مکہ اور مدینہ کے قریب حوثی حملے: پاکستان کی مذمت، فیلڈ مارشل عاصم منیر تہران میں
مکہ اور مدینہ کے علاقوں میں میزائلوں کا ملبہ گرا۔ پاکستان نے اسے سنگین خلاف ورزی کہا جبکہ عاصم منیر سعودی اور ترک حکام کے ساتھ تہران پہنچے۔

پاکستان نے پیر 26 اکتوبر کو سعودی عرب کے مکہ اور مدینہ کے علاقوں تک پہنچنے والے حوثی میزائل حملوں کی مذمت کرتے ہوئے انہیں سعودی خودمختاری کی “سنگین خلاف ورزی” قرار دیا۔ اسی روز فیلڈ مارشل عاصم منیر سعودی اور ترک اعلیٰ حکام کے ساتھ تہران گئے۔ مکہ دفاعی اتحاد کے تینوں رکن ملکوں کا یہ پہلا مشترکہ دورہ ہے جب سے سعودی عرب علاقائی جنگ میں مزید الجھا ہے۔
مکہ اور مدینہ میں کیا ہوا؟
ہفتہ 24 اکتوبر کو یمن کے حوثیوں نے سعودی عرب کے کئی مقامات پر میزائل اور ڈرون داغے۔ ڈان کے مطابق ان کے ترجمان یحییٰ سریع نے ریاض کے کنگ خالد ایئرپورٹ، ینبع میں آرامکو کی تنصیب، رابغ ریفائنری، ایسٹ ویسٹ پائپ لائن، دمام ایئرپورٹ اور جنوب میں فوجی ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا۔
سعودی قیادت والے اتحاد کا کہنا ہے کہ اس نے ینبع اور طائف کی طرف داغے گئے دو بیلسٹک میزائل تباہ کیے۔ سعودی سول ڈیفنس کے مطابق روکے گئے میزائلوں کا ملبہ مکہ اور مدینہ کے علاقوں، بشمول مکہ کے وادی المغمس، اور جدہ، طائف اور رابغ کے کچھ حصوں میں گرا، اور ان شہروں کے لیے مختصر الرٹ جاری کیے گئے۔
حوثیوں نے بعد میں مقدس شہروں کو نشانہ بنانے کی تردید کی اور کہا کہ ان کا ہدف “سعودی تیل تنصیبات اور فوجی اڈے” تھے۔ مکہ اور مدینہ کے واقعات میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں۔ ڈان نے الگ سے رپورٹ کیا کہ دیگر سعودی مقامات پر حوثی حملوں میں مزید چار افراد جاں بحق ہوئے۔
پاکستان نے کیا کہا؟
ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق دفتر خارجہ نے حملوں کو “قابل مذمت” کہا اور کہا کہ یہ “اسلام کے مقدس ترین مقامات کے تقدس اور شہریوں کی حفاظت کی کھلی بے حرمتی” ہیں۔ پاکستان نے مکہ اتحاد سے اپنی وابستگی دہرائی، حرمین شریفین کے تحفظ کی حمایت کی اور سعودی فضائی دفاع کی تعریف کی۔ مکہ میں قائم رابطہ عالم اسلامی ایک دن پہلے ہی ان حملوں کی مذمت کر چکی تھی۔
یہ پاکستان کا پہلا ایسا بیان نہیں: 29 ستمبر کو دفتر خارجہ نے مدینہ کے طیبہ پاور اسٹیشن پر حوثی حملے کی مذمت کی تھی جو مسجد نبوی کو بجلی فراہم کرتا ہے۔
عاصم منیر تہران کیوں گئے؟
پاکستان، سعودی عرب اور ترکی نے اگست میں مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے تھے، جس کے تحت ایک ملک پر حملہ تینوں پر حملہ سمجھا جائے گا۔ اسی لیے یہ حملے صرف ریاض نہیں، اسلام آباد کے لیے بھی اہم ہیں۔
ڈان کے مطابق ایرانی سیکیورٹی عہدیدار علی باقری کنی نے بتایا کہ وفد میں سعودی وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان، ترک انٹیلیجنس چیف ابراہیم قالن اور فیلڈ مارشل عاصم منیر شامل ہیں۔ آئی ایس پی آر نے دورے کی تصدیق کی مگر تفصیل نہیں بتائی۔ سعودی نائب وزیر رائد قرملی نے کہا کہ یہ دورہ کشیدگی کم کرنے اور قطر اور پاکستان کی ثالثی کی کوششوں کی حمایت میں ہے۔ وفد کی ملاقات ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے طے ہے۔
زائرین کے لیے کیا مطلب ہے؟
یہ سطور لکھے جانے تک پاکستان یا سعودی عرب کی جانب سے عمرہ زائرین کے لیے کوئی نئی ہدایت جاری نہیں ہوئی تھی۔ ریاض ایئرپورٹ پر پہلے کے حملوں کے بعد پی آئی اے کی ریاض پروازیں پہلے ہی معطل تھیں، جیسا کہ ہم نے اتوار کو بتایا تھا؛ سفر کرنے والے روانگی سے پہلے اپنی ایئرلائن سے رابطہ کریں۔
اب نظریں تہران ملاقات کے نتیجے پر ہیں۔
ذرائع
یہ خبر اے آئی کی مدد سے تحقیق اور تحریر کی گئی، پھر شائع کرنے سے پہلے ہمارے ایڈیٹر نے اس کی جانچ اور تدوین کی۔



