امریکی وسط مدتی انتخابات 2026: ڈیموکریٹس نے کانگریس جیت لی، ٹیکساس بھی ہاتھ سے نکل گیا

ڈیموکریٹس ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ دونوں جیتتے دکھائی دے رہے ہیں۔ ٹیکساس، کنساس اور اوہائیو میں الٹ پھیر، ٹرمپ نے نتائج ماننے کا کہا مگر ویٹو کا اشارہ بھی دیا۔

The US Capitol in Washington, where the new Congress will sit from January
تصویر: Architect of the Capitol / Wikimedia Commons (public domain)

منگل کو ہونے والے امریکی وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹک پارٹی کانگریس کے دونوں ایوانوں کا کنٹرول حاصل کرتی دکھائی دے رہی ہے۔ یہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دوسری مدت کا اب تک کا سب سے بڑا سیاسی دھچکا ہے۔ امریکی ٹی وی نیٹ ورکس کے اندازوں کے مطابق ڈیموکریٹس نے سینیٹ میں وہ چھ نشستیں جیت لیں جن کی انہیں ضرورت تھی، جبکہ ایوانِ نمائندگان میں پنسلوانیا، نیو جرسی، کینٹکی، ایریزونا اور نارتھ کیرولائنا کی ریپبلکن نشستیں ان کے ہاتھ آئیں۔

پاکستانی وقت کے مطابق بدھ کی صبح تک کچھ نشستوں پر گنتی جاری تھی، اس لیے حتمی تعداد بدل سکتی ہے، مگر رخ واضح ہے۔

وہ مقابلے جو سب تلاش کر رہے ہیں

ٹیکساس: ڈیموکریٹ جیمز ٹالاریکو نے ریپبلکن اٹارنی جنرل کین پیکسٹن کو سینیٹ کی نشست پر ہرا دیا۔ ٹرمپ نے آخری مہینے میں چار بار پیکسٹن کے لیے مہم چلائی تھی اور وفاقی ریکارڈ کے مطابق ایلون مسک نے ان کی حمایت میں بیس کروڑ ڈالر سے زیادہ خرچ کیے۔ گورنر کی نشست پر جینا ہینوہوسا نے گریگ ایبٹ کو ہرایا۔ 1994 کے بعد پہلی بار ٹیکساس میں کسی ڈیموکریٹ نے ریاستی سطح کا الیکشن جیتا ہے۔ ٹالاریکو نے آسٹن میں حامیوں سے کہا: “ہم نے جالوت کو ہرا دیا۔”

کنساس اور آئیووا: پادری ایڈم ہیملٹن نے ریپبلکن سینیٹر راجر مارشل کو شکست دی۔ کنساس نے 1932 کے بعد پہلی بار کسی ڈیموکریٹ کو سینیٹ بھیجا ہے۔ آئیووا نے بھی 2008 کے بعد پہلا ڈیموکریٹ سینیٹر چنا۔

اوہائیو: ڈیموکریٹ ایمی ایکٹن نے گورنر کے مقابلے میں وویک رامسوامی کو ہرا دیا۔ رامسوامی نے شکست تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ “اوہائیو میں ہمارے لیے یہ مشکل رات ہے”۔

جارجیا اور کیلیفورنیا: اٹلانٹا کی سابق میئر کیشا لانس باٹمز امریکا کی کسی بھی ریاست کی پہلی سیاہ فام خاتون گورنر منتخب ہو گئیں، اور جان اوسوف نے اپنی سینیٹ نشست برقرار رکھی۔ کیلیفورنیا میں زیویئر بیسیرا نے ٹرمپ کے حمایت یافتہ اسٹیو ہلٹن کو ہرایا۔

ریپبلکنز کو کچھ کامیابیاں بھی ملیں۔ فلوریڈا میں سینیٹر ایشلی موڈی نے نشست بچا لی اور بائرن ڈونلڈز گورنر بن گئے۔

ووٹر کیوں ناراض ہوئے

ایگزٹ پولز کے مطابق آدھے ووٹروں نے اس الیکشن کو صدر کی سرزنش کا موقع سمجھا اور 70 فیصد چاہتے تھے کہ صدر پر زیادہ روک ٹوک ہو۔ ماہرین مہنگائی، ٹیرف اور ایران جنگ کو بڑی وجہ بتاتے ہیں، جس نے امریکا میں بھی تیل مہنگا کیا، بالکل جیسے پاکستان میں۔

ٹرمپ نے کیا کہا

ٹرمپ نے نیویارک ٹائمز سے کہا کہ وہ نتائج “پوری طرح ماننے کو تیار” ہیں اور ڈیموکریٹس کے ساتھ کام کریں گے۔ چند منٹ بعد انہوں نے سوشل میڈیا پر ایک سرخ ٹوپی کی تصویر لگائی جس پر “ویٹو” لکھا تھا، یعنی ڈیموکریٹس کے بل روکنے کا اشارہ۔

پاکستان کے لیے اس کا مطلب

ڈیموکریٹک کانگریس فنڈنگ روک سکتی ہے، تحقیقات کھول سکتی ہے اور جنگ کے اختیارات پر سوال اٹھا سکتی ہے۔ اس لیے ایران تنازع، تیل کی قیمتیں اور امریکی امداد کے فیصلے اب زیادہ کڑی نظر سے گزریں گے۔ بدھ کو پاکستان اسٹاک ایکسچینج کا 100 انڈیکس کاروبار کے آغاز پر تقریباً ایک ہزار پوائنٹس اوپر کھلا، اور تاجروں نے اسے امریکی نتائج سے جوڑا۔

نئی کانگریس جنوری میں حلف اٹھائے گی۔ اگر ساتھیوں نے حمایت کی تو حکیم جیفریز ایوان کے پہلے سیاہ فام اسپیکر ہوں گے۔

مزید پڑھیں