بیرون ملک طلاق بھارت میں قابل قبول نہیں، سپریم کورٹ کا فیصلہ

بھارتی سپریم کورٹ نے کہا کہ برطانیہ میں 'رشتہ ناقابل بحالی' کی بنیاد پر لی گئی طلاق بھارت میں نہیں مانی جائے گی، دوسری شادی کرنے والے ڈاکٹر پر مقدمہ چلے گا۔

The Supreme Court of India building in New Delhi
تصویر: ETV Bharat

بھارت کی سپریم کورٹ نے منگل 3 نومبر کو فیصلہ دیا کہ بیرون ملک “شادی ناقابل بحالی حد تک ٹوٹ جانے” کی بنیاد پر دی گئی طلاق بھارت میں قانونی نہیں۔ عدالت نے اس شخص کے خلاف دوسری شادی کا مقدمہ ختم کرنے سے انکار کر دیا جس نے برطانوی عدالت سے پہلی بیوی کو طلاق لے کر انگلینڈ میں دوسری شادی کی تھی۔

یہ فیصلہ ان لاکھوں خاندانوں کے لیے اہم ہے جن کے لوگ بیرون ملک کام کرتے ہیں۔ اس سے وہ راستہ بند ہو جاتا ہے جو کچھ شوہر اپناتے رہے ہیں: اپنے ملک میں طلاق نہ ملے تو باہر جا کر جلدی طلاق لے لینا۔

مقدمہ کیا تھا؟

جوڑے کی شادی 18 اپریل 2003 کو آندھرا پردیش کے قصبے ستیناپلی میں ہندو رسم و رواج کے مطابق ہوئی۔ شوہر اس وقت حیدرآباد کے عثمانیہ میڈیکل کالج میں پڑھ رہے تھے۔ فروری 2005 میں وہ ڈاکٹری کے لیے برطانیہ چلے گئے اور بعد میں بیوی بھی ان کے پاس آ گئیں۔

اگست 2007 میں بیوی بچے کی پیدائش کے لیے میکے آئیں۔ شوہر کا کہنا ہے کہ ان کے کہنے کے باوجود وہ واپس برطانیہ نہیں آئیں۔ شوہر نے آندھرا پردیش کی ایک عدالت میں طلاق اور بچے کی تحویل کا مقدمہ کیا، جو خارج ہو گیا۔ ہائی کورٹ میں اپیل کی، پھر واپس لے لی۔

یکم فروری 2013 کو وہ برطانوی شہری بن گئے اور کیمبرج کی کاؤنٹی کورٹ سے طلاق مانگی، جو 2014 میں اس بنیاد پر مل گئی کہ شادی ناقابل بحالی حد تک ٹوٹ چکی ہے۔ پھر انہوں نے انگلینڈ کے علاقے نورفوک میں دوسری شادی کر لی۔ تقریباً دو سال بعد پہلی بیوی نے ستیناپلی پولیس کو دوسری شادی اور سازش کی شکایت درج کرائی۔

سپریم کورٹ نے کیا کہا؟

جسٹس پرشانت کمار مشرا اور جسٹس شری چندرشیکھر پر مشتمل بنچ نے اسے اپنی مرضی کی عدالت ڈھونڈنے کا کیس قرار دیا۔ اہم نکات:

  • برطانوی طلاق بھارت میں نہیں مانی جائے گی۔ ہندو میرج ایکٹ میں “رشتہ ناقابل بحالی” طلاق کی بنیاد نہیں۔ عدالت نے کہا کہ یہ فیصلہ بھارت کے موجودہ ازدواجی قانون کے خلاف دیا گیا، اس لیے غیر ملکی فیصلوں کی قانونی شرط پوری نہیں کرتا۔
  • باہر شادی کرنے سے بچت نہیں۔ پہلی شادی بھارت میں ہوئی تھی، اس لیے دوسری شادی انگلینڈ میں ہونے کے باوجود مقدمہ چلے گا۔ عدالت کے مطابق دوسری شادی کا جرم صرف اس جگہ تک محدود نہیں جہاں دوسری شادی ہوئی۔
  • شہریت بدلنے سے شادی ختم نہیں ہوتی۔ برطانوی شہریت لینے سے ایک قائم شادی کے قانونی اثرات ختم نہیں ہوئے۔

البتہ عدالت نے اس شخص کے والدین اور دوسری بیوی کے خلاف مقدمہ ختم کر دیا۔

پاکستانیوں کے لیے اس میں کیا ہے؟

یہی سوال ان پاکستانی خاندانوں میں بھی اٹھتا ہے جن کے رشتہ دار برطانیہ، امریکہ یا خلیجی ملکوں میں ہیں، جہاں عدالتیں ایسی بنیادوں پر طلاق دے دیتی ہیں جو مقامی قانون میں نہیں ہوتیں۔ پاکستان کا عائلی قانون مختلف ہے، جو مسلم پرسنل لا اور یونین کونسل کے طریقہ کار پر چلتا ہے، اس لیے یہ فیصلہ وہاں لاگو نہیں ہوتا۔ مگر یہ اصول کہ اپنے ملک میں ہونے والی شادی اپنے ملک کے قانون سے پرکھی جاتی ہے، سرحد کے دونوں طرف خاندانوں کو پیش آتا ہے۔

اب یہ مقدمہ آندھرا پردیش کی ٹرائل کورٹ میں چلے گا۔

مزید پڑھیں