یونان میں 15 سال سے کم عمر بچوں پر سوشل میڈیا کی پابندی: کیا پاکستان بھی ایسا کرے گا؟

یونان کی پارلیمنٹ نے 15 سال سے کم عمر بچوں پر سوشل میڈیا کی پابندی منظور کر لی جو یکم جنوری 2027 سے نافذ ہو گی۔ یہ کیسے کام کرے گی اور پاکستان کا بل کہاں ہے؟

A finger about to tap the Instagram app icon on a phone screen
تصویر: Reuters via Asharq Al-Awsat

یونان کی پارلیمنٹ نے جمعے کو ایک قانون منظور کیا ہے جس کے تحت 15 سال سے کم عمر بچے سوشل میڈیا استعمال نہیں کر سکیں گے۔ یوں یونان ان چند ملکوں میں شامل ہو گیا ہے جو کم عمر نوجوانوں کو انسٹاگرام اور ٹک ٹاک جیسی ایپس سے دور رکھنا چاہتے ہیں۔ الشرق الاوسط اور آج نیوز پر شائع رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق یہ پابندی یکم جنوری 2027 سے نافذ ہو گی۔

یونانی قانون کیا کرتا ہے؟

یہ قانون 15 سال سے کم عمر بچوں کو سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے استعمال سے روکتا ہے، پورے انٹرنیٹ سے نہیں۔ حکومت کا کہنا ہے کہ وہ والدین کے ساتھ کھڑی ہے، کیونکہ نہ ختم ہونے والی اسکرولنگ بچوں سے نیند، توجہ اور دوستوں کے ساتھ وقت چھین لیتی ہے۔

اصل مشکل عمر کی تصدیق ہے۔ وزیر اعظم کیریاکوس میتسوتاکس نے پلیٹ فارمز کو تقریباً ڈھائی ماہ دیے ہیں کہ وہ صارف کی عمر جانچنے کا ایسا طریقہ بنائیں جس سے اس کی پرائیویسی بھی محفوظ رہے۔ یونان ان سات یورپی ملکوں میں شامل ہے جو یورپی کمیشن کے ساتھ مل کر عمر کی تصدیق کا مشترکہ نظام بنا رہے ہیں۔ رپورٹس کے مطابق یہ ایک ڈیجیٹل ٹوکن ہو گا جو یہ تو بتائے گا کہ صارف کی عمر پوری ہے، مگر اس کی شناخت ظاہر نہیں کرے گا۔

اور کس نے ایسا کیا ہے؟

آسٹریلیا گزشتہ سال کم عمر افراد کے لیے سوشل میڈیا محدود کرنے کا قانون بنانے والا پہلا ملک تھا۔ فرانس نے بھی ایسی کوشش کی، مگر اگست میں اس کی آئینی کونسل نے وہ قانون کالعدم کر دیا۔ اب یونان پر نظر رہے گی کہ کیا یورپ میں ایسی پابندی عملی طور پر چل سکتی ہے۔

پاکستان کہاں کھڑا ہے؟

پاکستان میں بھی یہ خیال زیر بحث آیا مگر کوئی قانون نہیں بنا۔ ایکسپریس ٹریبیون اور آج نیوز کے مطابق جولائی 2025 میں سینیٹرز سرمد علی اور مسرور احسن نے “سوشل میڈیا (صارفین کے لیے عمر کی حد) بل 2025” پیش کیا، جس کے تحت 16 سال سے کم عمر افراد اکاؤنٹ نہیں بنا سکتے تھے، پلیٹ فارمز پر 50 ہزار سے 50 لاکھ روپے تک جرمانہ ہوتا اور نفاذ کی ذمہ داری پی ٹی اے کی ہوتی۔

ایکسپریس ٹریبیون کے بعد کے ایک تجزیے کے مطابق یہ بل اس اعتراض کے بعد واپس لے لیا گیا کہ عمر کی حد اور سزائیں بہت سخت ہیں، اور وعدے کے مطابق نرم ورژن کبھی سامنے نہیں آیا۔ جنوری 2026 میں کچھ سینیٹرز نے یہ معاملہ پھر اٹھایا، اس بار 18 سال سے کم عمر کی بات ہوئی، اور حکومت نے ایک کمیٹی بنانے کی تجویز دی۔ پنجاب اسمبلی میں بھی وفاقی اقدام کے لیے قرارداد پیش ہوئی، مگر انٹرنیٹ کی نگرانی وفاق کا معاملہ ہے، اس لیے یہ صرف سفارش ہے۔

یہاں کے والدین کے لیے کیوں اہم ہے؟

پاکستانی والدین کو بھی وہی فکریں ہیں جو یونانی والدین کو، اور وہی عملی مسئلہ: آن لائن بچے کی عمر جانچنے کا کوئی قابل اعتماد طریقہ نہیں۔ اگر یورپ پرائیویسی کا خیال رکھنے والا ایسا نظام بنا لیتا ہے جو کام کرے، تو یہاں کے قانون سازوں کے پاس ایک تیار نمونہ ہو گا۔ اگر پلیٹ فارمز جنوری تک اس پر عمل نہ کر سکے تو یہ بھی ایک سبق ہو گا۔

اب اگلی اہم تاریخ یکم جنوری ہے، جب یونان کی پابندی شروع ہونی ہے۔

ذرائع

  1. Asharq Al-Awsat (Reuters): Greece passes social media ban for children under 15
  2. Aaj News: Greece passes social media ban for children under 15
  3. The Express Tribune: Senate introduces bill to ban social media accounts for under-16s
  4. The Express Tribune: Can Pakistan keep under-16s off social media?

یہ خبر اے آئی کی مدد سے تحقیق اور تحریر کی گئی، پھر شائع کرنے سے پہلے ہمارے ایڈیٹر نے اس کی جانچ اور تدوین کی۔

مزید پڑھیں