مدینہ کی طرف داغا گیا میزائل تباہ، ترکیہ نے مکہ دفاعی معاہدہ منظور کر لیا

سعودی فضائی دفاع نے جمعرات کو مدینہ ریجن کی طرف داغا گیا حوثی میزائل تباہ کر دیا، اور چند گھنٹے بعد ترک پارلیمان نے پاکستان اور سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدہ منظور کر لیا۔

Lawmakers in the Turkish Grand National Assembly in Ankara during a session
تصویر: Daily Sabah

سعودی قیادت والے اتحاد کے مطابق جمعرات 5 نومبر کو سعودی فضائی دفاع نے مدینہ ریجن کی طرف داغا گیا ایک بیلسٹک میزائل مار گرایا۔ چند ہی گھنٹوں بعد ترکیہ کی پارلیمان نے وہ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ منظور کر لیا جو اس نے اگست میں پاکستان اور سعودی عرب کے ساتھ کیا تھا، جس کے تحت ایک ملک پر حملہ تینوں پر حملہ سمجھا جائے گا۔ یہ سعودی عرب پر حوثی حملوں کا تازہ موڑ ہے جن کی ہم نے پچھلے مہینے خبر دی تھی۔

مدینہ میں کیا ہوا؟

اتحاد کے ترجمان ترکی المالکی نے ایکس پر لکھا کہ فضائی دفاع نے “دہشت گرد حوثی ملیشیا کی طرف سے مدینہ ریجن کی جانب داغا گیا بیلسٹک میزائل روک کر تباہ کر دیا”۔ کسی جانی یا مالی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔

اس سے چند منٹ پہلے سعودی سول ڈیفنس نے اپنے نیشنل ارلی وارننگ پلیٹ فارم کے ذریعے ینبع کے لیے الرٹ جاری کیا تھا۔ ینبع مدینہ صوبے میں بحیرہ احمر کی بندرگاہ ہے جہاں تیل کی بڑی تنصیبات ہیں۔ یہ واضح نہیں کہ الرٹ اور میزائل کا آپس میں تعلق تھا یا نہیں۔ اتحاد نے بعد میں بتایا کہ مشرقی صوبے کے اوپر ایک ڈرون بھی مار گرایا گیا۔

حوثیوں نے مقدس شہر کو نشانہ بنانے کی تردید کی اور اس الزام کو “کھلا اور سنگین جھوٹ” کہا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کی کارروائیاں “صرف” سعودی تیل تنصیبات اور فوجی اڈوں کو نشانہ بناتی ہیں۔ اکتوبر میں مکہ اور مدینہ ریجن میں میزائل اور ملبہ گرنے کے بعد بھی انہوں نے یہی تردید کی تھی۔

ترک پارلیمان نے مکہ معاہدہ منظور کر لیا

ترک پارلیمان نے جمعرات سے جمعہ کی صبح تک چلنے والے اجلاس میں معاہدہ 119 کے مقابلے میں 279 ووٹوں سے منظور کیا۔ صدر اردوان کی آق پارٹی، اس کی اتحادی ایم ایچ پی اور مرکزی اپوزیشن جماعت سی ایچ پی تینوں نے اس کی حمایت کی۔

یہ معاہدہ 7 اگست کو مکہ میں سعودی ولی عہد محمد بن سلمان، صدر رجب طیب اردوان اور وزیر اعظم شہباز شریف نے دستخط کیا تھا۔ اس کے تحت تینوں ملک:

  • ایک پر حملے کو سب پر حملہ سمجھیں گے؛
  • مل کر تربیت اور مشقیں کریں گے، دفاعی ٹیکنالوجی اور محفوظ ذرائع سے انٹیلی جنس شیئر کریں گے؛
  • امن، جنگ اور ہنگامی حالات میں ایک دوسرے کو اسلحہ، گولہ بارود، ایندھن اور لاجسٹک مدد دیں گے؛
  • وزرائے خارجہ و دفاع اور فوجی سربراہوں کی ایک مشترکہ کمیٹی بنائیں گے جو سال میں تقریباً دو بار ملے گی، اور اس کا مستقل سیکرٹریٹ سعودی عرب میں ہوگا۔

پہلا سیکرٹری جنرل پاکستان سے ہوگا، اس کے بعد یہ عہدہ باری باری دوسرے ملکوں کو ملے گا۔ تینوں ارکان کی رضامندی سے دوسرے ملک بھی شامل ہو سکتے ہیں۔ معاہدے کی کوئی آخری تاریخ نہیں، اور کوئی رکن 10 سال بعد تین ماہ کے نوٹس سے ہی الگ ہو سکتا ہے۔ یہ تب پوری طرح نافذ ہوگا جب تینوں ملک اس کی باقاعدہ توثیق کر دیں گے۔

ترک پارلیمان کی خارجہ امور کمیٹی کے سربراہ فواد اوکتائی نے کہا کہ یہ اتحاد “مکمل طور پر دفاع کے لیے ہے، دوسرے ملکوں پر حملے کے لیے نہیں”، اور ترکیہ اپنی مرضی کے خلاف کسی بے قابو تنازع میں نہیں گھسیٹا جائے گا۔ اس معاہدے کے تحت ترک فوج کو باہر بھیجنے کے لیے پارلیمان کا الگ ووٹ ضروری ہوگا۔

پاکستان کے لیے اہمیت

اس ووٹ کے بعد ترکیہ بھی پاکستان کی طرح باقاعدہ طور پر سعودی عرب کے دفاع کا پابند ہو گیا ہے، ایسے وقت میں جب سعودی عرب پر بار بار حوثی حملے ہو رہے ہیں۔ عمرے پر جانے والے پاکستانی اپنی ایئرلائن اور سعودی حکام سے رابطے میں رہیں، کیونکہ مغربی علاقے میں الرٹس بڑھ گئے ہیں۔ یہ سطور لکھے جانے تک زائرین کے لیے کوئی نئی سفری ہدایت جاری نہیں ہوئی تھی۔

مزید پڑھیں