اقوامِ متحدہ میں پاکستان: ایٹمی ہتھیاروں کا فیصلہ ہمیشہ انسان کے ہاتھ میں رہے
پاکستان نے اقوامِ متحدہ کو بتایا کہ جنگوں میں AI ٹارگٹنگ بڑے پیمانے پر استعمال ہو رہی ہے اور ایک ایٹمی ملک کے دوسرے پر خودکار ڈرون استعمال کرنے کا ذکر کیا۔

پاکستان نے اقوامِ متحدہ کو بتایا ہے کہ AI ہتھیار مستقبل کا نہیں، آج کا مسئلہ ہیں، اور “ایٹمی ہتھیار استعمال کرنے کا فیصلہ ہمیشہ انسانوں کے ہاتھ میں رہنا چاہیے۔” سرکاری خبر ایجنسی اے پی پی اور دی نیشن کے مطابق جنیوا میں اقوامِ متحدہ کے لیے پاکستانی مشن کے کونسلر ہشام احمد نے جنرل اسمبلی کی فرسٹ کمیٹی میں، جو تخفیفِ اسلحہ اور سلامتی کے امور دیکھتی ہے، یہ مؤقف پیش کیا۔
پاکستان نے کیا کہا
ہشام احمد نے خبردار کیا کہ “مؤثر انسانی فیصلے اور کنٹرول کے بغیر” کام کرنے والے AI نظام غلط اندازے اور کشیدگی بڑھنے کا خطرہ بڑھاتے ہیں، طاقت کے استعمال کی حد کم کرتے ہیں اور بین الاقوامی انسانی قانون کی پاسداری کمزور کرتے ہیں۔ ان کے مطابق AI سے چلنے والے ٹارگٹنگ اور فیصلہ سازی کے ٹولز “دنیا کے جاری تنازعات میں پہلے ہی بڑے پیمانے پر استعمال ہو رہے ہیں۔”
سب سے سخت بات جنوبی ایشیا کے بارے میں تھی، اگرچہ انہوں نے کسی ملک کا نام نہیں لیا۔ ان کے مطابق یہ خطرات “ان خطوں میں شدید ہیں جہاں روایتی اور ایٹمی صلاحیتیں آپس میں جڑی ہوئی ہیں”، اور انہوں نے ایک ایسی مثال دی “جہاں ایک ایٹمی ملک نے دوسرے کے خلاف خودکار لوئٹرنگ ڈرونز اور دوہری صلاحیت والے میزائل استعمال کیے۔”
ان کا مطالبہ یہ تھا کہ قواعد کون بنائے۔ انہوں نے کہا: “فوجی AI کی نگرانی کا نظام اقوامِ متحدہ میں ہونا چاہیے”، اور اقوامِ متحدہ سے باہر کے اقدامات اس کی قانونی حیثیت، شمولیت اور عالمگیریت کی جگہ نہیں لے سکتے۔
سطروں کے بیچ
پاکستان یہ دلیل پہلے بھی زیادہ واضح انداز میں دے چکا ہے۔ عرب نیوز کے مطابق ستمبر 2025 میں وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے سلامتی کونسل میں AI پر بحث کے دوران کہا تھا کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان حالیہ فوجی جھڑپ، جس میں خودکار ہتھیار اور تیز رفتار کروز میزائل استعمال ہوئے، اس خطرے کی مثال ہے۔ انہوں نے “بامعنی انسانی کنٹرول” کے بغیر AI کے استعمال پر پابندی کا مطالبہ کیا تھا۔ اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس 2026 تک انسانی کنٹرول کے بغیر مہلک خودکار ہتھیاروں پر پابندی کا مطالبہ کر چکے ہیں۔
اقوامِ متحدہ سے باہر کے اقدامات والی بات بھی معنی خیز ہے۔ امریکہ کی قیادت میں اور مغربی گروپوں نے ذمہ دار فوجی AI پر اپنے اعلامیے جاری کیے ہیں۔ پاکستان کا مؤقف ہے کہ ٹیکنالوجی کی بڑی طاقتوں کے کلب کے بنائے قواعد، جن میں سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک شامل نہ ہوں، وزن نہیں رکھیں گے۔
ہماری رائے
پاکستان کا مؤقف ایٹمی نکتے پر سب سے مضبوط ہے۔ جس خطے میں دو ایٹمی ہمسایوں کے درمیان ڈرونز اور میزائلوں کا تبادلہ ہو چکا ہو، وہاں فیصلے کا وقت گھنٹوں سے منٹوں تک لانے والی ہر چیز خطرناک ہے، اور ایٹمی فیصلے پر انسان کا اختیار ماننا سب سے آسان بات ہونی چاہیے۔ مگر یہ ابھی کسی معاہدے میں لکھا نہیں۔
مشکل پہلو یہ ہے کہ پاکستان بھی، ہر فوج کی طرح، ڈرونز اور AI ٹولز خرید اور بنا رہا ہے۔ اقوامِ متحدہ کے قواعد کا مطالبہ اس وقت زیادہ وزن رکھتا ہے جب ملک اپنے نظاموں اور ان پر لگائی گئی حدود کے بارے میں بھی شفاف ہو۔ اس خزاں میں فرسٹ کمیٹی میں خودکار ہتھیاروں پر قراردادوں کی ووٹنگ پر نظر رکھیں، اور دیکھیں کہ پاکستان، بھارت، امریکہ اور چین کہاں کھڑے ہوتے ہیں۔
ذرائع
یہ خبر اے آئی کی مدد سے تحقیق اور تحریر کی گئی، پھر شائع کرنے سے پہلے ہمارے ایڈیٹر نے اس کی جانچ اور تدوین کی۔



