نبیلہ سید الیکشن: 27 سالہ نبیلہ نے الینوائے سینیٹ کی نشست جیت لی
27 سالہ مسلمان ڈیموکریٹ نبیلہ سید نے ریپبلکن ڈاربی ہلز کو ہرا کر الینوائے کی ریاستی سینیٹ کی نشست جیت لی۔ وہ کون ہیں اور یہ مقابلہ اتنا مہنگا کیوں تھا؟

27 سالہ ڈیموکریٹ نبیلہ سید نے امریکی ریاست الینوائے کی سینیٹ کی نشست جیت لی ہے۔ منگل 3 نومبر کو الیکشن کی رات انہیں 26ویں ڈسٹرکٹ میں تقریباً 57 فیصد ووٹ ملے اور انہوں نے ریپبلکن رکن ڈاربی ہلز کو شکست دی۔ وہ الینوائے کی اسمبلی میں منتخب ہونے والے گنتی کے چند مسلمانوں میں سے ایک ہیں۔
بدھ کو ان کا نام پاکستان میں گوگل پر سب سے زیادہ سرچ ہونے والے ناموں میں شامل رہا۔ ایک بات واضح کر دیں: یہ الینوائے کی ریاستی سینیٹ ہے، واشنگٹن والی امریکی سینیٹ نہیں۔ امریکی سینیٹ میں پہلے مسلمان رکن کا اعزاز مشی گن کے عبدالسید کو ملا ہے، جس پر ہماری خبر یہاں ہے۔
نبیلہ سید کون ہیں؟
نبیلہ شکاگو کے قریب پیلیٹائن میں پلی بڑھیں اور 2021 میں یونیورسٹی آف کیلیفورنیا، برکلے سے گریجویشن کی۔ ان کے والدین 1980 کی دہائی میں بھارت کے شہر حیدرآباد سے امریکہ آئے تھے۔
2022 میں صرف 23 سال کی عمر میں وہ الینوائے ہاؤس کے 51ویں ڈسٹرکٹ سے جیتیں اور ریاستی اسمبلی میں منتخب ہونے والی سب سے کم عمر خاتون بن گئیں۔ 2024 میں انہوں نے یہ نشست تقریباً 55 فیصد ووٹ سے برقرار رکھی، اور اس سال سینیٹ کا رخ کیا۔
2022 کے ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا تھا کہ ان کے والدین نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ وہ الیکشن لڑیں گی، اور ان کی والدہ نے کہا تھا: “تم نہیں کرو گی تو کون کرے گا؟”
یہ مقابلہ اتنا مہنگا کیوں تھا؟
ڈاربی ہلز سابق پراسیکیوٹر ہیں اور سینیٹر ڈین میک کونچی کے استعفے کے بعد اس نشست پر تعینات کی گئی تھیں، اس لیے ڈیموکریٹس کو یہ نشست چھیننے کا موقع نظر آیا۔
اس مقابلے پر تقریباً 65 لاکھ ڈالر خرچ ہوئے، جسے الینوائے کی تاریخ کے مہنگے ترین ریاستی انتخابات میں شمار کیا جا رہا ہے۔ نبیلہ نے کم از کم 47 لاکھ ڈالر جمع کیے، جن میں 30 لاکھ سے زیادہ ڈیموکریٹک پارٹی اور سینیٹ ڈیموکریٹس کے فنڈ سے آئے۔ ہلز نے تقریباً 18 لاکھ ڈالر جمع کیے۔ نبیلہ کی مخالفت کے لیے پچھلے مہینے ایک نئی کمیٹی بھی بنی جسے ایک مقامی ڈونر نے پانچ لاکھ ڈالر دیے۔
مہم کس بات پر تھی؟
نبیلہ نے مہنگائی اور صحت کی سہولتوں کو اپنا بنیادی موضوع بنایا، جبکہ ہلز نے امن و امان، کم ٹیکس اور سرکاری اخراجات پر زور دیا۔ دونوں علاقے میں بننے والے ڈیٹا سینٹرز پر سخت نگرانی چاہتی ہیں۔
آخری ہفتوں میں مہم ذاتی رنگ اختیار کر گئی۔ ہلز نے نبیلہ کو “حد سے زیادہ انتہا پسند” کہا اور ان کی کم عمری کو مسئلہ بنایا۔ نبیلہ کا کہنا تھا کہ گھر گھر مہم کے دوران انہیں نفرت انگیز باتیں سننی پڑیں۔ ان کے الفاظ تھے: “میں اسی علاقے میں پلی بڑھی ہوں، مجھے یہ ثابت نہیں کرنا چاہیے کہ میں اسی ملک میں پیدا ہوئی۔”
نتیجے کے بعد ہلز نے اپنے خلاف خرچ ہونے والی رقم پر تنقید کی اور ڈیموکریٹس پر “گھٹیا ہتھکنڈوں” کا الزام لگایا۔
پاکستان میں ان کا نام کیوں سرچ ہو رہا ہے؟
ان انتخابات میں جنوبی ایشیائی نژاد مسلمان امیدواروں نے کئی جگہ کامیابی حاصل کی اور پاکستان میں لوگ ہر نتیجے پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ نبیلہ کی جیت ریاستی سطح کی ہے، مگر 27 سال کی عمر میں اب وہ اس ایوان میں ہوں گی جو الینوائے کے ٹیکس، صحت اور تعلیم کے قانون بناتا ہے۔
الینوائے سینیٹ کی نئی مدت جنوری سے شروع ہوگی۔



