حوثی حملوں کے بعد ریاض ایئرپورٹ کھل گیا: پی آئی اے پروازوں اور پاکستانیوں کے لیے کیا مطلب؟
ریاض کا کنگ خالد ایئرپورٹ اتوار سے پروازیں بحال کر رہا ہے، حالانکہ حوثیوں نے نئے حملوں کا دعویٰ کیا ہے۔ پی آئی اے کی ریاض پروازیں بدستور معطل ہیں۔

سعودی حکام کے مطابق ریاض کا کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ اتوار 25 اکتوبر سے دوبارہ پروازیں شروع کرے گا۔ ٹرمینل 1 سے اندرونِ ملک اور ٹرمینل 2 سے بین الاقوامی پروازیں چلیں گی، اور دونوں سعودی قومی ایئرلائنز چلائیں گی۔ اے این آئی کے مطابق یہ اعلان اس کے چند گھنٹے بعد آیا جب یمن کے حوثیوں نے ایئرپورٹ اور سعودی عرب بھر میں تیل کی تنصیبات پر نئے حملوں کا دعویٰ کیا۔
ریاض میں رہنے یا وہاں سفر کرنے والے بہت سے پاکستانیوں کے لیے اہم بات وہی ہے: پی آئی اے نے اس مہینے کے شروع میں اپنی ریاض پروازیں معطل کر دی تھیں اور ان کی بحالی کی کوئی تاریخ نہیں دی گئی۔
ہفتے کو کیا ہوا؟
حوثی فوجی ترجمان یحییٰ سریع نے کہا کہ گروپ نے ریاض کے کنگ خالد ایئرپورٹ، ینبع میں آرامکو کی تنصیب، رابغ ریفائنری، ایسٹ ویسٹ تیل پائپ لائن، دمام کے کنگ فہد ایئرپورٹ، نجران ایئرپورٹ اور خمیس مشیط ایئربیس کو نشانہ بنایا۔ انہوں نے ریاض ایئرپورٹ کو ایک بار پھر “فوجی ہدف” قرار دیا اور ایئرلائنز، کارکنوں اور مسافروں کو دور رہنے کا کہا۔ یہ گروپ کے اپنے دعوے ہیں؛ ان مقامات پر نقصان کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوئی۔
سعودی قیادت میں اتحاد کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے کہا کہ فضائی دفاع نے طائف اور ینبع کی طرف داغے گئے دو بیلسٹک میزائل تباہ کر دیے۔ ہفتے کو مکہ صوبے، جدہ، ینبع اور طائف میں “دشمن فضائی خطرے” کے ہنگامی الرٹ جاری ہوئے، اور بعد میں حکام نے بتایا کہ ہر جگہ خطرہ ٹل گیا ہے۔
یہاں تک بات کیسے پہنچی؟
حوثیوں اور سعودی عرب کے درمیان کئی ہفتوں سے سرحد پار کشیدگی تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ آئی اے این ایس اور شنہوا کی جانب سے بتائے گئے سعودی ہوابازی حکام کے اعداد و شمار کے مطابق اس مہینے کے شروع میں کنگ خالد ایئرپورٹ پر حملے میں 12 افراد جاں بحق اور 309 زخمی ہوئے تھے، جس کے بعد ایئرپورٹ بند کر دیا گیا۔
آئی اے این ایس کے مطابق 11 اکتوبر کو یحییٰ سریع نے خبردار کیا تھا کہ سعودی عرب کے تمام ایئرپورٹس اور فضائی حدود “نشانے پر” ہیں، صرف مکہ اور مدینہ کے ایئرپورٹس مستثنیٰ ہیں۔ اقوامِ متحدہ کے ایلچی ہانس گرنڈبرگ نے شہری مقامات پر حملوں کو “سنگین اشتعال انگیزی” قرار دیا۔
پاکستانی مسافروں کے لیے اس کا مطلب
- پی آئی اے کی ریاض پروازیں: 9 اکتوبر سے معطل ہیں۔ جیو نیوز کے مطابق اس وقت پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی نے کہا تھا کہ سعودی عرب کے باقی شہروں کے لیے پروازیں “معمول کے مطابق جاری ہیں”۔ پی آئی اے نے ریاض واپسی کا اعلان نہیں کیا۔
- سعودی ایئرلائنز: ریاض کے کھلنے والے ٹرمینل سعودی قومی ایئرلائنز کے لیے ہیں، اس لیے اگر آپ کی بکنگ کسی سعودی ایئرلائن پر ہے تو براہِ راست اس سے تصدیق کریں۔
- عمرہ: حوثیوں کی وارننگ میں اب تک مکہ اور مدینہ کے ایئرپورٹس شامل نہیں، مگر ہفتے کا الرٹ مکہ صوبے میں بھی جاری ہوا۔ جدہ یا مدینہ جانے والے زائرین گھر سے نکلنے سے پہلے اپنی ایئرلائن اور ٹور آپریٹر سے پرواز کی تصدیق کریں۔
- سعودی عرب میں مقیم پاکستانی: سعودی سول ڈیفنس شہریوں سے کہتا ہے کہ الرٹ کی ہدایات پر عمل کریں، الرٹ کے دوران ہجوم اور ویڈیو بنانے سے گریز کریں، اور ہنگامی صورت میں 911 پر کال کریں۔
ہماری رائے
سعودی عرب میں بیرونِ ملک سب سے بڑی پاکستانی برادریوں میں سے ایک رہتی ہے اور یہ ترسیلاتِ زر کے بڑے ذرائع میں شامل ہے، اس لیے کسی سعودی ایئرپورٹ کی بندش کا اثر پاکستانی گھروں تک پہنچتا ہے، عمرے کے مؤخر سفر سے لے کر دونوں طرف پھنسے کارکنوں تک۔ ریاض کو صرف سعودی ایئرلائنز کے لیے کھولنا معمول کی واپسی سے زیادہ ایک محتاط آزمائش لگتا ہے، خاص طور پر جب حوثی اب بھی اس ایئرپورٹ کو ہدف قرار دے رہے ہیں۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا پی آئی اے سمیت غیر ملکی ایئرلائنز بھی سعودی ایئرلائنز کے پیچھے ریاض واپس آتی ہیں، اور کیا حوثی مقدس شہروں کو مستثنیٰ رکھنے کا وعدہ برقرار رکھتے ہیں۔
ذرائع
- The Tribune (ANI): Houthis targeted airports, refineries across Saudi Arabia; Yahya Saree warns airlines against resuming operations
- The Hans India (IANS): Yemen's Houthis renew warning over Saudi airports, airspace amid cross-border escalation
- Geo News: PIA temporarily suspends Riyadh flights, confirms PAA
- ProPakistani: PIA temporarily suspends flights to Riyadh
یہ خبر اے آئی کی مدد سے تحقیق اور تحریر کی گئی، پھر شائع کرنے سے پہلے ہمارے ایڈیٹر نے اس کی جانچ اور تدوین کی۔



