چاوڑی بازار میں عمارت گر گئی: پرانی دلی میں 2 ہلاک، کئی کے دبے ہونے کا خدشہ

پرانی دلی کے چاوڑی بازار میں جمعرات کی صبح زیر تعمیر تین منزلہ عمارت گرنے سے دو افراد ہلاک ہو گئے۔ ملبے میں تلاش جاری ہے۔

Rescue workers at the site of the building collapse in Chawri Bazaar, Old Delhi
تصویر: The Sunday Guardian

بھارت کے دارالحکومت دلی کے پرانے علاقے چاوڑی بازار میں جمعرات 5 نومبر کی صبح ایک زیر تعمیر تین منزلہ عمارت گر گئی، جس سے کم از کم دو افراد ہلاک ہو گئے۔ دوپہر تک امدادی ٹیمیں ملبہ ہٹا رہی تھیں، اور حکام کے مطابق کئی لوگ ملبے تلے دبے ہو سکتے ہیں۔

یہ عمارت شیش محل کے علاقے میں گلی ستارہ میں، چاوڑی بازار میٹرو اسٹیشن کے سامنے تھی۔ دلی فائر سروسز کے مطابق انہیں مقامی وقت کے مطابق صبح 10 بج کر 15 منٹ پر کال ملی کہ عمارت گر گئی ہے اور اندر لوگ ہو سکتے ہیں۔ کچھ ابتدائی مقامی رپورٹس کے مطابق عمارت تقریباً پونے دس بجے گری۔

اب تک کیا معلوم ہے

  • ہلاکتیں: فائر حکام اور دلی پولیس کے مطابق کم از کم دو۔
  • زخمی: مقامی رپورٹس کے مطابق ایک شخص کو ملبے سے زندہ نکال کر اسپتال پہنچایا گیا۔
  • دبے ہوئے افراد: تعداد معلوم نہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ابھی واضح نہیں کہ عمارت گرتے وقت اندر کتنے لوگ تھے۔
  • وجہ: ابھی معلوم نہیں۔

ہلاکتوں کی تعداد ابتدائی ہے اور تلاش جاری رہنے کے ساتھ بدل سکتی ہے۔

پہنچنا بھی مشکل

چاوڑی بازار دلی کے سب سے پرانے اور گنجان بازاروں میں سے ہے، جو شادی کارڈ، کاغذ اور پیتل کے سامان کے لیے مشہور ہے۔ اس کی گلیاں اتنی تنگ ہیں کہ فائر بریگیڈ کی گاڑیاں قریب نہیں جا سکتیں۔ امدادی کارکنوں کو تنگ راستے سے کئی میٹر پیدل چل کر جائے حادثہ تک پہنچنا پڑا، جس سے کام سست ہوا۔

دلی فائر سروسز نے کل چھ یونٹ بھیجے، جن میں واٹر ٹینڈر اور ایک ریسپانس ٹیم شامل تھی، اور ایک اسسٹنٹ ڈویژنل افسر کو موقع پر قیادت کے لیے بھیجا گیا۔ حکام نے مزید نفری اور ایک سینئر افسر طلب کیا۔ مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق نیشنل ڈیزاسٹر ریسپانس فورس (این ڈی آر ایف) بھی تلاش میں شامل ہو گئی۔

ایک تشویشناک سلسلہ

اس خزاں دلی میں یہ پہلا واقعہ نہیں۔ مقامی رپورٹس کے مطابق چند دن پہلے ملن گارڈن کے علاقے میں عمارت گرنے سے دو افراد ہلاک ہوئے، اور دو ماہ پہلے ستیہ نکیتن میں ایسے ہی حادثے میں سات افراد کی جان گئی۔ پرانی عمارتیں، غیر قانونی اضافی منزلیں اور گنجان علاقوں میں تعمیراتی کام ایسے حادثوں کی بڑی وجہ بتائے جاتے ہیں۔

پاکستانی قارئین کے لیے یہ منظر نیا نہیں: کراچی کے علاقے لیاری کی ایسی ہی تنگ گلیوں میں بھی عمارتیں گرنے کے جان لیوا حادثے ہو چکے ہیں جہاں امدادی کام اتنا ہی مشکل تھا۔

اب امدادی ٹیموں کی حتمی گنتی کا انتظار ہے، اور یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ دلی میونسپل کارپوریشن تعمیر کی اجازت کے بارے میں کیا کہتی ہے۔

مزید پڑھیں