میں بمبئی ہائی کورٹ نے پیدائشی سرٹیفکیٹ کی بنیاد پر نااہلی برقرار رکھی۔ اب سپریم کورٹ نے بڑے بینچ کے فیصلے تک ان کے خلاف کارروائی روک دی ہے۔

2003 کے بعد کیا بدلا؟

بھارتی سپریم کورٹ نے 2003 میں “جاوید بنام ریاست ہریانہ” مقدمے میں یہ قوانین درست قرار دیے تھے، جب آبادی بڑھنے کا خوف تھا۔ اس وقت بھارت میں ایک عورت کے اوسطاً تقریباً 3 بچے تھے۔ اب یہ شرح تقریباً 1.9 ہے، جو آبادی برقرار رکھنے کی سطح 2.1 سے کم ہے۔

بینچ نے کہا کہ ان قوانین کی بنیاد، یعنی زیادہ آبادی کا خوف، ختم ہو چکی ہے۔ عدالت نے خبردار کیا کہ شرح پیدائش اس سطح سے نیچے رہی تو وقت کے ساتھ ملک بوڑھا ہو گا اور کام کرنے کی عمر کے لوگوں کا حصہ کم ہو جائے گا، اگرچہ بھارت کی آبادی ابھی کم نہیں ہو رہی۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ ایسے قوانین بچے پیدا کرنے کے فیصلے کے حق سے ٹکراتے ہیں، جسے بھارتی عدالتیں آئین کے آرٹیکل 21 کے تحت زندگی اور شخصی آزادی کے حق کا حصہ مانتی ہیں۔

عدالت نے وکلا سے کہا کہ معلوم کریں کون سی ریاستوں میں اب بھی ایسے قوانین ہیں، اور ایڈووکیٹ رکمنی بوبڈے کو عدالتی معاون مقرر کیا۔

یہ خبر پاکستان میں کیوں پڑھی جا رہی ہے؟

پاکستان کی صورت حال الٹ ہے۔ یہاں شرح پیدائش اب بھی بھارت سے کہیں زیادہ ہے، پچھلے قومی ڈیموگرافک اینڈ ہیلتھ سروے کے مطابق فی عورت تقریباً 3.6 بچے، اور آبادی میں اضافہ پانی، روزگار اور اسکولوں کی کمی کی بڑی وجوہات میں سے ہے۔ بھارتی عدالت کہہ رہی ہے کہ بیس سال پہلے والی بحث بھارت کے لیے ختم ہو گئی، جبکہ پاکستان میں یہ بحث ابھی جاری ہے۔

بڑا بینچ ابھی تشکیل نہیں دیا گیا اور سماعت کی کوئی تاریخ مقرر نہیں ہوئی۔

مزید پڑھیں